کیا ہم منافق تو نہیں ہیں؟ - حیا حریم

جرمني میں قیام کے دوران ایک روز لیکچر کے بعد ہم شہر دیکھنے نکل کھڑے ہوئے، اگرچہ شام کے سائے گہرے ہوچکے تھے، مارکیٹ میں سبھی دکانیں تقریبا بند ہوچکی تھیں، ہم یونہی گھوم رہے تھے کہ ایک گلی میں کیفے نما دکان کھلی نظر آئی، ہم اس میں داخل ہوگئے، کاؤنٹر پر موجود شخص نے دیکھتے ہی پاکستانی کہا اور خوشی سے اس کا چہرہ کھل اٹھا.

ان کا نام احمد تھا اور وہ کراچی کے رہنے والے تھے، بڑے تپاک سے یوں خوش آمدید کہا جیسے برسوں کے شناسا ہوں، پھر جتنی بار بھی ہم ان کے کیفے میں گئے وہ تقریبا مفت میں ہمیں ہماری مرضی کے مطابق کھانا بنا کر دیتے، پیسے لیتے ہوئے ایسے ہچکچاتے جیسے ہم نے ان کے ہوٹل میں کھانا کھا کر ان پر احسان کیا ہو، جوس یا بوتل کے تو کبھی انہوں نے پیسے لیے ہی نہیں، ہمارے گروپ میں موجود افراد لاہور کے بھی تھے، اور فیصل آباد کے بھی تھے، احمد انکل کراچی کے تھے، لیکن وہ سب پر بلا تفریق قومیت و شہریت مہمان نواز تھے.

اک شام ہم پھر ان کے ہوٹل میں تھے کہ دو آدمی ہماری طرف بڑھے، علیک سلیک ہوئی، وہ دونوں انڈین پنجاب کے تھے، انہوں نے ہم سے پنجابی میں گفتگو شروع کر دی، وہ کہہ رہے تھے کہ انھیں پاکستانی اچھے لگتے ہیں، انہیں پاکستان دیکھنے کا شوق بھی ہے. میں نے انہیں بتایا کہ مجھے انڈیا میں دیوبند دیکھنے کا شوق ہے، جو ہمارا آبائی ورثہ ہے،
ہاں وہاں اچھے لوگوں کا ایک مدرسہ بھی ہے، وہ نم آنکھوں سے بتارہے تھے۔ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن ہم سے ملتے ہوئے ان کا انداز محبت ہی محبت تھا ، وہ بہت خلوص سے ملے تھے۔

یہ کوئی معجزہ یا کرامت نہیں تھی، بلکہ کم و بیش ہم سب کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، ہم پس دیوار ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں اور اظہار الفت بھی کرتے ہیں۔
لیکن دیوار پر جب ہمارا عکس ابھرتا ہے تو ہم پنجابی اور پٹھان کی حیثیت سے باہم دست و گریباں ہوتے ہیں، اس آئینے میں ہم سب ہی علاقائیت، لسانیت اور قوم پرستی یا انڈیا اور پاکستان کے نام پر تعصب کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بہت صفائی سے ایک دوسرے کے جذبات مجروح کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا یہ شہر سوتیلا ہے ؟ - مہوش کرن

نجانے ہم منافق ہیں، یا پھر کسی غلط قیادت کے ہاتھ میں ہیں۔ جب ہم دو افراد لسانی، مسلکی، قومی اور صوبائی تعصب سے پاک ہوکر مل بیٹھ سکتے ہیں، تو دس افراد ہوتے ہی الگ قوت اور طاقت بن کر دوسروں پر کیوں چنگھاڑتے ہیں؟ کیا ہم منافق تو نہیں ہیں؟

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.