میری ذات کا جو نشاں ملے - جویریہ سعید

وہ جو جنگل کے راستے پر پھول پر جمع کیا کرتی تھی، وہ ایلس تھی. بولتی سوچتی آنکھوں والی ایلس. پھول چننا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا، خاص طور پر ایسی جھاڑیوں میں ننھے پھول ڈھونڈھنا جن میں کانٹے بہت ہوتے ہیں. مشغلے تو اس کے اور بھی بہت سے تھے، کتابیں پڑھنا، کہانیاں لکھنا، اور خواب بننا. اس کا خواب تھا کہ وہ کہکشاں کے تاروں کی دودھیا رہگزر پر قدم قدم چلتی چاند دیس پہنچ جائے اور وہاں سے دنیا کے باسیوں پر پھول نچھاور کیا کرے. سفید بادلوں پر چھلانگیں لگاتی پھرے اور جہاں جہاں خشک سالی ہو، وہاں ان بادلوں کو گدگدا کر بارش برسا دے اور خود دھنک پر پھسلتی برف پوش پہاڑوں پر پہنچ جائے.

اس کا یہی خیال تھا کہ چاند پر خوشیاں چھپی ہیں، جبھی تو سب خواب دیکھنے والے چاند سے محبت کرتے ہیں. لوگ اسے احمق سمجھتے تھے، مگر اسے اس بات سے شدید چڑ تھی. وہ سوچا کرتی کہ کاش یہ احمق کہنے والے بھی چیزوں کو اس گہرائی سے دیکھا کرتے، جیسے میں دیکھتی ہوں. اس کے اندر کے موسم بڑے شدید تھے جو اسے بے کل کیے رکھتے تھے. یہ بے کلی اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی جب ان موسموں کی شدت انسانوں کے ساتھ اس کے رابطوں اور تعلقات کو پریشان کرنے لگتی. ایسے میں وہ گھبرا گھبرا کر دوسروں کا اور زیادہ خیال رکھتی. ہر ایک سے پوچھتی پھرتی کہ آپ خفا تو نہیں؟ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ لائیے میں اپ کے لیے ان مرتبانوں میں سیب اور آلو بخاروں کے مربے بھر دوں، اور آپ کی دالیں چن کر صاف کر دوں. دیکھیں میں نے مرغیوں کو دانہ بھی ڈال دیا ہے اور مچھلیوں کو کھانا بھی دے دیا ہے. جی ہاں! میں نے بالکل خیال رکھا ہے کہ زیادہ کھانا نہ دوں، ورنہ یہ بیمار پڑ جائیں گی. اسی طرح کی باتیں کرتے وہ کھلکھلا کر ہنستی جاتی اور لوگ کہتے، ایلس کتنی ہنس مکھ ہے. اور کتنی مزیدار باتیں کیا کرتی ہے.

باتیں بنانا تو اس کو خوب آتا تھا. بسورتے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دینا، سنجیدہ اور برد بار لوگوں کو حیران کر دینا اور شرارتی لڑکیوں میں قہقہے لگانا تو اس کی خاص خوبیاں تھیں. تم جانو، کہ وہ لڑکی جسے یقین تھا کہ جس جنگل کے راستے پر وہ پھول چنا کرتی ہے، اس میں ہی کہیں پرستان کو جانے والا راستہ چھپا ہے، اس لڑکی کے دل میں محبت کا ایک جھرنا بہتا تھا. محبت جو اس دنیا کو قائم رکھنے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندگی کے لیے ہوا ، پانی اور حرارت. جلدی جلدی فضول باتیں کرنے والی وہ لڑکی بڑی فیاضی سے اب محبت تقسیم کیا کرتی تھی.

پھر ایک روز یوں ہوا کہ اس کی دوست سنو وہایٹ نے اس کے گلابی پھولوں والے بستر پر چلغوزے کھاتے اس سے پوچھا کہ تمہاری ممی پوچھتی ہیں کہ ناصر احمد کے پروپوزل پر تم نے اتنی عجیب طرح سے ری ایکٹ کیوں کیا؟ اچھا بھلا، پڑھا لکھا، قابل اور شریف نوجوان ہے. تمہاری تمام عجیب و غریب باتوں کے باوجود تمھیں اپنانا چاہتا ہے تو تمھیں کیا مسئلہ ہے؟
ایلس جو اس وقت آنے والے سیمینار کے لیے ایک دھواں دار تقریر لکھنے میں شدید مصروف تھی، سر اٹھا کر بس اتنا ہی بولی،
”بھئی، یہ میری زندگی کی پلاننگ میں شامل نہیں ہے.“
سنو وہایٹ نے چلغوزے ایک طرف رکھ کر پستوں کی پلیٹ سنبھالی اور بھنویں اچکا کر پوچھا،
”کہیں کسی بدر بن مغیرہ کا انتظار تو نہیں؟ قسم سے ایلس، مجھے خوب اندازہ ہے، تمھارا لیول اس سے کم کا ہو ہی نہیں سکتا. ایک انٹلیکچوئل شہسوار، جو ذہین و فطین ہونے کے ساتھ ساتھ، خوشبو، ستاروں، اور روشنی جیسے الفاظ والے اشعار بھی پڑھتا ہو، پہاڑوں اور چشموں پر سے اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا آئے اور میدان جہاد میں شمشیر زنی کے کمالات دکھاتیں آنسہ ایلس کو اٹھا کر لے جائے“.
”استغفراللہ، یہ کس قسم کا غیر شرعی آئیڈیا ہے؟“ ایلس نے سارے صفحات کو دھیان سے فائل میں لگاتے تیوریاں چڑھا کر پوچھا.
”فکر نہ کرو، غرناطہ کی پہاڑیوں کے پرے شہر پناہ کے دروازے کے ساتھ وہ سرخ پتھروں والی مسجد بھی ہوگی جہاں، سیاہ عمامہ باندھے ایک مرد درویش جنابہ کا نکاح مسنونہ اس مجاہد جری سے پڑھوا دیں گے.“
ایلس کھلکھلا کر ہنس پڑی.
”خیال بے ہودہ ضرور ہے، لیکن دلچسپ ہے. زبردست سائکو انالیسس کیا ہے آپ نے میرا. مزہ آیا. مگر یقین جانو، یہ سب میری زندگی کی پلاننگ میں کہیں نہیں ہے."
سنو وہایٹ نے پستوں کی پلیٹ تپائی پر رکھ کر گلابی پھولوں والا تکیہ گود میں دبایا اور اپنی بڑی بڑی آنکھیں ایلس پر جما کر بولی. ”دیکھو مائی ڈیر احمق دوست! زندگی کو ہر پل خوابوں کی عینک سے نہ دیکھا کرو. اور ویسے بھی ہر کہانی میں کسی نہ کسی موڑ پر ہر لڑکی کو کسی شہزادے، کسی لکڑہارے کے بیٹے یا کسی چرواہے کے ساتھ جانا ہی پڑتا ہے. اور جو ایسا نہیں کرتیں ان کو عموما ایسی چڑیلوں اور جادوگرنیوں کے کردار نبھانے پڑجاتے ہیں جو اوروں کی زندگیاں اجیرن کر دیتی ہیں.“
ایلس نے بے حد اداس ہوکر کہا، ”مگر میں ہیپلی ایور آفٹر پر یقین نہیں رکھتی، اسی لیے ڈرتی بھی ہوں.“
سنو وہایٹ نے ایک دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ تکیہ سر کے نیچے دبایا اور آنکھیں موند کر بولی، ”ہاں تو کس نے کہا ہے کہ اس کا یقین کرو؟ بلکہ بس اسی ایک بات کو ہمیشہ یاد رکھنا.“

اور ایک رات بالکنی میں موتیا کی پاگل کر دینے والی مہک کو سانسوں میں اتارتے، ایلس نے اداسی سے سوچا، کیا مجھے سنو وہایٹ کو بتا دینا چاہیے کہ میں نے کسی بدر بن مغیرہ نہیں، بلکہ اسی عام سی باتوں والے ناصر احمد کے بارے میں نہ چاہتے ہوئے بھی کتنی بار سوچا ہے. جب وہ عشق پیچاں اور بوگن ویلیا کی بیلوں کے نیچے، ابو کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا، تو میرا جی چاہ رہا تھا، کہ خواہ مخوا وہاں جا کر ٹہلا جائے اور ان کی باتیں سنی جائیں. اپنے سارے خواب، آسمان کو چھو لینے والے ساری باتیں، سب جوشیلی تقریریں اور پرستان کی ساری کہانیاں ایک طرف رکھ کر، ہتھیلی پہ چہرہ ٹکائے اس بہت نارمل سی سوچ والے شخص کی عام سی باتیں دیر تک سنی جائیں. اور وقت یہیں تھم جائے.

اپنی ان معمولی سوچوں پر شدید دکھ محسوس کرتے اسے یقین ہونے لگا کہ ہماری زندگیوں کی ڈور ہمیں زندگی عطا کرنے والے کے ہاتھ میں ہی رہتی ہے. وہ ہمیں جہاں لے کر جانے والا ہوتا ہے، ہم دھیرے دھیرے خود کو اسی طرف موڑ کر اسی راستے پر رواں دواں ہونے لگتے ہیں. تو پھر آنے والے موسموں کے لیے خود کو تیار کرنا ہی بہتر جب ان سے مفر ممکن نہیں.

اور پھر ایک روز یہ ہوا کہ ایلس کے گھر والے اسے ایک کشتی میں بٹھا کر دور اس جزیرے پر اتار آئے جہاں ایک پہاڑی پر بنے رنگ محل پر ناصر احمد کے نام کی تختی لگی تھی. ایلس ساحل پر بڑی دیر تک کھڑی اس کشتی کی طرف ہاتھ ہلاتی رہی، جو اس کے پیاروں کو سمیٹے لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی جا رہی تھی.

تم جانو، اس جزیرے کی فضائیں بہت سرد تھیں. سبز درخت بہت کم تھے اور بس مختصر سے موسم گرما میں سبز رہتے. پھر منجمد کرتی سردیوں میں ٹنڈ منڈ شاخیں، چڑیلوں کی بھدی انگلیوں کی مانند معلوم ہونے لگتیں. وہاں تقریروں والے سیمینار نہیں ہوتے تھے اور شعر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے تھے. کتابوں سے اس جزیرے کے لوگ بہت کم واقف تھے.

اصل میں وہ سب بڑے پریکٹیکل قسم کے مصروف لوگ تھے. انہوں نے بڑی محنتوں سے اپنے لیے بڑے بڑے گھر بنائے تھے اور ہر وقت ان کے بارے میں بہت فکر مند بھی رہا کرتے تھے. ان کے لڑکے پڑھے لکھے تھے، اور جلد ہی اچھے عہدوں پر فائز ہو کر پریکٹیکل قسم کی کامیاب زندگی کا آغاز کر دیتے تھے. ان کی لڑکیاں اپنے لیے قیمتی جہیز تیار کیا کرتیں اور اپنے شوہروں کے گھروں میں کامیاب زندگی گزارنے کے ممکنہ طریقوں پر ڈسکشن کیا کرتیں. ایلس کی باتوں کو سننے اور سمجھنے والا وہاں کوئی نہیں تھا. اور ان سب کے ساتھ رہتے اس کو بھی شک سا ہونے لگا کہ کہیں اس کی باتیں اور خواب واقعی احمقانہ تو نہ تھے؟ بھلا کوئی ستاروں پہ چل کر چاند دیس بھی جا سکتا ہے، جب زمیں پر ہی کرنے کو اتنے کام ہوں؟

اندر کے موسم تندوتیز ہوتے جاتے اور وہ دوسروں کا اور زیادہ خیال رکھتی جاتی. فرش کو چمکا چمکا کر دھونا، برتنوں کو پالش کروا کر چمکانا، نت نئے کھانوں کی ترکیبیں صبح شام نوٹ کر کے ہر روز ایک نیا ذائقہ دستر خوان پر متعارف کروانا، اور شام کو گھر کی باقی خواتین کے ساتھ بیٹھ کر بڑے اہم قسم کے ڈسکشنز نہایت انہماک سے سننے کی کوشش کرنا، مثلا اپنے بیش قیمت لباسوں میں، قرینے سے سیٹ بالوں کو جھٹکتے وہ شکوے کیا کرتیں کہ انھیں خود پر توجہ دینے کا ٹائم تو مل ہی نہیں پاتا، کیونکہ سارا دن وہ اپنے خوبصورت گھروں کی سجاوٹ اور نت نئی بیکنگ اور اچار اور مربعوں کی تیاری میں ہی اس قدر مصروف رہتی ہیں. پھر گفتگو کا رخ لپ اسٹک اور آئی شیڈز کے نئے برانڈز سے ہوتا اس قسم کی ماہرانہ پیش گوئیوں کی طرف مڑ جاتا کہ آنے والے دنوں میں شلواروں کے پائنچے کھلے فلیپر سٹائل کے ہو جائیں گے یا چوڑی دار پاجاموں کا ہی فیشن ان رہے گا. ان سب کاموں کے بیچ اگر کبھی تنہائی میسر آتی تو اندر سے اٹھتی دبی دبی آوازیں پوری شدت سے خفگی کا اظہار کرنے لگتیں. اور وہ روہانسو ہو کر سوچے جاتی کہ زندگی کے کس سٹیج پر کیا غلط کیا تھا کہ جس کی بنا پر اگلے مناظر میں سب گڑبڑ ہوتا گیا.

ناصر احمد بےچارے بھی شاید پریشان سے ہی تھے. وہ ان کا خیال بھی رکھتی، گھر کو بھی سنبھالتی، مگر پھر بھی وہ انہیں ایک ایسے قیمتی اور شاندار کوٹ کی مانند لگتی جو ان کو فٹ نہیں تھا، اور اس کو پہن کر وہ بےآرامی محسوس کرتے ہوں. کبھی اسے پرشوق نگاہوں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ کسی کتاب یا کسی مووی میں گم دیکھ کر پوچھا کرتے کہ ڈئیر، کیا دیکھا جا رہا ہے؟ تب بہت پر شوق انداز میں کچھ اس قسم کا جواب ملتا، ”بہت دلچسپ کہانی ہے، آئیے، اپ بھی دیکھیے. وینڈی نے پیٹر پین کے سائے کو اس کے پیروں سے سی دیا ہے، اب وہ اس سے الگ ہو کر نہیں بھاگ سکے گا. پھر وہ اپنے بھائیوں کو لے کر، پیٹر پین کے ساتھ نیور لینڈ چلی جائے گی، جہاں بچے کبھی بڑے نہیں ہوتے، پریاں حسد کے عرق سے مر جاتی ہیں، اور یقین کے بولوں سے جی اٹھتی ہیں. قزاقوں کا سردار محبتوں سے محروم اپنی بد صورت سوچوں کے ساتھ سمندری عفریت کا نوالہ بن جاتا ہے.“
ناصر احمد اکتا کر کہتے، ”یہ اپ بچوں والی احمقانہ حرکتیں چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟“ ایلس چونک کر انھیں دیکھتی اور پھر یکایک کھلکھلا کر ہنس پڑتی. ”ارے میں تو مذاق کر رہی تھی. میں بھلا یہ سب کہاں دیکھتی ہوں؟ آئیے یہ بل فائٹنگ دیکھتے ہیں، کتنا زبردست بیل ہے. اور اس نوجوان کی پھرتی تو دیکھیے کیسے اس بیل کو چکمہ دے جاتا ہے؟“
اس پل ناصر احمد کو اس گھنگھریالے بالوں والی لڑکی پر بہت ترس آتا جو کبھی بےتحاشا باتیں کرتی اور کبھی بالکل خاموش ہو جاتی. اس لمحے جب کھلکھلاتے ہوئے اس کی آنکھ سے اک شفاف موتی پھسل گیا تھا، اسی لمحے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے یوں کبھی نہیں ٹوکیں گے. کاش وہ اتنی عجیب نہ ہوتی. ان کی خواہش اور پسند کو سمجھتی. سب کچھ تو تھا اس کے پاس. پھر بھی یہ چڑا کر رکھ دینے والی اداسی اور گنجلک سی نفسیاتی کیفیت کیوں؟ لیکن اسے کیا چاہیے تھا، یہ ان کی سمجھ میں کبھی نہیں آیا.

زندگی کے اس اداس اور سرد کمرے میں بیٹھ کر اون کے ان گولوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے کرتے جو بری طرح الجھ گئے تھے، اس کے ساتھ تین گھنگھریالے بالوں والی خرگوشنیوں اور ایک بولتی سوچتی آنکھوں والے ننھے خرگوش کا اضافہ بھی ہوگیا تھا. زندگی کی تھکن کتنی بڑھ گئی تھی. اپنی خرگوشنیوں کے گھنگھریالے بالوں کی پونی ٹیلز بناتے وہ انھیں سمجھایا کرتی کہ ان کی گلابی، کاسنی اور بنفشی فراکوں کی فرل بالکل خراب نہیں ہونی چاہیے. انہیں یہ خوب اچھی طرح سیکھ لینا چاہیے کہ کس موقع پر کون سا لباس اور کس لباس کے ساتھ کون سے پھول مناسب لگیں گے. انھیں اچھی لڑکیوں کی طرح سنبھل سنبھل کر تکلف سے بولنے اور انداز سے چلنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ شہزادے سے شادی کرنے کے لیے سنڈریلا جیسی اچھی اور سگھڑ لڑکی کو بھی بیش قیمت فراک، ہمرنگ زیورات اور نہایت قیمتی بلوریں جوتوں کی ضرورت پڑتی ہے. اور شاندار گھوڑوں والی قیمتی بگھی تو کس قدر ضروری ہے. یہ سب کہتے اس کے اندر کوئی تڑپتا، فریاد کرتا رہتا، مگر وہ سختی سے ان آوازوں کو دبائے انھیں یہ سب سکھائے جاتی، اور ننھی خرگوشنیاں ماں کی آنکھوں میں چمکتے پانی کو حیرت سے دیکھا کرتیں.

مگر ہماری زندگی کی باگیں تو ہمیں زندگی عطا کرنے والے کے ہاتھ میں ہی رہتی ہیں، لہٰذا اس کے باوجود بھی لالہ رخ، جہاں آرا، اور ماہ رخ کو کتابوں سے دلچسپی تھی، اور شاہ زیب تصویریں بنایا کرتا تھا. وہ ساحل پر مچھیروں کے بچوں کے ساتھ کھیلتے اور اپنے کپڑوں میں ساحل کی چمکیلی ریت بھر لاتے. ایلس ان باتوں سے سہم جایا کرتی تھی، اور گھبرا گھبرا کر انھیں خوب ڈانٹتی.

ایک تہوار کی شام جب سب آتش دان کے پاس بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے تو لالہ رخ نے سب کو اپنی نئی کہانی سنائی، ماہ رخ نے سیپیوں اور گونگھوں کی بنی وہ اشیا دکھائیں جو انہوں نے مچھیروں کے بچوں کے ساتھ مل کر بنائی تھیں، اور جہاں آرا کم گو شاہ زیب کی وہ تصویر لے آئی جس میں نوکیلی پھندنے ولی ٹوپی پہنے ایک چھوٹا سا لڑکا آدھے چاند پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا.

وسیع ڈرائنگ روم میں نرم گدیلوں میں دھنسے شاندار لوگ معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کودیکھنے لگے. سنہرے رنگے بالوں والی بیگم فخرالنسا نے اپنی بہن کو ٹہوکا دیا اور اپنی روپہلی ساڑھی کے آنچل میں منہ چھپا کر ہنسنے لگیں. تو جناب وہی ہوا نا، جس کا ڈر تھا. ایلس نے اپنے بچوں کو اپنی ہی طرح بگاڑا تھا. ویسی ہی حرکتیں، وہی شوق. یہ کوئی سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے کے طریقے ہیں.
مہ جبیں بھابھی چلغوزے چھیلتی بہت بےنیازی سے بولیں، " اماں، شام کو گول گپوں کے پانی میں سونٹھ کی وہ خوشبو نہیں تھی جو ہونی چاہیے. اپ نے میری طرف بھی تو کھاے تھے نا. خادم حسین کتنے زبردست بناتا ہے."بڑی بیگم کی تیوریاں چڑھ گئیں. "ارے بھئی ، ہم سے کچھ نہ کہو. کیا کیا برداشت کیے جاتے ہیں. پچھلی دعوت میں بھی جو کوفتے بناے گئے تھے، ہمیں صاف محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ چنے بھوننے کے دوران جلاے گئے ہیں. اور ساتھ ہی پیس دیے گئے ہیں.سب تعریفیں تو کر رہے تھے. مگر سب اوپری تھا. جلن کا زائقہ صاف زبان پر محسوس ہوتا رہا."
نورالنسا بیگم اپنے رنگے ہوے ناخنوں کو بغور دیکھتے بولیں. ”سارا دھیان تو اس طرف ہوگا کہ جہاں آرا کی کہانی مکمل کروا دی جائے. شاہ زیب کے لیے رنگ خریدنے کو ناصر بھائی سے کیسے خوشامد کی جائے، اور لالہ رخ کے لیے کوئی نیا مضحکہ خیز سا سکارف سی دیا جائے. تو ایسے میں گھر داری کے باقی سب کاموں میں کون دل لگائے؟“ فخرالنسا بیگم نخوت سے بولیں، ”سکارف کی بھی خوب ہی رہی. پہلے خود ساری زندگی چادر لپیٹے پھرتی رہیں اور اب بیٹی کو تیار کیا جا رہا ہے. جسٹس صاحب کے گھر میں کتنی باتیں بنتی ہیں کہ ناصر احمد جیسے خوبرو اور قابل بھائی کے لیے ایسی دقیانوسی دلہن ڈھونڈھی گئی“. بڑی بیگم کو ذرا کی ذرا غصہ آیا، ”ارے تو بتانا تھا نا، کہ ناک نقشہ تو ہم نے بھی دیکھا تھا. اچھا خاصا تھا. پڑھی لکھی بھی بہت ہیں.“ فخرالنسا سر جھٹک کر بولیں ، ”میں کیوں وضاحتیں دیتی پھروں. جسٹس صاحب کو اپنی انسلٹ محسوس ہوتی ہے. ہر مرتبہ یہی کہتے ہیں، کہ سچ بتائیے ، آپ کی بھابھی صاحبہ اتنی ہی خوبصورت ہیں کہ ہم دیکھ لیں گے تو ان کو نظر لگ جائے گی، یا کوئی داغ وغیرہ ہے، جس کی وجہ سے چہرہ چھپائے پھرتی ہیں؟“
بڑی بیگم نے پان کی گلوریاں بناتے بناتے منہ بھی بنایا، ”ارے ہم تو باز آئے. جو کچھ اماں باوا کے یہاں سے سیکھ کر آئی ہیں، اس کو ہم کہاں بدل سکتے ہیں“. مہ جبیں بھابھی نے بڑے انداز سے اپنے جوڑے کو چھوا ”اور اب بیٹی کو بھی اسی راہ پر چلانے کا ارادہ ہے. رشتے کون دے گا ان لڑکیوں کو؟“ نور النسا مسکرا کر بولیں، ”ہوگا کوئی نہ کوئی ناصر بھائی کے جیسا. ان کا ہی سٹیمنا ہے جو برداشت کیے جاتے ہیں.“ ناصر احمد نے ٹانگیں سیدھی کر کے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی اور پائپ سلگانے لگے. کانچ کے برتنوں کو بہت احتیاط سے خشک کر کے الماری میں لگاتے اس نے زہرخند مسکراہٹ کے ساتھ سوچا: ”یوں ہے تو یوں ہی سہی.“ اور حلق میں بہت سا نمکین پانی بھرنے لگا.

مگر درد کی جس پگڈنڈی پر وہ چل رہی تھی، اس پر سارے ہی مقام سنسان اور ویران تھے. جب اس کی اجلی رنگت کملانے لگی، اور مخروطی انگلیوں پر لکیریں سی پڑنے لگیں تو ایک روز ناصر احمد ایک اپسرا کو بیاہ لائے. کانچ کی طرح نازک بدن اور راج ہنس کی طرح نازک مزاج. اس نے پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ان کو دیکھا اور رات کے کھانے کے لیے متنجن تیار کرنے لگی.

رات جب سب اپنے کہے اور کیے کے ممکنہ اثرات سے بے فکر میٹھی نیند سو رہے تھے،وہ اپنا رنگ محل چھوڑ کر پہاڑی سے نیچے اتر آئی. سمندر کنارے اس بلند چٹان کی گکر پر بیٹھ کر اس نے وہ ڈھیروں آنسو بہا ڈالے جو اب تک سنبھال کر رکھے تھے. وقت بے وقت چلے آنے والے وہ آنسو جن کو آنکھوں میں روک کر رکھنا اس نے سیکھ لیا تھا. مگر ایک بار پھر اس سارے سیکھنے سکھانے کا کیا فائدہ ہوا؟

زندگی کی ڈور کبھی مرے ہاتھ میں رہی ہی نہیں کہ میں اس کا گلہ کرتی کہ کب کس لمحے، میں نے کیا غلط بویا کہ بعد میں سبزے کی جگہ، یہ سارے نوکیلے کانٹے ہی میرا مقدر بنے. ”اڈ مین آؤٹ“ کا کردار نبھانا میری ہی قسمت میں کیوں لکھا گیا؟ زندگی کی ڈوریں کس بری طرح الجھی ہیں کہ ان کو سلجھاتے سلجھاتے آنکھیں، گردن، انگلیاں سب ہی بری طرح تھک گئی ہیں. کیا سب کی طرح میں نے بھی اسی کار عبث میں اپنی زندگی بتانی تھی؟ تو یہ ہے اب تک گزاری زندگی کا حاصل.
دھندھلائی ہوئی آنکھوں سے اس نے سمندر میں جھانک کر دیکھا. ہلکورے لیتے پانی میں چاند مسکرا رہا تھا. ”اوہ، میرا چاند دیس تو یہاں ہے سمندر کی گہرائی میں. اس نے مسکرا کر سوچا.“ اور میں اس کو وہاں بستیوں میں تلاش کرتی ہوں. اور پھر اس نے دیکھا کہ چاند نے اپنی بانہیں اس کے لیے پھیلا دیں اور چٹان کی گکر سے بپھرتے پانیوں تک ایک دودھیا رہگزر بن گئی. اس نے اٹھ کر ہاتھ جھاڑے اور اور اپنے قدم اس طرف بڑھا دیے.

یک بارگی کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کھینچ لیا. اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا، وہ ہوا میں معلق تھی. ٹھنڈی ہوا میں اس کا نقرئی لباس لہرا رہا تھا. اس کے چہرے پر اپنا چہرہ جھکائے وہ سرگوشی کر رہی تھی، ”جسے دریا کے بہاؤ کے مخالف سمت تیرنے کے لیے پیدا کیا جاتا ہے، اسےاس قابل بھی بنایا جاتا ہے، اس کی صلاحیت بھی دی جاتی ہے. حوصلہ کیوں ہارتی ہو؟ کیا کبھی تمھارے دل کے خالی ایوانوں میں کسی کی مہربان آواز نہیں گونجا کرتی جو تمھیں وہ سب کچھ دیے جاتا ہے جو اس نے اوروں کو نہیں دیا. بے آب و گیاہ صحرا میں ہاجرہ کے سوا کون تھا جسے تنہا مقدس شہر بسانے کو چھوڑا گیا؟ ساری دنیا سے بلند کر کے مقدس مریم کا مرتبہ دیے جانے کو اور کس کو آزمایا گیا؟ یاد رکھنا، جس زمیں میں درد پلتا ہے وہ بہت زرخیز ہوتی ہے.“

ایلس روہانسو ہو کر بولی، ”مگر دریا کی تند و تیز لہروں سے میں کب تک تنہا لڑوں؟ میرے بازو شل ہوئے جاتے ہیں.“ اس پر وہ مسکرا دی اور اس کے ساتھ سارا ماحول جگمگانے لگا، ”تنہا؟ تمہیں یاد ہے؟ آج اپنی پریشانی میں تم نے جہاں آرا کی ایک چوٹی بالکل ٹیڑھی گوندھی تھی، مگر اس نے کوئی شکایت نہیں کی. لالہ رخ کتنے شوق سے تمھارے سیے حجاب پہنا کرتی ہے. اور ماہ رخ؟ اس کے آنسو کیسے کانچ کے سے معلوم ہوتے ہیں. خدا کرے اسے کوئی ایسا ملے جو اس کے آنسوؤں کو چھو کر موتی بنا دے.“

ایلس ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئی. اور کپڑے جھاڑ کر جلدی سے بولی، ”ارے، تمھیں کیا خبر، مجھے پرسوں آنے والے جہاز رانوں کے میلے کے لیے شاہ زیب کو بہت سے کپ کیک اور نمکین سموسے بنا کر دینے ہیں، تاکہ وہ اس روز انھیں وہاں گھومتے مچھیروں کے بچوں میں تقسیم کر سکے. رنگین جھنڈیاں اور پھول تو وہ سب خود مل کر تیار کر لیں گے.“ اتنا کہہ کر وہ افراتفری میں وہاں سے بھاگ گئی.

اگلے روز سہہ پہر کے وقت جب سب خواتین لان میں بہٹھی چائے پی رہی تھیں اور آنے والی تقریب کے لیے غرارے سلوانے کی پلاننگ کر رہی تھیں، وہ خاموشی سے ان کے پاس سے گزر کر باہر نکل گئی. اس کی باسکٹ میں سیب اور سٹرابری کے بہت سے ٹارٹس تھے، اور چاروں خرگوش پیچھے پھدکتے چلے آ رہے تھے. جھرنے کے پاس اس نے انھیں اس ڈریگن سلیر کی کہانی سنائی، جو بےشمار رکاوٹیں عبور کر کے جب ڈریگن پر قابو پالیتا ہے، تو اس کو قتل کرنے کے بجائے اس کا دوست بن جاتا ہے. بھورے بالوں والا ننھا چرواہا اور پانی بھر کر گھروں کو جاتی خادمین کی لڑکیاں بھی اس کے پاس بیٹھ کر کہانی سننے لگیں. پھر سب نے ٹارٹس کھائے اور گھر کو لوٹ گئے. مگر گھر کو لوٹنے سے پہلے اس نے اپنی تازہ لکھی کہانی شیشے کی بوتل میں بند کر کے سمندر کے حوالے کر دی.

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہترین۔ افسانے نے اپنے اندر جذب سا کر لیا تھا۔ منفرد ہونا مشکل ہے اور معاشرہ اسے مشکل ترین بنا دیتا ہے لیکن یہ جو ہمارے پیچھے پھدکتے ہوئے آنے والے خرگوش اور خرگوشنیاں ہیں، یہ حوصلہ ضرور بڑھا دیتے ہیں۔ ⁦♥️⁩

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com