حضرت صاحب - مبارک بدری

کچھ لمحات زندگی میں عجیب تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ لمحات کبھی کے گزر چکے ہوتے ہیں مگر ان کی یادیں اور ان سے پیدا ہونے والا وجدان اور کیفیات رہ رہ کے دل میں ہوک کی مانند اٹھتی رہتی ہیں۔ بارہا ایسے لمحات سفر حیات میں پیش آتے رہتے ہیں جو طویل مدتی کیفیات چھوڑ جاتے ہیں۔ ان لمحات سے اثر پذیر ہونا ہمارے اپنے ادراک اور وسعت ذہنی پر منحصر ہے۔ فطرت کے قریب افراد ایسے لمحات کا سنجیدگی سے مشاہدہ کرتے ہیں اور ان سے پیدا ہونے والی کیفیات اور کار جہاں بینی کی وسعتوں کے درمیان خود کو ایک ڈھانچہ کے مانند تصور کر کے قلبی حساسیت میں اضافہ کے موجب ہوتے ہیں۔

ایک روز ایک قاری صاحب (میرے رفیق ہیں) کی مسجد میں جانے کا اتفاق ہوا، نماز کا وقت ہو چلا تھا، اللہ کی توفیق سے نماز ادا کی گئی۔ قاری صاحب کا نماز کے بعد مسجد کے صحن میں بیٹھنے کا معمول ہے۔ ہم صحن میں بیٹھے خیر خیریت دریافت کر رہے تھے کہ اس دوران ایک سفید ریش بزرگ بھی برابر میں تشریف فرما ہوئے۔
مجلس کے اختتام پر میں نے پوچھا، قاری صاحب یہ بزرگ کون ہیں؟ رئیس صاحب ہیں، تاریخ کے بڑے ماہر ہیں۔ اور مولانا بھی ہیں۔
مجھے یقین نہیں آیا کیونکہ ایک تو حضرت (دوران گفتگو قاری صاحب ان کو حضرت کہہ کر پکارتے رہے) کا لباس ہی ایسا تھا، مزید یہ کہ مہینوں سے انہوں نے دوسرے کپڑے بدلے ہی نہیں ہوں گے۔ میلی کچیلی لنگی اور شرٹ زیب تن کیے ہوئے تھے، بکھرے ہوئے بال، بڑے بڑے ناخن اور انھی ناخنوں سے سر کو کھجا رہے تھے، جس سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ حضرت ہفتوں، مہینوں سے نہائے نہیں ہیں۔

میری حیرت یقینی تھی، میں نے دوسرا سوال کر ڈالا۔ قاری صاحب مولانا حضرات تو شرٹ نہیں پہنتے؟ بے چارے سیدھے آدمی ہیں، لنگی اور شرٹ ہی ان کا لباس ہے۔
میرے تعجب میں اضافہ لازمی تھا کیونکہ آج کل کے حضرت تو قیمتی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ ایک یہ حضرت ہیں جن کا یہ عالم ہے۔ حضرت کے کردار سے سادگی، متانت اور سنجیدگی ٹپک رہی تھی۔ بصارت تو حضرت کو ایک فٹ پاتھیے انسان سے زیادہ ماننے کو تیار نہ تھی مگر تجربہ حضرت کی اعلی ظرفی، علمی مقام و مرتبہ کو بھانپ گیا تھا. میری حضرت سے انسیت بڑھنے لگی، میں حضرت سے بات کرنے کے مواقع تلاش کرتا، ان کے حالات سے واقفیت سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ حضرت کا تعلق کانپور سے ہے، بچپن میں ہی حصول علم کی غرض سے دہلی آگئے تھے۔ خاندان میں والدین تھے جو اللہ کو پیارے ہوگئے۔ والدین کے انتقال کے ساتھ ہی کانپور سے رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ اور شاید کسی حد تک زندگی سے بھی۔

مسجد کے قریب ایک کمرہ معمولی کرائے پر لیا ہوا ہے جو کتابوں سے اس قدر بھرا ہوا ہے کہ حضرت خود بھی مسجد کے ایک کمرے میں آرام فرماتے ہیں۔ فطرت اور کتابوں سے دل کا رشتہ ہے، سائنس، فلسفہ، حدیث و تفسیر و فقہ، سیاسیات، سماجیات ، ادبیات اور تاریخیات پر برابر دسترس رکھتے ہیں۔ ایک عرصے تک ماہنامہ ’’آج کل‘‘ میں لکھتے رہے، اس دوران حضرت سے بہت سارے لوگ فائدہ حاصل کرتے رہے۔ وہی ساغر صدیقی مرحوم کی طرح۔ اس وقت ساغر کا یہی معاملہ تھا کہ دو گھونٹ پانی کے قطرے مل گئے اور تازہ تازہ کلام اوروں کے نام کر دیا۔ حضرت کا معاملہ دو گھونٹ والا تو نہیں مگر دو وقت کی روٹی کا مسئلہ ہر حال میں دامن گیر رہا۔ اور اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ حضرت سے معمولی رقم پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے مقالات لکھوانے سے لے کر پروگراموں کے لیے استقبالیہ و صدارتی خطبات تک لکھواتے رہے۔ آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مگر آج تک میں نے جو کچھ محسوس کیا، وہ حضرت کے چہرے کا دائمی سکون و اطمینان ہے۔ کئی سال قبل حضرت نے ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس میں مغربی ممالک میں مقیم ہندستانی ادیبوں اور شاعروں کی رشحات اور تخلیقات کو یکجا کرکے ترتیب دیا جانا شامل تھا۔ مگر یہ سلسلہ وسائل کی قلت کا شکار ہوگیا۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ فن، مہارت، قابلیت اور صلاحیت کے باوجود ایسے افراد کیوں گوشہ گمنامی اور خانہ بدوشی کا شکار ہو جاتے ہیں؟ اس بابت دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں، ایک تو ان افراد کی پست حوصلگی اور ذہنی حد بندی ہے جس کی وجہ سے وہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اپنا میدان نہیں بنا پاتے ہیں۔ ایسے افراد یا تو ہمت سے عاری ہوتے ہیں یا پھر ذہنی اعتبار سے بہت محدود ہوتے ہیں۔ دوسری بات کو عصر حاضر کے المیہ سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ افراد جو ظاہری روایات کی بلندیوں پر فائز ہیں، اپنے علاوہ ہر کسی کو میدان میں آنے سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں، چونکہ یہاں ان کا ذاتی مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ یہی حال ہماری قیادت اور بڑے لوگوں کا بھی ہے، ہر باحوصلہ اور ذی شعور نوجوان کے عزم و ہمت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے، اس کو تنقید کا نشانہ بنا کر اس کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے مقصد، صرف اور صرف ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ آخر مجھے بتائیے! کون سی کمی ہے حضرت میں؟ میں بتاتا ہوں، کئی علمی کارنامے ہیں جو انہوں نے سر ا نجام دیے، مگر نام کسی اور کا ہوا۔ کئی مقالات ہیں جن پر محنت حضرت کی صرف ہوئی اور ڈاکٹر کی سند کسی اور نے حاصل کی۔ میرا ماننا ہے، ایسے افراد سے کام لیجیے مگر کام ایسا ہو جس میں سب کا فائدہ ہو، جس سے گتھیاں سلجھیں اور نسل نو کی آبیاری کی جا سکے۔ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ میں جب بھی اس تصور سے گزرتا ہوں، عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

بات کہیں اور چلی گئی۔ ایک روز عشاء کے بعد قاری صاحب کے پاس جانا ہوا، قاری صاحب بچوں کے ساتھ اپنے کمرے میں تھے، اس دوران مسجد کے برابر کے ہال میں بیٹھ گیا۔ اس وقت حضرت بھی وہیں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ حضرت نے مجھے بھی کھانے کی دعوت دی۔ چونکہ بار بار کی ملاقات سے حضرت سے بے تکلفی سی ہوگئی تھی، میں شکریہ ادا کرتے ہوئے حضرت کے قریب جا بیٹھا۔ میں بہت سے سوالات اور احساسات دل میں لیے حضرت کو دیکھتا رہا اور حضرت نہایت اطمینان سے کھانا تناول فرماتے رہے۔ خدا گواہ ہے، اس وقت کاغذ کے دسترخوان پر ایک گلاس میں دو چارگھونٹ (بلامبالغہ) دودھ اور دو خشک روٹیوں کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحات آج بھی میرے وجود میں عجیب کیفیات برپا کر دیتے ہیں۔ ہر بار میرے سوال کے جواب میں حضرت یہی کہتے ہیں، ’’دو وقت کی روٹی کے علاوہ ضرورت بھی کیا ہے‘‘۔

معلوماتی اعتبار سے حضرت ماڈرن ٹائپ معلوم ہوتے ہیں۔ اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کا استعمال بخوبی جانتے ہیں اور حضرت کے پاس بھی ایک اسمارٹ فون اور کمپیوٹر موجود ہے جن سے ٹائپنگ اور ای میل وغیرہ کا کام لیا جاتا ہے۔ مگر حضرت کی شخصیت آج کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ ہر دم اپنی دنیا میں گم رہتے ہیں حضرت کو دیکھ کر کسی جنت مکانی شخصیت کا تصور ہوتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */