وہ استاد ہے - زبیر منصوری

وہ استاد ہے، درد دل رکھنے اور اپنے ہاسٹل میں رہنے والے بچوں کی تربیت کے لیے شدید فکر مند، پریشان، دکھی۔ بولا، میں ناکام ہوں. یہ نسل اخلاقی اعتبار سے برباد ہو رہی ہے، کیا کروں؟
یہ کہہ کر اس نے افسردگی سے سر جھکا لیا، چشمہ اتارا، بھیگی آنکھوں کی نمی اس کے ٹشو میں جذب ہو گئی.

مجھے دوسروں کے لیے ایسے دکھی لوگ پیارے لگتے ہیں، میں نے محبت سے اسے دیکھا اور بولا! اپنے ناپنے کے پیمانے ٹھیک کرو میرے عزیز! دیکھو! دور دجال میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیمانوں کو سوچے سمجھے بغیر ڈنڈے سے نافذ کرو گے تو دکھ اٹھاتے رہو گے، حالات کے منظرنامہ کو سامنے رکھ کر ترتیب، تدریج، تربیت، تذکیر، تعلیم، تخویف، تادیب، تبشیر، تذکیر کے ذریعہ تعمیر کرو. دیکھو! میرے یہ لفظ تمہارے لیے تھے، اس نسل کی باتیں، خیالات، الفاظ، Diction، اصطلاحات، سب مختلف ہیں، انھیں سمجھو گے تو بات کا ابلاغ Communication ہو سکے گا.
سمجھو! یہ سونامی طوفان ہے، اس کے سامنے سینہ پھیلا کر کھڑے ہونے سے یہ نہیں رکے گا، (کوئی سمجھتا ہے کہ ساری امت کو سچا مؤمن بنایا جا سکتا ہے تو ہماری دعائیں اس کے ساتھ ہیں)
پہلے ماحول ہم آواز کیا جاتا ہے، پھر نغمہ کا آغاز کیا جاتا ہے، سچ بتاؤ، تمھارے اساتذہ کی ٹیم میں کتنے ایسے ہیں جن سے طلبہ محبت کرتے ہیں؟ وہ بولا، ایک بھی نہیں. میں نے کہا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ماڈل تو تھا ہی ”محبت کے ذریعےتربیت“، پھر؟ دیکھو! باہر ساٹھ ڈگری ٹمپریچر ہو تو اندر سارے کولنگ سسٹم ناکام ہو جاتے ہیں۔

دیکھو! ”محبت کے کہف“ بناؤ، پھر جہاں جتنا جیسے ممکن ہو، ان میں جتنوں کو سمیٹ سکو، بچا لو. دیکھو! اللہ، رسول، آخرت اور قرآن و سیرت کے ساتھ محبت بھرا تعلق جوڑو، باقی مچھر چھاننے اور اخلاقیات کی جزئیات اور آداب کی تفصیلات ان میں پیدا کرنے کو مؤخر کر دو، ورنہ ان اہم ترین ایمانیات سے بھی جاؤ گے. دیکھو! پرانے ٹولز بدلو، یہ نسل اب ان سے کنٹرول نہیں ہوگی، ”نیا، دلچسپ اور محبت کے ساتھ“ والا اسلوب اختیار کرو. دیکھو! کوسنے دینا، برا بھلا کہنا، ملزم بلکہ مجرم ٹھہرانا چھوڑو، تعلق پیدا کرو، چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظرانداز کرو، عزت دو، عزت نفس کا قیمہ نہ بناؤ، بس اہم باتوں پر فوکس رکھو اور تجربوں سے سیکھو. ورنہ دل شکستگی کے یہ آنسو نامہ اعمال میں تو یقینا وزن رکھتے ہیں، مگر اس لوجک، آرگیومنٹ، کی دنیا میں یہ نسل اسے
Emotional black mailing کہہ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */