سرکاری مہر والا خط۔ ـــ محمد مبین امجد

یہ جمعرات کی جھڑی تھی، جس کے بارے میں یقین تھا کہ ایک بار شروع ہو جائے تو پھر پورا ہفتہ ہی مینہ برستا رہتا ہے۔۔۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی بارش کی بجتی جلترنگ سن رہی تھی، کمرے میں ریڈیو بج رہا تھا۔۔۔ اچانک کسی نے باہر کا دروازہ دھڑ دھڑایا، ناچار اسے اٹھ کر جانا پڑا کہ اماں ڈپو سے راشن لینے گئی ہوئی تھی۔۔۔ دروازے پہ ڈاکیا تھا، وہ خط لے کر واپس آئی تو ریڈیو پہ ایک دکھی گیت بج رہا تھا، ایک گلوکار بہت ہی سوز بھری آواز میں گا رہا تھا، جانے اسے کیا دکھ تھا۔۔؟؟

اس نے گیت کے لفظوں پہ غور کیا تو وہ تڑپ اٹھی۔۔۔
بدلی آگئی اے ساونڑ دی
کوئی تدبیر ڈسا
رٹھے یار مناونڑ دی
ہٹیاں تے کھنڈ وکدی
ہک تاں غریبی اے
دوجھا سنجنڑاں کنڈ کیتی
باغاں وچ گھا کوئی نا
جیہڑے پاسے ماہی ٹریا
اوں پاسے دا راہ کوئی ناں

آخر وہ بھی تو ہجر میں مبتلا تھی۔۔۔ اس موسم میں یہ گیت سن کر اس کا بے اختیا رونے کو جی چاہا، آخر اس کا ساجن بھی تو بیاہ کے اگلے ہی روز محاذ پہ چلا گیا تھا۔۔۔ اور وہ بھول گئی کہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے ڈاکیا ایک خط دے کر گیا تھا مگر وہ اسے ہاتھوں میں لیے بیٹھی تک رہی تھی کہ اسے کھولنے اور پڑھنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ گوکہ اس کی زندگی کے ہر اہم موڑ پہ خط نے اپنا کردار ادا کیا تھا مگر اس نے غور کیا تو دیکھا کہ یہ سرکاری مہر والا خط تھا۔۔۔جانے اس میں کیا تھا۔۔؟؟؟ اسے ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اسے کھولے اور دیکھے۔۔۔

خط تو پہلے بھی آتے رہے تھے اور ہرخط نے یوں اپنا نقش کندہ کیا تھا کہ ان سے ملنے والی خوشی یا غم دونوں بھلائے نہ بھولتے تھے۔۔۔
۔۔
۔
اسے یاد تھا پہلا خط جب آیا تھا، اور اس خط نے اسے عجیب سے فخر اور خوشی سے سرشار کیا تھا، اس خط میں میٹرک کا رزلٹ کارڈ تھا اور اس پوری بستی میں آنے والا یہ واحد خط تھا جس نے ابا کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔۔۔ اس روز ابا نے پوری بستی میں مٹھائی بانٹی تھی، جانے ابا کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے تھے۔۔؟؟؟
شاید ادھار ہی لیا ہوگا کسی سے۔۔۔ شاید۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:   ہم نفس کا ہم نفس کے نام خط - اسماء طارق

دوسرا خط جس نے اسکی زندگی میں اہم کردار ادا کیا تھا، اس کے سسر کا تھا جو اس کے ابا کا دوست تھا اور چاہتا تھا کہ اب اس دوستی کو ختم کر کے رشتے داری میں بدل دیا جائے، گویا وہ خط اس کے رشتے کیلیے لکھا گیا تھا جسے پا کر ابا پھولا نہیں سماتا تھا۔۔۔ خیر یہ رشتہ منظور کر لیا گیا اور کیوں نہ کیا جاتا کہ لڑکا ایئر فورس میں ٹیکنیشن تھا، رشتے کی منظوری کے بعد اس لڑکے کے کئی خط آتے رہے جن کا جواب وہ ہفتوں سوچنے کے بعد لکھا کرتی تھی، اور اسے اچھا لگتا یہ خط وکتابت کا سلسلہ۔۔۔ تیسرا اہم خط جو اسے یاد تھا اس پہ سرکاری مہر لگی ہوئی تھی، اور اس نے یہ خط پڑھ کر دعا کی تھی کاش یہ خط نہ آیا ہوتا۔۔۔ بلکہ اس کی جگہ ابا آجاتا، مگر۔۔۔
مگر ابا کی جگہ اس سرکاری مہر والے خط نے ہی آنا تھا سو وہ آکر رہا۔

چوتھا اہم خط جو اسے یاد تھا، وہ ان کے بیاہ کے اگلے ہی روز آنے والا خط تھا اور اسے یاد تھا کہ اس خط پہ بھی سرکاری مہر لگی ہوئی تھی۔۔۔ اس کے خاوند کو شادی کے اگلے ہی روز محاذ پہ بلالیا گیا تھا۔ اس سرکاری مہر والے خط نے زندگی کے رنگ پھیکے کر دیے تھے، اور۔۔۔

اور ایک بار پھر سرکاری مہر والا خط آیا تھا، اور یہ پانچواں خط تھا جس پہ سرکاری مہر لگی تھی، جانے اس میں کیا تھا۔۔؟؟؟ اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ خط کھولے اور پڑھے، جانے کب سے ریڈیو پہ گیت تبدیل ہو چکا تھا، مگر اسے لگتا تھا ابھی وہی گیت بج رہا ہے۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی، بارش کا جلترنگ بج رہا تھا، خط اس کے ہاتھوں میں تھا ریڈیو بج رہا تھا، اور وہ جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:   ہم نفس کا ہم نفس کے نام خط - اسماء طارق

اور خط کھولتی بھی تو کیسے۔۔؟؟؟ سرکاری مہر دیکھ کر اسے لگا تھا کہ اس کے نین پران ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔
اور یہ جمعرات کی جھڑی تھی، جس کے بارے میں یقین تھا کہ ایک بار شروع ہو جائے تو پھر پورا ہفتہ ہی مینہ برستا رہتا ہے۔۔۔ مگر اس بار یہ جھڑی شاید عمر بھر رہنی تھی، شاید۔۔۔
شاید۔۔؟؟؟

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.