وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد (آخری قسط)- اوریا مقبول جان

وسیع البنیاد تعلیم یا یونیورسل ایجوکیشن دراصل جدید مادہ پرستانہ طرز زندگی کی وہ بنیاد ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ بارہ سال کی عمر تک کے بچے کو جو تعلیم آپ دیتے ہیں وہی اس کی تمام زندگی میں رہنما اصولوں کی طرح ساتھ رہتی ہے۔
اگر یہ تعلیم مذہبی اخلاقیات‘ ایمان بالغیب اور مذہی قوانین اور اصولوں کو آخری سچائی ultimite truth کے طور پر بتاتی ہے اور سائنسی حقیقتوں کو عارضی اور سائنس کو مذہب کے پرکھنے کا پیمانہ نہیں بتاتی تو پھر تمام زندگی اس کا ایمان متزلزل نہیں ہوگا‘ وہ ا للہ کے بنائے ہوئے کسی بھی کائناتی اصول پر شرمندہ نہیں ہو گا‘ بلکہ اس کا یقین اس بات پر محکم ہو گا کہ سائنس کی اس کائنات تک رسائی محدود ہے۔
جوں جوں سائنس کی رسائی بڑھے گی‘ یہ قرآن میں بتائی گئی سچائیوں کی تصدیق کرے گی۔ لیکن وسیع البنیاد تعلیم یا یونیورسل ایجوکیشن کا کمال یہ ہے کہ وہ سائنس کو آخری سچائی کے طور پر بتاتی ہے اور اس کا بنیادی جوہر یہ ہے کہ جب انسان اس پوری کائنات پر دسترس حاصل کر لے گا تو پھر تو وہ ایک دن یہ راز دنیا پر ضرور کھول دے گا کہ یہ کائنات بغیر کسی مافوق الفطرت ہستی کے مادہ کے قوانین کے تحت چلتی رہی ہے۔ چونکہ ہم سیلاب‘ زلزلوں‘ آسمانی بارشوں وغیرہ سب کو اب کنٹرول کر سکتے ہیں‘ اس لیے کسی اللہ‘ خدا‘ ایشور‘ یزداں یا گاڈ کے وجود کو تسلیم کرنے کی اب ضرورت باقی نہیں رہی۔
وسیع البنیاد تعلیم اور اسلامی اصولوں کے تابع سائنسی اور معاشرتی تعلیم میں یہی بنیادی فرق ہے جو معاشرے کو دو مختلف قسم کے افراد عطاکرتا ہے۔ ایک مذہب کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے والے اور اتنا ہی مذہب کو ماننے والے جتنا عقل کی دسترس میں آئے‘ یعنی ایک مادہ پرست مذہب جس کی آخری منزل الحاد یعنی خدا کا انکار ہے‘ اور دوسری قسم کے افراد وہ جو اسلام یا مذہب کی تعلیمات کو آخری‘ حتمی اور بنیادی سچائی مان کر دنیا میں غور و فکر اور جستجو کر کے اللہ کی بنائی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھائیں اور حقیقت جاننے کے بعد اللہ کی حمد و ثناء میں مشغول ہو جائیں اور ان کے منہ سے قرآن پاک کی یہ سچائی ضرور نکلے۔ ’’اے رب تونے اس کائنات کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا ۔‘‘ (آل عمران: 191)
وسیع البنیاد تعلیم کے ادارے بے شک نیک‘ متقی‘ پرہیز گار اور عالم دین نے ہی کیوں نہ بنائے ہوں اور ان کی نیت بھی خالص ہو کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کروانا ہے‘ لیکن اگر ان اداروں میں جدید تعلیم مذہبی اخلاقیات کے تابع نہ ہو گی تو بچے کی شخصیت ایک مادہ پرستانہ عمارت کے طور پر استوار ہو گی۔ برصغیر پاک وہند میں اس کی سب سے بڑی مثال سرسید احمد خان کی ہے جو ایک نیک‘ متقی‘ پرہیزگار اور عالم دین فرد تھے۔ اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔
ہندوستان میں اہل حدیث مسلک کے شیخ الکل سید نذیر حسین تھے‘ بہت بڑے عالم دین‘ وہ لوگوں کے سامنے مصلحت کی وجہ سے رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ سرسید نے انھیں احادیث اور امت کے تواتر کے حساب سے لاجواب کیا اور وہ بھی رفع یدین کرنے لگے۔ سرسید کے گھر میں خواتین کے پردے کا یہ عالم تھا کہ سرولیم میور جو بہت بڑا مستشرق مصنف اور انڈین سول سروس کا ممبر تھا‘ برطانوی ہندوستان کا سیکریٹری خارجہ بھی رہا‘ اس نے رسول کریم ؐ کی سیرت پرکتاب بھی لکھی جس کے ماخذ ا سلامی تاریخ کے متنازعہ مصنفین‘ واقدی‘ طبری اور ابن اسحاق تھے۔ اس نے خواہش ظاہر کی کہ میرے گھر کی خواتین آپ کی خواتین سے ملنا چاہتی ہیں۔
سرسید نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہماری خواتین اجنبی خواتین سے بھی پردہ کرتی ہیں۔ اس قدر مذہب پر کاربند رہنے والے اور متقی شخص کی نیک نیتی بھی وسیع البنیاد تعلیم کی مادہ پرستانہ سوچ کی بنیاد کو ختم نہ کر سکی اور علی گڑھ نے ایک ایسی نسل کو تیار کیا جو سول سروس‘ حکومتی معاملات‘ سائنس و فلسفہ اور دیگر مادہ پرستانہ امور میں تو کامیاب رہی لیکن دین کے معاملے میں ہمیشہ اس نے ایسی توجیہات اختیار کرنے کی کوشش کی جن سے دین سائنس کے چوکٹھے میں فٹ ہو جائے۔ مثلاً ایک اللہ‘ ایشور‘ یزداں یا گاڈ کو تو سب مان لیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں تو سائنس نے مادہ یا فطرت کا آغاز کرنا ہوتا ہے اور منطق و سائنس اس کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں‘ لیکن اس کے بعد کی تمام مافوق الفطرت اشیاء کا یا تو انکار کر دیا گیا یا پھر ان کی سائنسی توجیہات بنا لی گئیں۔ مثلاً فرشتوں کے وجود کو فطرت کی طاقتیں Forces of natureبتایا گیا‘ جنات کے تصور کی یہ تفسیر کی گئی کہ دراصل یہ وہ اکھڑ اور غصے والے انسان ہوتے ہیں جو دراصل آگ کی طرح ہوتے ہیں۔
فطرت کی طاقتوں کو ویسے ہی بتایا گیا جیسے کشش ثقل ہے‘ اس طرح اس کائنات کے مادے کے اندر جو طاقتیں ہیں وہ فرشتے ہیں۔ آسمانی معراج کیسے ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ تو نیوٹن کا زمانہ تھا‘ ابھی آئن سٹائن نہیں آیا تھا جو یہ بتاتا کہ اگر روشنی کی رفتار سے کسی جسم کو کائنات کے گرد گھمایا جائے تو اس پر وقت اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس وقت کی محدود سائنس کے مطابق اسلام کو فٹ کرنے کے لیے معراج کو ایک خواب یا روحانی تلازمہ کہہ دیا گیا۔
اسی طرح وحی کے بارے میں بھی یہ جواز دیا گیا کہ یہ براہ راست رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب پر اترتی تھی۔ اس لیے کہ فرشتوں کا انکار تو کر چکے تھے‘ تو پھر جبرائیل امین علیہ السلام کے واسطے کو کیسے مانتے‘ گویا یہ قرآن دراصل سرسید کے نزدیک براہ راست رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اصحاب کو سنایا۔
اسی طرح جنت و دوزخ کو بھی سرسید نے دو مقامات نہیں بلکہ دو کیفیات سے تعبیر کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک فرینک ٹپلر FrankJ.Tipler نہیں آیا تھا جو سٹفین ہاکنگ کا ساتھی ہے اور اس نے Physics of immortality لکھ کر یہ ثابت نہیں کر دیا تھا کہ یہ کائنات جب ختم ہو گی تو بالکل ویسے ہی جنت‘ دوزخ اور اعراف جیسے مقامات میں تقسیم ہو جائے گی جیسے آسمانی کتابوں قرآن ‘ تورات‘ زبور اور انجیل میں بتایا گیا ہے۔
یہ تحقیق 1994ء میں برٹش لائبریری نے چھاپی جو 530 صفحات پر مشتمل ہے۔ چونکہ سرسید کے وسیع البنیاد علم یا یونیورسل ایجوکیشن کی اڑان اور معراج اپنے دور کے سائنسی علم تک تھی اس لیے انھوںنے جنت اور دوزخ کو دو کیفیات کا نام دے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دین کی ایک ایسی تعبیر متعارف ہوئی جو آج کے سیکولر‘ لبرل اور مادہ پرست افراد میں مقبول ہے اور جدید مذہبی مفکرین بھی اسے تعبیر دین کا اصل سمجھتے ہیں۔ یہ قرآن کی ان آیات جن میں ’’اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول ؐ کی اطاعت کرو‘‘ میں سے رسول ؐ کی اطاعت کو ان کے زمانے تک محدود کر دیتے ہیں۔
غلام احمد پرویز اس فکر کو لے کر آگے بڑھے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ’’مرکز ملت‘‘ قرار دیا اور کہا اب جو بھی ’’مرکز ملت‘‘ اور امیر ہو گا وہ اپنی تعبیر سے قرآن کی روشنی میں کوئی بھی اصول وضع کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت دائمی نہیں ہے۔ یہیں سے میرے ’’ممدوح‘‘ استاد اور جدید اسلامی فکر کے ’’عظیم مفکر کے علم کے سوتے پھوٹتے ہیں اور وہ قرار دیتے ہیں کہ یہ پردہ‘ مرتد کی سزا‘ توہین رسالت کی سزا اور دیگر احکام رسول اکرم صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی تک خاص ہیں۔ یہاں تک کہ جہاد بھی انھی حکمرانوں سے ہو سکتا ہے جن کو رسول اکرم ؐ نے خط تحریر کیئے تھے اور دعوت اسلام دی تھی۔ یہ ہے وہ شخصیت جو وسیع البنیاد اور یونیورسل ایجوکیشن سے نکل کر سامنے آتی ہے۔
اب اگر یہ وسیع البنیاد تعلیم کے ادارے کوئی تہجد گزار‘ عابد و زاہد بہت نیک نیتی کے ساتھ بھی قائم کرے تو ان کی کوکھ سے مادہ پرست ا فراد ہی نکلیں گے جو دین کا ایک معذرت خواہانہ تصور رکھتے ہوں گے۔ اگر پہلے بارہ سالوں میں آپ نے بچوں کو یہ تعلیم دے دی تو پھر آپ ان کو دین کی اصل روح تک بہت مشکل سے واپس لا سکو گے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس وسیع البنیاد تعلیم کو ان ’’عظیم عالم دین‘‘ نے دہشتگردی کا حل تجویز کیا گیا۔
یہ تعلیم اٹھارویں صدی میں یورپ کو ملنا شروع ہوئی اور اب تک ان تعلیمی اداروں سے پڑھے لوگوں نے دو عظیم جنگیں لڑیں‘ دس کروڑ لوگ مارے‘ ویت نام سے لے کر جنوبی امریکا‘ افریقہ سے لے کر فلسطین‘ عراق‘ افغانستان‘ شام‘ لیبیا میں آج تک قتل کیے جا رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ قتل اس یونیورسل ایجوکیشن کے تعلیم یافتہ انسان نے کیے اور لوگ اسے دہشتگردی کے علاج کا نسخہ بتاتے ہیں۔