آج کا میچ اس کے نام - محسن حدید

آج کا میچ اس عام بلوچ کے نام جو بلوچستان کے کسی ویرانے میں راہ چلتے ایک بارودی سرنگ کا نشانہ بن گیا. جسم کے چیتھڑے اڑنے سے چند لمحے پہلے اس کے ذہن میں آخری خیال یہ آیا ہوگا کہ مجھے دھرتی کیوں نگل گئی؟ میرا کیا قصور تھا؟ یہ آگ کا عذاب مجھے دنیا میں ہی کس لیے مل گیا؟

آج کا میچ اس زائر کوفہ و نجف کے نام جسے بلوچستان کے کسی صحرا میں سے گزرتے ہوئے صرف اس لیے اڑا دیا گیا کہ ہندوستان نے آزادی کی نام نہاد جنگ کے نام پر کچھ لوگوں کو پیسے دے دیے تھے.

آج کا میچ اس بلوچ کے نام جسے کبھی اس کے سرداروں اور کبھی مرکز میں بیٹھے نام نہاد حاکموں نے لوٹا اور آخری نشانہ آزاد بلوچستان کے علمبرداروں نے بنا دیا.

آج کا میچ اس پنجابی حجام دھوبی کے نام جس کا شناختی کارڈ دیکھ کر اسے پنجابی ہونے کی وجہ سے بلوچ حقوق کے علمبرداروں نے گولیوں سے بھون دیا کیونکہ اس سے ریاست کو پیغام دینا مقصود تھا.

آج کا میچ اس کے نام جس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس کی مذہبی تشریح میں دھمال حرام نہیں تھی لیکن کچھ لوگوں کی نظر میں یہ قابل سزائے موت جرم تھا.

آج کا میچ اس فوجی کے نام جو دشمن کے سامنے للکار کر کھڑا رہا، پیٹھ نہیں دکھائی، سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا، صرف اس لیے کہ اس نے اس دھرتی کے تحفظ کی قسم کھائی تھی، اس نے کروڑوں انسانوں کی چین کی نیند کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی.

آج کا میچ اس سیکورٹی گارڈ کے نام جو چند ہزار روپے کی تنخواہ کے لیے کسی واک تھرو گیٹ پر کھڑا ہر ایک کی تلاشی لیتا ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے سینے کے ساتھ ایک بم بندھا ہو سکتا ہے جو ایک لمحے میں پھٹ جائے گا اور اس کے تمام خواب فضا میں بکھر جائیں گے، اس کا تو لاشہ بھی سلامت نہیں رہے گا، لیکن وہ یہ کام کرتا ہے اور بخوبی کرتا ہے.

آج کا میچ اس اعتزازاحسن کے نام جس نے ایک خودکش کو ایسا دبوچا کہ سینکڑوں معصومین کی جانوں پر احسان کر گیا.

آج کا میچ اس مہاجر، پٹھان، سندھی، بلوچی، کشمیری، سرائیکی اور پنجابی کے نام جو کراچی کی کسی گلی میں صرف اس لیے اندھی گولی کا نشانہ بن گیا کہ دشمن نے ہمارے اندر چند بدبخت ڈھونڈ لیے تھے جنھیں اس نے پاکستان کی تجارتی شہہ رگ کو ناکارہ کرنے کے لیے استعمال کیا.

آج کا میچ اس بیٹی کے نام جو اپنے لیے روزی کمانے کی غرض سے گھر سے نکلنے والے باپ کو گھر کی بالکنی سے تکتی ہوئی خدا حافظ کہتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ پاپا بخیر واپس آجائیں گے اور شام کو باپ کی کٹی پھٹی لاش آجاتی ہے.

آج کا میچ ہر اس بوڑھی ماں اور باپ کے نام جن کی سلامتی کی دعائیں مقبول نہ ہو سکیں، کہیں عرش اعظم کے راستے میں ہی اٹک کر رہ گئیں.

آج کا میچ ہر اس بیٹی کے نام جس کے کھلونوں کا شاپر تو گھر پہنچ گیا لیکن وہ جس کے ہاتھ سے کھلونے وصول کرنا چاہتی تھی، وہ باپ ہمیشہ کے لیے دور ہوگیا، کیونکہ دہشت گردوں کو کسی نے بتایا تھا کہ جنگ میں عام مارکیٹیں بھی میدان جنگ کا ایک حصہ بن جاتی ہیں.

آج کا میچ اس فوجی کے نام جس کی چند دن بعد شادی تھی لیکن قوم کو اس کی ضرورت پڑ گئی اور پھر اس کی شادی پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ ہوگئی.

آج کا میچ اس بیوہ کے نام جس نے اپنا شوہر ریاست کو بخش دیا، ان معصوم بچوں کے نام جن کے لیے اب کل متاع حیات میدان جنگ میں شہید باپ کی فوجی ٹوپی اور چند تصویریں ہیں.

آج کا میچ اس پشتون کے نام جس کا گھر کسی ڈرون کی نذر ہوگیا اور اس کے ہاتھ ملبے تلے دبے ہوئے بچوں میں سے کسی کا ہاتھ، کسی کی انگلی، کسی کا سر اور کسی کا جوتا آیا، اب اسے اس ملبے پر بیٹھ کر اپنے رب سے صرف صبر درکار ہے، اس کا جواب اس نے حشر پر اٹھا دیا ہے.

آج کا میچ ان عفت ماب پشتون ماؤں بہنوں کے نام جو ایک گریٹ گیم کی وجہ سے اپنے گھروں سے بےگھر ہوگئیں، جنھیں کیمپوں میں دربدری کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں.

آج کا میچ کیپٹن مبین کی بیٹی کے نام جو آرمی چیف کی بغل میں بیٹھی ہے اور لفظ اس کے کہیں کھو گئے ہیں.

آج کا میچ امید کے نام، دہشت، وحشت اور خون کی اس ندی کے پار امید کے اس جہان کے نام جہاں پہنچنے کے لیے ہمارے بیٹے روز اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں.

آج کا میچ پاکستان کے نام جسے کبھی فرقہ، کبھی صوبائیت، کبھی نسل کے نام پر بانٹنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس دھرتی کے باسی ہمیشہ ایسے منصوبوں کے سامنے سد سکندری بن جاتے ہیں.

آج کا میچ متحد پاکستان کے نام، آج کامیچ زندگی کے نام، آج کا میچ دہشت کے سامنے امن کے عزم کے نام، آج کا نعرہ پاکستان زندہ باد، آج کا نعرہ گو دہشت گردی گو.

نوٹ: عمران خان صاحب آپ کی بات درست ہو سکتی ہے، لیکن اب چونکہ ایک فیصلہ ہو چکا ہے، اس لیے آپ کو میچ دیکھنے آنا چاہیے. جب ساری قوم ایک پیج پر ہے تو آپ بھی سٹیڈئم آجائیں تاکہ ہمارے ایکے کے پیغام کو تقویت ملے.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.