دین کی دعوت وتبلیغ میں زکوۃ کی رقم خرچ کرنا - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کیا دین کی دعوت وتبلیغ کے کام میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے مثلا وہ زکوۃ کی رقم سے قرآن مجید کے مختلف زبانوں میں تراجم شائع کروا کے غیرمسلموں میں تقسیم کروا دے۔ یا زکوۃ کی رقم سے کوئی مدرسہ یا فہم قرآن کا انسٹی ٹیوٹ بنوا دے کہ جہاں دین کی مفت تعلیم دی جائے۔ یا تبلیغی جماعت میں چار ماہ چلے میں چلنے والوں کا خرچہ اٹھا لے۔ یا دعوت وتبلیغ کے کام کا کوئی مرکز قائم کر لے وغیرہ

جواب: اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے کہ ایسے مقامات میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اور اس اختلاف کی وجہ ”فی سبیل اللہ“ کے معنی ومفہوم میں اختلاف ہے۔ قرآن مجید میں زکوۃ کے آٹھ مصارف بیان ہوئے ہیں یعنی آٹھ مقامات پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے؛ فقیر پر، مسکین پر، زکوۃ کے محکمے میں کام کرنے والوں پر، نو مسلم یا وہ غیر مسلم جو اسلام قبول کرنے کے قریب ہو، اس کی دلجوئی کے لیے، غلاموں کی آزادی کے لیے، مقروض کے قرض کی ادائیگی کے لیے، فی سبیل اللہ کے لیے اور مسافر کے لیے۔
اب "فی سبیل اللہ" کے مفہوم میں فقہاء کا اختلاف ہو گیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کا سادہ سا معنی تو یہ ہے کہ اللہ کے رستے میں زکوۃ لگائی جا سکتی ہے۔ تو اللہ کے رستے سے کیا مراد ہے؟ جمہور (majority) فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ اس سے مراد جہاد اور قتال فی سبیل اللہ ہے یعنی مجاہد کے سامان جہاد وغیرہ کے لیے زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔ بعض فقہاء نے اس مفہوم میں مزید وسعت پیدا کی ہے کہ اس میں مجاہد کے علاوہ حج اور عمرہ کرنے والا بھی شامل ہے کیونکہ وہ بھی اللہ کے رستے میں ہی ہے۔ یہ امام محمد اور حنابلہ کی ایک جماعت کا موقف ہے۔

بعض فقہاء نے ”فی سبیل اللہ“ کے مفہوم کو مزید وسعت دیتے ہوئے دین کے طالب علم کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے، یہ بعض حنفی فقہاء کا موقف ہے۔ اور بعض فقہاء نے اس کا مفہوم بہت ہی وسیع کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ہر نیکی اور خیر کا کام "فی سبیل اللہ" میں شامل ہے، یہ زیادہ تر معاصر فقہاء کا موقف ہے۔ اس موقف کے مطابق زکوۃ کی رقم فی سبیل اللہ کنواں کھدوانے میں بھی لگائی جا سکتی ہے کہ پیاسے کو پانی پلایا جا سکے اور گلی میں کھلے گٹر کو بند کروانے کے لیے بھی تا کہ اہل ایمان کو اذیت اور نجاست سے بچایا جا سکے۔

ہماری رائے میں ”فی سبیل اللہ“ سے مراد ہر کار خیر یا نیکی کا کام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ”جہاد“ ہی ہے لیکن جہاد سے مراد صرف قتال یا جنگ نہیں ہے بلکہ جہاد سے مراد، دین کے غلبہ کے لیے کی جانے والی کسی بھی قسم کی جدوجہد اور کاوش ہے۔ پس دعوت و تبلیغ، تحریر و کتابت، تعلیم و تربیت اور درس وتدریس کی ہر وہ ایکٹوٹی کہ جس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں دین پھیل جائے، عام ہو جائے، غالب ہو جائے، تو اس کے لیے زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔ یہی معاصر علماء میں سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی، ڈاکٹر سلمان العودہ وغیرہ کی رائے ہے۔

باقی تملیک یعنی زکوۃ کی رقم کا مالک بنانا وغیرہ جیسے فقہی ضابطوں پر بہت مغز ماری ہو چکی ہے، اب ہمیں اس سے آگے نکل آنا چاہیے۔ مدرسہ میں زکوۃ کی رقم لگانے کے لیے خواہ مخواہ حیلہ کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ پہلے طالب علم کو مالک بناؤ. مدارس اسلام کے قلعے ہیں، ان میں زکوۃ کی رقم لگ سکتی ہے، آسان سی بات ہے۔ ہم غزو فکری (intellectual war) کے دور میں سانس لے رہے ہیں۔ حکمت قرآن کا ایک خصوصی شمارہ اس موضوع پر شائع ہوا تھا کہ جس میں تملیک کے بارے دونوں طرف کے دلائل کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */