شرک کا انکار، شکر کا اظہار - نورین تبسم

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
(غالب)
”زندگی ہمیں ہر وقت ہر لمحہ کچھ نہ کچھ دیتی رہتی ہے ہم زندگی کو کبھی کچھ نہیں دے سکتے.“
پیدائش کے روز ِاوّل سے زندگی کے آخری سانس تک حیات ِانسانی کو دیکھا جائے تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔

انسان ایک ایسا پیراسائیٹ ہے جو کائنات کی ہر شے کا محتاج ہے، اُس کے پاس تو اتنی اہلیت بھی نہیں کہ بوقت ِضرورت اپنے اندر سے خوراک لے کر جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ سانس کے لیے آکسیجن چاہیے، بھوک کے لیے خوراک اور پیاس کے لیے پانی۔ یہ تو وہ نعمتیں ہیں جو ہرانسان کی لاشعوری اور لازمی ضروریات ہیں۔ اس کے جواب میں ذرا سوچیں تو ہم کیا دیتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ایسا مواد جسے ہمارا جسم ایک پل کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ سوچیں کہ ہمارا جسم تو ناشکرگُزاری کے خمیر سے بنا ہے جب ہم لاشعوری طور پر کچھ اچھا نہیں دے سکتے تو شعوری طور پر کیسے اچھے ہو سکتے ہیں؟ پھر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ کیوں دیا گیا؟ انسان ایک بےحقیقت شے ہے تو پھر انسان کی اصلیت کیا ہے؟ یہ اصل سوال ہے جس کا جواب ہمیں تلاش کرنا ہے۔

انسان جسم اور روح سے مل کر بنا ہے اگر جسم کی ضروریات ہیں تویقیناً روح کی بھی ہوں گی ،جسم کی مانگ ہے تو روح کوبھی خوراک چاہیے۔ جسم دِکھتا ہے اس کی طلب نگاہوں کے سامنے ہے تو روح کی طلب نگاہوں سے پرے ہو گی۔ جسم اگر بھوک سے تڑپتا ہے تو روح کو بھی قرارنہ ہوگا۔ ہماری تمام عمر جسم کو ضروریات کی فراہمی پر ہی خرچ ہو جاتی ہے۔ یہی سب سے بڑا کارنامہ ہوتا ہے۔ ہماری شکرگزاری کی انتہا بھی جسم سے شروع ہو کر جسم پر ہی ختم ہوتی ہے۔ آنکھوں سے دُنیا دیکھتے ہیں، کانوں سے سنتے ہیں، زبان سے چکھتے ہیں، ناک سے سونگھتے ہیں، ہاتھوں سے محسوس کرتے ہیں، دماغ سے سوچتے ہیں، عقل سے پرکھتے ہیں، دل سے جذبات نگاری کرتے ہیں، اِسی جسمانی مشقت میں اپنے تئیں شانت ہو کر راہی مُلکِ عدم ہوتے ہیں۔ اپنے ہم زاد کے بارے میں کبھی سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی جو جسم ِانسانی کی اصل ہے۔

جسم تو ایسا غبارہ ہے جو ہوا میں ادھر ادھر بڑا اتراتا پھرتا ہے، اپنے رنگ ڈھنگ اور جسامت سے دوسروں کو متاثر کرتا ہے، اپنی اُڑان سے لوگوں کو دم بخود کر دیتا ہے۔ یہ وہ تتلی ہے جو اپنے دلفریب رنگوں اور سُبک اُڑان سے نظروں کو مائل کرتی ہے، جسے چھونے اور پانے کی خواہش دیکھتے ہی پیدا ہو جاتی ہے، لیکن جیسے ہی وہ تتلی وہ غبارہ قضا کی دسترس میں آتے ہیں اور اُس کے نوکیلے کھردرے لمس سے اُن کا جو حشر ہوتا ہے، وہی ہمارے لیے زندگی کی حقیقت جاننے کو کافی ہے۔ جسم کی شان جسم کی آن روح سے ہے. جسم سے روح جُدا ہوتی ہے تو وہ مٹی کے بدبودارڈھیر کے سوا کچھ نہیں رہتا ۔انسان کے دُنیا سے سارے رشتے ساری محبتیں سارے بھروسے صرف اور صرف اس وقت تک باقی ہیں جب تک روح جسم کا ساتھ دیتی ہے۔ روح کے نکلتے ہیں گوشت پوست کے انسان اُسے صرف مٹی جانتے ہوئےجلد از جلد مٹی کے حوالے کرنے کو ہی سب سے بڑی نیکی اور اپنی محبت کی معراج سمجھتے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ہمارے وہ ساتھی وہ دوست جو ہمیں محسوس کرتے ہیں جو ہمارے کہے بغیر ہمیں فیض پہچاتے ہیں جن سے ہمارے خیال میں روح کا رشتہ ہوتا ہے جن سے ہماری ریز ٹکراتی ہیں تو ہماری اور اُن کی ویو لینتھ ایک ہو جاتی ہے ۔اُن کا اور ہمارا ساتھ بھی اسی دُنیا تک ہی رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیکی کا شکر اور توفیق - بشیر عبدالغفار

کچھ ”بانصیب“ بدنصیب ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے جسم کی خوراک کوئی معنی نہیں رکھتی، وہ جسم کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ روح کی خوراک کی تلاش میں رہتے ہیں اور نوازنے والا عطا کرتا جاتا ہے۔ خواہش ابھی خیال کی پہلی سیڑھی پر ہی آتی ہے کہ مالا مال کردیا جاتا ہے۔ دینے والا صدا لگاتا ہے اور تمہیں کیا چاہیے۔ اس کے دینے کی حد ختم نہیں ہوتی، ہمارا دامن چھوٹا پڑ جاتا ہے، ہم روپے دو روپے مانگتے ہیں تو وہ ان داتا پورے خزانے پر بٹھا دیتا ہے، یہاں تک کہ ہماری طلب ختم ہو جاتی ہے، اس کی عطا جاری رہتی ہے۔ اس رام کہانی میں جب احساس ہوتا ہے کہ یہ جسم کے رشتے یہ روح کے رشتے، یہ جسم کی طلب یہ روح کی ضروریات صرف اور صرف ایک اچھی اور بھرپور زندگی کا لُطف اٹھانے کے لیے ہی ہیں۔ انسان کی بھوک ایسا طاقتور شکنجہ ہے جس کی گرفت میں جسم اور روح برابر کسے جاتے ہیں، جسم کی بھوک کے سامنے انسان کی ساری اخلاقیات سب تہذیب دھری کی دھری رہ جاتی ہے، ساری محبتیں ساری نفرتیں فقط روٹی کے ایک نوالے کی محتاج ہیں، انسان اپنی عمر بھر کی کمائی، دنیا جہان کی بادشاہت پانی کے ایک گھونٹ کے لیے قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ایمان اور دین داری بھوک پیاس کی شدت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی نظر آتی ہے۔ روح کی بھوک بظاہر محسوس تو نہیں ہوتی لیکن ایک مدہم سی خلش ساتھ چلتی ہے۔ اللہ کے کرم سے جب یہ احساس بیدار ہو جائے کہ کیا اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ محض اس وجہ سے دیا ہے کہ ہم دنیا کی زندگی میں آخرت کی فکر کریں جسمانی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے روح کی پکار بھی سنیں کیا حیوان اور انسان میں بس یہی فرق ہے کہ وہ جسم ہے اور ہم جسم کے ساتھ روح سے بھی واقف ہیں؟ کیا دُنیا داری کے ساتھ دین داری احسن طریقے سے ادا کرنا ہی ہمارا اول وآخر ہے؟ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا کر کے ہم اللہ سے اپنی مزدوری کی قیمت بڑے فخر سے مانگیں کیا یہی ہماری کامیابی ہے ؟ تخلیق ِانسانی کا مقصد بس یہی ہے کیا ؟ ایسا بالکل بھی نہیں اس سوال کا جواب شکر گزار لوگ ہی دے سکتے ہیں۔

انسان کے شرف کی سب سے بڑی خوبی سب سے بڑی وجہ شُکر کا جذبہ ہے۔ شُکر کیا ہے ؟
اللہ نے آپ کو بہتر سے بہترین نوازا ،جو مانگا ملا، جو چاہا پا لیا ،جس سے بھاگے پلٹ گیا، دین و دنیا کی دولت ملی تو رب کے حضور جھک گئے۔
نہیں! بلکہ شکر کی اصل یہ ہے کہ اللہ نے جو دیا، جیسا دیا، جس حال میں رکھا، جس سے محروم رکھا، جس خواہش کو کسک بنا دیا، نعمت دے کر واپس لے لی غرض ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ کیا یہ وہی بات ہے جو خالق نے مخلوق کے خمیر میں سب سے پہلے شامل کی؟ یہ بھی ہمارے سوال کا جواب نہیں۔ تو پھر ہمارا سب سے پہلا سبق، ہمارے نصاب کا پہلا حرف کیا ہے؟ ذرا غور کریں تو بات سمجھ آتی ہے۔ ہماری عقل کی معراج ہمارے مسائل کا حل صرف ”الف“ میں ہے ہم ’الف‘ چھوڑ کر’ے‘ تک تمام اسباق حفظ کرنے میں عمر گزار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو اس راز کو پا گیا، وہ دنیا کی نظر میں ہوش وخرد سے بیگانہ ہو گیا۔ اللہ نے اسے اتنے واضح طور پر بتا دیا کہ سمجھ آجائے تو اپنی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کہ اتنی روشنی کے باوجود دکھائی کیوں نہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نیکی کا شکر اور توفیق - بشیر عبدالغفار

اللہ نے انسان کو بندگی کے لیے کوئی لمبی چوڑی فہرست نہیں تھمائی، صرف اور صرف ایک بنیادی بات قرآن پاک کے راستے ہمیں یہ بتائی ہے کہ انسان کا سب سے بڑا گناہ شرک ہے جسے ظلم ِعظیم کہا گیا۔ ہم مسلمان اس بات کو اپنے ایمان کا حصہ جانتے ہیں لیکن اس زعم میں بھی مبتلا ہیں کہ یہ پرانے دور کی بات ہے، جب بت پرستی ہوتی تھی، ہم تو بہت عقل مند ہیں، بھلا بُت بھی خدا ہو سکتے ہیں، یہ سب دور ِجاہلیت کے قصے ہیں، ہم تو جدی پشتی مسلمان ہیں، شرک کا سوچ بھی نہیں سکتے لہذا سب سے بڑے گناہ سے ہمیشہ کے لیے بچ گئے، لیکن ذرا سوچیں کہ اللہ نے زندگی کے امتحان میں پاس ہونے کے لیے اتنا آسان سوال کیوں رکھا جس کا جواب ہر جاہل و عالم بخوبی جانتا ہے، اور جس کے جواب کے لیے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کرنی، بس دل ہی دل میں اللہ اللہ کہہ دیا اور بیڑہ پار۔ ایسا نہیں ہے۔

ہمیں لفظ شرک پر غور کرنا چاہیے۔ یہ وہ الف ہے جس کے بارے میں سوچنے لگیں تو خیال کی پرواز کائنات کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ اپنے آپ سے شروع کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شرک سے بچاؤ، بس یہی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کچھ نہ سوچا جائے۔ اپنے ہر سانس ہر سوچ ہر عمل ہر رشتے ہر طلب ہر جزا ہر سزا میں اللہ کے سوا کسی اور چیز کا شائبہ تک نہ ہو جو مانگیں اللہ سے مانگیں ۔ ہمیں اپنے خون کی روانی میں اللہ کو شامل کرنا ہے۔اللہ کی رضا ہر حال میں ہر خیال میں سامنے رکھنی ہے۔اپنی ہر خواہش ہر کسک کو اپنے رب کے سامنے جھکانا ہے۔

شرک کیا ہے --- شریک کرنا -- شئیر کرنا -- اگر اپنے نفس کی بات ماننا بھی شرک ہے --- اپنی عقل پر بھروسہ کرنا بھی شرک ہے --- اپنے دل کی سننا بھی شرک ہے تو پھر انسانوں کے ساتھ اپنی سوچ شئیر کرنا تو ہماری ہلاکت کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔ اتنی گھٹن میں پھر ہم کیا کریں -- اس کے لیے اللہ سے رجوع کریں تو جواب مل جاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں اللہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اتنی سی بات اگر مان بھی لیں تو مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ ہمارا کوئی قول کوئی فعل اللہ سے پوشیدہ نہیں، وہ دلوں کے راز خوب جانتا ہے-یہ آیات ہم پڑھتے رہتے ہیں لیکن غور نہیں کرتے ۔ جس روز قرآن پڑھنے کی بجائے ہمارے اندر جذب ہونے لگ جائے گا اُس دن سے ہمارے اندر کی کشمکش کو قرار مل جائے گا ہمارا اپنے نفس کے ساتھ جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ ہم نے صرف ایک کام کرنا ہے اور ایک کام چھوڑنا ہے۔ ہر حال میں شرک سے بچنا ہےاور ہر وقت رب کا شکر ادا کرنا ہے۔

یہ کیا عجیب بات ہے کہ انہی تین حروف میں ہماری سزا وجزا ہے اورانعام بھی انہی میں چھپا ہے۔ ”شرک“ کا انکار کرنا ہے اور ”شکر“ کا اقرار کرنا ہے اگر یہ مرحلہ طے کر لیا تو قابل ”رشک“ دنیاوی اور اللہ سے امید کرتے ہیں کہ آخرت میں نجات کا ذریعہ بھی یہی ہو گا ۔

دریا کو کوزے میں بند کریں تو شرک کو اپنی زندگی سے نکالنا ہے اور شکر کو ساتھی بنانا ہے تب ہی ہم اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر رشک کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
شرک کا انکار کرنا ہے
شکر کا اظہار کرنا ہے
”رشک کے قابل ابدی زندگی کی امید رکھنا ہے"۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں