مدینہ منورہ کی موت اور خوش نصیب لوگ - غلام نبی مدنی

صحابی جلیل عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ”کہ جو کوئی مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھے، اسے چاہیے کہ وہ مدینہ میں مرے، کیوں کہ جو مدینہ میں مرے گا، میں اس کی شفاعت کروں گا“ (ترمذی)۔

امام بخاری ؒ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے لکھا ہے کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ ”اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت کی موت عطا کر اور میری اس موت کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں عطا کر“۔ امام بخاری ؒ دوسری جگہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ سے محبت اور مدینہ منورہ میں موت اور دفن کا ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مرض الموت میں اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کو حکم دیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر کہو کہ ”عمر سلام کہتے ہیں، لیکن خبردار امیرالمؤمنین نہیں کہنا، کیوں کہ آج عمر مؤمنین کا امیر نہیں ہے۔ کہنا کہ عمر اپنے مصاحبین (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،ابوبکر صدیق) کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے“۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر نے سلام پیش کر کے گھر میں داخل ہونے کی درخواست کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی رو رہی تھیں۔ ابن عمر نے حضرت عمر کا پیغام پہنچایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ میری خواہش تھی کہ میں یہاں دفن ہوں، آج کا دن مجھ پر بہت بھاری ہے۔ ابن عمر جب واپس گھر پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر آگئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ مجھے اٹھاؤ۔ایک آدمی نے سہارا دے کر اٹھایا تو پوچھا عبداللہ کیا جواب لائے؟ کہا جو امیرالمومنین چاہتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی۔ حضرت عمرنے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑھ کر میرے لیے کوئی اور چیز اتنی زیادہ اہم نہ تھی۔

خلیفہ راشد عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ سے محبت، مدینہ منورہ میں موت اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی تمنایوں ہی نہ تھی، بلکہ آپ نے مدینہ منورہ کے فضائل اپنے کانوں اور آنکھوں سے دیکھ اور سن رکھے تھے۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر سے واپسی پر مدینہ منورہ کی محبت میں بے چین ہو جانا، مدینہ منورہ میں بیماری اور تنگ دستی دیکھ کر اپنے رب سے مکہ کی بہ نسبت ہر چیز میں دوگنی برکت کی دعا کرنا اور مدینہ منورہ کی غبار کو شفا قرار دینا، شوق محبت میں حرمِ کعبہ کی طرح مدینہ منورہ کو حرم قرار دے کرحدود متعین کرنا، مدینہ منورہ میں اپنی مسجد کے ایک حصے یعنی اپنے منبر سے اپنے حجرہ مبارک تک کی زمین کو جنت کی ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا بتانا، یہ وہ سب فضائل اور خصوصیات ہیں مدینہ طیبہ کی جن کی وجہ سے صحابہ کرام سے لے کر آج تک دنیا کے ہرمسلمان کے دل میں یہ خواہش برابر ہوتی رہی ہے کہ اسے مدینہ منورہ کی دائمی سکونت نصیب ہو، اسے موت آئے تو مدینہ منورہ میں آئے اور جنت البقیع میں دفن ہونا نصیب ہو، جہاں دس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام سمیت اہل بیت و ازواج مطہرات اور بڑے بڑے اولیائےکرام مدفون ہیں، یا کم ازکم اسے زندگی میں مدینہ منورہ دیکھنے کی باربار نہ سہی ایک بار ہی دیکھنے کی سعادت مل جائے۔

مدینہ منورہ سے جڑی مسلمانوں کی اس گہری عقیدت کے پیچھے بس ایک ہی ہستی ہے جن کی محبت ہر مسلمان کے لیے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچوں اور دنیا کی ہرچیز سے بڑھ کر ہے۔ یہ عقیدت چودہ سو سالوں سے یوں ہی متواتر سینہ بہ سینہ، نسل در نسل چلی آرہی ہے، اور ان شاءاللہ قیامت تک یہ عقیدت اور محبت یوں ہی برقرار رہی گی۔ ہردور میں مسلمانوں کی خواہش رہی ہے کہ انہیں مدینہ منورہ کی موت اور مدفن نصیب ہو۔ ہر زمانے کے لوگ اپنی اس آرزو کو پورا کرنے اور مدینہ منورہ کی مبارک مٹی کی خاطر دور دراز سےگھر بار چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے مدینہ منورہ چلے آتے تھے۔ شارح مسلم امام نوویؒ نے مدینہ منورہ میں موت کی دعا کرنے کو مستحب لکھا ہے، جبکہ دیگر علماء نے مدینہ منورہ میں دفن ہونے کو مستحب قرار دیا ہے۔ مسلمانوں میں مدینہ منورہ سے والہانہ عقیدت کا یہ حال رہا ہے کہ سالہاسال گزرنے کے باوجود لوگ مدینہ منورہ سے باہر نہیں نکلتے تھے کہ مبادا کہیں مدینہ طیبہ سے باہر موت آجائے۔ امام مالک ؒ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ اس خوف سے مدینہ سے باہر نہ جایا کرتے تھے کہ کہیں موت نہ آجائے۔ آج بھی مدینہ منورہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سالہا سال سے صرف اس غرض سے یہاں مقیم ہیں کہ انہیں ہمیشہ کے لیے جوارِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نصیب ہو جائے۔ لیکن خدا کی مرضی جسے جہاں چاہے موت عطاکرے۔

بہت سے لوگ گزرے جو مدینہ منورہ میں برسوں مقیم رہے لیکن ان کے جانے کا وقت آیا تو موت انھیں کہیں اور کھینچ کر لے گئی۔ چند دن پہلے اس قسم کا ایک واقعہ دیکھنے کو ملا۔ لگ بھگ ساٹھ سال سے مدینہ منورہ میں مقیم 90 سالہ پاکستانی شہری سردار میر عالم خان لغاری (جو جنوبی پنجاب کے مشہور لغاری خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ الحدیث علامہ یوسف بنوری ؒ کے دور میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے ناظم تعلیمات ہوا کرتے تھے) رحیم یار خان میں وفات پاگئے۔ موصوف کی خواہش تھی کہ انہیں مدینہ منورہ میں موت آئے اور یہاں کی مٹی نصیب ہو، اسی خواہش کے لیے نصف صدی مدینہ منورہ میں گزار دی، لیکن خدا کی لکھی ہوئی تقدیر کو کون ٹال سکتا ہے۔گزشتہ سال حج کے بعد پاکستان سے واپس آئے تو پکا ارادہ کر لیا کہ اب امام مالک ؒ کی سنت پر عمل کریں گے اور مدینہ منورہ سے باہر ہرگز نہیں جائیں گے، لیکن خدا کی شان چند دن پہلے ان کے گھر والوں نے پاکستان بچوں کی شادی پر مجبور کر کے بلا لیا۔ پاکستان پہنچتے ہی طبیعت خراب ہوئی جو سنبھل نہ پائی اور مدینہ منورہ کی موت اور دفن کی حسرت لیے رب کے حضور جا پہنچے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور مدینہ منورہ کی موت کا نعم البدل عطا کرے۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی گزشتہ دنوں دیکھنے کو ملا۔ راقم کے محسن استاد مولانا احسان اللہ (استاد جامعہ دارالعلوم رحیمیہ ملتان) کے والد ماجد غلام میرخان جنہوں نے گورنمنٹ سکول سے ریٹائر ہونے کے بعدتقریبا 60 سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا، چند سال مدینہ منورہ میں مقیم رہنے کے بعد رب کے حضور جا پہنچے۔ فجر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں جنازہ ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہونے کی سعادت ملی۔ موصوف کو بڑھاپے میں قرآن کریم حفظ کرتے دیکھا تو بہت رشک آیا کہ اس عمر میں قرآن کریم سے محبت، راتوں کو جاگ کر قرآن کریم کو یاد کرنا اور پھر قرآن کریم کو حفظ کر کے دکھانا واقعی ایک معجزہ تھا جو انہوں نے کر دکھایا۔ قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ مدینہ منورہ میں موت آئے۔ اپنی اس آرزو کو لیے مدینہ منورہ چلے آئے، یہاں بھی ہر وقت قرآن پڑھتے اور پڑھاتے رہتے تھے، چند سال ہی ہوئے تھے کہ رب کا بلاوا آگیا۔ اللہ کروٹ کروٹ راحت و سکون عطا کرے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطاکرے۔

سردار میرعالم خان لغاری اور غلام میر خان جیسے درجنوں لوگ ہیں، جو سالہا سال سے مدینہ منورہ میں اس نیت سے مقیم ہیں کہ انہیں مدینہ منورہ کی موت اور جنت البقیع میں دفن ہونا نصیب ہو جائے۔ کئی بار تو پاکستان سے حج اور عمرے پر آئے بزرگ زائرین کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر والوں سے کہہ کر آتے ہیں کہ اب کی بار شاید وہ مدینہ منورہ سے واپس نہ آئیں، یہاں آکر رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں کہ خدا انہیں مدینہ منورہ میں ہمیشہ کے لیے جوارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا کر دے۔ بہت خوش نصیبوں کی یہ دعا قبول ہو جاتی ہے اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو سالوں سال مقیم رہنے کے باوجود بھی مشیت الہی سے یہاں دفن نہیں ہو پاتے۔
[pullquote]ذَٰلِكَ فَضْلُ اللہ يُؤْتِيہ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللہ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔[/pullquote]

اللہ رب العز ت سے دعاہے کہ ہمیں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع، مدینہ منورہ کی محبت اور مدینہ منورہ کی موت اور جنت البقیع میں دفن ہونا نصیب کرے۔آمین

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.