بچوں کے قلندر نام رکھو – افشاں نوید

سیہون شریف کی درگاہ کے دھماکے نے درگاہوں کو میڈیا کا موضوع بنادیا ورنہ تو یہ ذہن سے نکل ہی جاتا ہے کہ یہ درگاہیں بھی ہمارے اسی سماج کا حصہ ہیں اور کسی پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع بن سکتی ہیں، اگر کوئی غیر ملکی سیاح پاکستان کی درگاہوں کی سیاحت کرے تو اس کو ایک کتاب کا مواد دستیاب ہوسکتا ہے اور ”سیونگ فیس“ کی طرح وہ بھی پاکستانی ثقافت کا ایک چہرہ دُنیا کو دکھا کر اپنی ڈاکومینٹری پر آسکر ایوارڈ حاصل کرسکتا ہے۔

مانا کہ ہر سماج میں خیر بھی ہوتا ہے اور شر بھی ساتھ ساتھ موجود ہوتا ہے، ہماری دنیا میں جگہ جگہ مصروف نائٹ کلب ہوتے ہیں، شراب خانے ہوتے ہیں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے جس کو جاننے کی کوئی خاص ضرورت بھی ہر ایک کو نہیں۔ یورپ میں ہم جنس پرستی کے نہ صرف مراکز ہیں بلکہ معروف این جی اوز اس کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتی ہیں۔ وہاں ان سب چیزوں کو جرم نہ سمجھنا اور قانون کی سرپرستی حاصل ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ ان برائیوں کو برائی نہیں سمجھتے بلکہ انسانی آزادی پر کسی قدغن کے روا دار نہیں۔ جہاں ماؤں کے رحم بک جاتے ہوں وہاں منڈی میں بکنے سے رہ کیا گیا؟؟

خیر، ہمیں کیا لینا دینا ان منڈیوں سے ہمارا لینا دینا تو اس سماج کے ساتھ ہے جہاں مذہب کے پردے میں ہر برائی کے ساتھ عقیدت مندی وابستہ ہوجاتی ہے۔ مثلاً مذہب کے نام پر سڑکیں بند کردی جائیں، مذہبی شخصیات کے یوم وفات سے چہلم تک شہروں کی جس سڑک کو چاہیں بند کردیں، ہسپتال جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیں، تب بھی ہماری نظریں عقیدت سے جھکی رہیں گی کہ مذہبی جلوس گزرتے ہیں۔ ایسا ویسا کچھ سوچنا بھی نہیں چاہیے کہیں رہے سہے ایمان سے بھی محروم نہ ہوجائیں!!!

بچپن میں ہمارے محلے کی مسجد میں کوئی مولانا صاحب جس وقت جی چاہتا لاؤڈ اسپیکر پر نعتیں پڑھنا شروع کردیتے، قرأت شروع کردیتے۔ ہم سب عقیدت سے محو سماعت ہوجاتے، بلکہ گھر کے بچوں کو بڑے خاموش کراتے کراتے تھک جاتے کہ قرأت ہورہی ہے خاموشی سے سنو۔ یا نعت شریف پڑھی جارہی ہے شورو غل نہ کرو۔ دو نابینا بھائی تھے پتا نہیں کہاں سے آئے تھے مگر ہر جمعرات اور جمعہ کو گھنٹوں محلے کی گلیوں میں جس گھر کے سامنے جی چاہتا کھڑے ہو کر تلاوت شروع کردیتے۔ گلیوں میں سارا دن ان کی ”ایکو“ رہتی مگر مجال ہے جو کوئی انہیں منع کرکے اس کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا۔ جس کو دینا ہوتا دے دیتا نہ دینے والوں کے لیے وہ برابر گھوم گھوم کر ہر دروازے پر تلاوت کرتے رہتے۔ گلی محلوں میں ہم نے بہت سے مجذوب اور ”بے حال” لوگوں کو دیکھا اپنے بچپن میں، جن کو ”ولی“ کہہ کر اکرام دیا جاتا۔ یقیناًاس سے مراد ولی اللہ ہی ہوتی ہوگی۔ اس وقت معصوم ذہن میں کبھی یہ بات نہ آئی کہ ہم بھی محلے کی کسی خالہ یا خالو سے یہ سوال کرلیتے کہ ”ولایت“ کے لیے کیا عقل سے ماوراء ہونا ضروری ہے۔ ہمدردی بالکل ایک الگ چیز ہے جو کی جانی چاہیے مگر کسی سر پھرے کو ”کمال” کے درجے پر فائز سمجھنا خود عقل کا ”کمال“ ہوسکتا ہے!!!

اب سادہ سی بات ہے کہ وہ افعال جو کسی عوام مقام پر ہوں تو ہم انہیں معیوب گردانیں گے مگر وہی افعال کسی درگاہ میں ہوں تو عبادت کے زمرے میں آجاتے ہیں۔ ہم تعلیمی اداروں میں ناقص تعلیم پر فکر مند ہیں۔ ہسپتالوں میں سہولتوں کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں، میڈیا کو قبلہ درست کرنے پر توجہ دلاتے ہیں، دیگر سماجی اداروں کی ناگفتہ بہ حالت کا نوحہ کرتے ہیں مگر یہ توجہ کس کی ذمے داری ہے کہ یہ درگاہیں بھی اہم ترین سماجی ادارے ہیں۔ یہاں کیا ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ کس کے ایماء پر کررہا ہے؟ یہ کب تک ہوتا رہے گا؟ اس کے سماج پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟ یہاں کی اصلاح کس کی ذمے داری ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

جیسے نابینا قاری اور مسجد کے مولوی کو بے وقت لاؤڈ اسپیکر کھولنے پر منع کرنا ایمانی حرارت کو زیب نہیں تھا اسی طرح درگاہوں کے بارے میں لکھنا یا بولنا پتا پانی کرنے کے مترادف ہے!!!

ایسا نہیں کہ جنہیں جاننا چاہیے وہ جانتے نہیں ہیں اس لیے درگاہیں آج شرک کے گڑھے بنی ہوئی ہیں اور مفاد پرستوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ۔ ان درگاہوں سے جدّی پشتی آمدنی کے سلسلے وابستہ ہیں، عقیدت کے نام پر لوگوں کے ایمان اور جیب دونوں کے سودے ہوتے ہیں۔

اندرون سندھ میں ہم نے ہر چند فرلانگ پر ایک ایسی درگاہ دیکھی ہے۔ کسی اونچے سے چبوترے کو بانسوں کے سہارے چھپر ڈال کر چاروں طرف 4 جھنڈے سبز رنگ کے لگادیے کچھ لوبان اور اگر بتیوں کی خوشبو کا اہتمام کسی ”ولی“ نے کردیا اور یوں یہ مقامات مرجع خلائق بن جاتے ہیں۔ لوگ نیازیں چڑھانے چلے آتے ہیں، منتیں مانتے ہیں، وہاں دھاگے باندھتے ہیں مرادوں کے، منتیں مرادیں تو پوری ہوتی ہیں انسان کی، وہ درگاہ نہ بھی جائے پھر بھی مہربان ربّ منتیں مرادیں تو مشرکین وفاجرین کی بھی پوری کررہا ہے کہ اصل میں تو یہ امتحان گاہ ہے، نتیجہ گاہ نہیں، سو مرادیں پوری ہونے پر لوگ نذرانے چڑھانے یہاں آتے ہیں کہ اس پیر فقیر کی برکت سے ایسا ہوا۔ اب وہ پیر یا ولی تو موجود نہیں نذرانہ وصول کرنے کے لیے لہٰذا یہ آمدنی کا مضبوط ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہم نے ایسے ایسے پیروں، فقیروں کے مزارات عوامی مقامات پر دیکھے جن کے کبھی نام تک نہیں سنے، نہ کسی کتاب میں ان کی خدمات مذکور ہیں، مگر وہ وہاں کی آبادیوں کے لیے مرجع خلائق ہیں اور ان کے نام پر کاروبار خوب چمک رہا ہے۔

ارے بے چارے گاؤں دیہات کے ناخواندہ لوگوں کو چھوڑیے، پچھلے ہفتے ہم ایک ہسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھے تھے، برابر بیٹھی خاتون سے ہم نے دریافت کرلیا کہ انہیں کس ڈاکٹر کو دکھانا ہے، بولیں شوہر کو ڈپریشن ہے ان کا ماہانہ چیک اپ ڈاکٹر فلاں یہاں کرتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ یہاں آئی ہوں۔ ہم سے ہمدردی پا کر سلسلہ بیان کو انہوں نے کچھ طول دے دیا، بولیں روحانی علاج بھی مسلسل کئی سال سے کرارہی ہوں، ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ متمول خاندان سے تعلق ہے، ہم نے بے تکلفی سے پوچھ لیا کہ میاں بیمار ہیں تو ذریعہ معاش کیا ہے؟ بولیں چلتا ہوا بزنس ہے دونوں بیٹوں نے سنبھال لیا ہے۔

ہاں روحانی علاج کا سن کر ہم پہلو بدل کر پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوئے کہ جان سکیں اس روحانی علاج کی حقیقت۔ بہت سادگی سے انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ کلفٹن پر ایک پیر صاحب پچیس ہزار روپے کا تعویذ دیتے ہیں۔ ”پچیس ہزار“ بےخودی کی حالت میں ہم نے دھرایا۔ ہماری حیران کو دور کرتے ہوئے وہ بولیں کہ جی ہاں بہت معروف پیر ہیں دور دور سے لوگ آتے ہیں۔ (ہمارے ہاں معروفیت کے لیے دور دور سے آنا بھی شرط ہوتا ہے)۔ ہم نے اُلجھتے ہوئے استفسار کیا کہ لوگ کہیں سے بھی آتے ہوں تعویذ میں پچیس ہزار کا کیا خرچ ہوتا ہے؟ بولیں ارے آپ کو پتا نہیں تعویذ ”خالص زعفران“ سے لکھتے ہیں وہ کئی ہزار روپے تولا آتا ہے۔ پھر آستانے پر مریدین کے لیے جو بکرے وغیرہ ذبح ہوتے ہیں اس کا خرچ بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ اچھی بھلی پڑھی لکھی خاتون تھیں بولیں ڈاکٹر کی دوا سے تو افاقہ نہیں ہوتا ہاں روحانی علاج پر میرا بڑا ایمان ہے۔ اب تو بقول ان کے وہ اپنے سارے خاندان کو متعارف کراچکی ہیں ان روحانی بابا سے۔ بلکہ ان کا بہت اصرار تھا کہ ہم بھی ان روحانی بابا سے رجوع کریں جن کا کلفٹن پر معروف آستانہ ہے۔ ہم نے ہلکی سی وضاحت کردی کہ ہم تو معمولی انفیکشن کی دوا لیتے ہیں فی الحال ہماری روح کو تو ایسے کسی علاج کے لیے آستانے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی!!

یہ ہے ہمارے عقائد کی دُنیا۔ اور لوگوں کا ہماری کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا۔ درگاہوں پر جو کچھ ہوتا ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے؟ اور افسوس کہ کبھی کسی کو اس پر افسوس تک نہیں ہوتا۔ سہون پر انسانی جانوں پر افسوس برحق ہے مگر کتنے ایمان کہاں کہاں قربان ہورہے ہیں اس پر افسوس کی بھی ہمیں فرصت نہیں۔ ان درگاہوں پر دھمال ہوتے ہیں، قوالیاں ہوتی ہیں، لوگ ”حال“ میں آجاتے ہیں، وہ وہ حرکتیں ہوتی ہیں کہ کسی دوسرے پبلک مقام پر ہوں تو لوگ ناک پر رومال رکھ کر گزرنا پسند کریں مگر درگاہوں پر جانے والے کتنے لوگوں کو نفسیاتی ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہیے۔ کتنوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ روزگار یہاں مدفون شخصیات نہیں حکومت کو فراہم کرنا چاہیے، کتنوں کو پتا نہیں کہ ان کی صحت کا مسئلہ یہاں دھمال ڈالنے سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے ہسپتالوں کی ضرورت ہے!!۔ یہ ناسمجھی تو بڑی برکت ہے وہاں کے جاگیردار، وڈیرے، ایم این اے، ایم پی اے خوش ہیں کہ پریشان حال ”غمزدہ“ دُکھوں کی ماری خلق خدا دھمال ڈالتی رہے اور الیکشن میں انہیں ووٹ دیتی رہے۔ گاہے گاہے وہ بھی دیگیں اور نذر و نیاز اپنی درگاہوں پر بھیج کر اپنے بھوکے ووٹروں کا پیٹ بھرتے رہتے ہیں۔ ان درگاہوں کی طرف توجہ دینا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ ان کے سروے ہونا چاہئیں، آمدنی کے ذرائع پتا ہونا چاہیے، آنے والوں کے کوائف کا ریکارڈ ہونا چاہیے، ماہرین نفسیات کو توجہ دینا چاہیے، علما کو فکر مندی ہونا چاہیے کہ ان درگاہوں پر آنے والوں کے لیے قرآن اور حدیث کی طرف رجوع کے دروازے کھولے جائیں، لوگ ان درگاہوں پر عقیدت کی پیاس بجھانے آتے ہیں ان کی عقیدت کا مرکز سیرت پاکؐ کی تعلیمات کو بھی بنایا جاسکتا ہے، یہ درگاہیں جو طویل عرصے سے عقیدتوں کے مراکز ہیں ان کو کسی قانون کے تحت لایا جائے، جیسے جیلوں میں قیدیوں کے لیے انتظام ہوتا ہے دینی تعلیمات کا بھی، نفسیاتی ڈاکٹرز کا بھی اسی طرح کے کسی انتظام کی ضرورت ان درگاہوں کو بھی ہے۔

پریشان حال مخلوق خدا مایوس ہو کر ان درگاہوں اور مزاروں کا رُخ کرتی ہے، حالاں کہ وہ پاک باز ہستیاں جو یہاں مدفون ہیں وہ تو خود دین کی تبلیغ اور خدمت کرتی تھیں، اب لوگ ان کی درگاہوں پر سجدے کررہے ہیں، دھمال ڈال رہے ہیں، رقص کر رہے ہیں، وہ درگاہیں منشیات کے اڈے بنی ہوئی ہیں، اب بتائیے شیما کرمانی سہون کی درگاہ پر رقص کرنے پہنچ گئیں اور زائرین کی فوٹو ہم نے دیکھی جو عقیدت سے ان کا رقص بسمل دیکھ رہے ہیں۔ ہماری ایک واقف کار نے اندرون سندھ کے ایک دورے کے دوران ہمیں بتایا کہ جو مقامی درگاہ ہے، اس سے متصل کمرے قحبہ گری کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ہم نے کم عقلی کا سوال کرلیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں نہیں کیا؟ بولیں جو بااثر لوگ اس میں ملوث ہیں قانون تو ان کے گھر کی باندی ہے۔ یہاں دھونس کا قانون چلتاہے، جاگیردار، وڈیرے کسی قانون کی گرفت میں کیسے آسکتے ہیں۔

سیہون کے حادثے پر قومی سوگ بھی ہوگیا، حکومتی ذمے داران کے تعزیتی بیانات بھی، امداد بھی، فوٹو سیشن بھی، تحریریں بھی اور تقریریں بھی۔ ضرورت ہے کہ درگاہوں کو اصطلاح کے مراکز بنایا جائے اور یہاں سے مشرکانہ رسوم کا خاتمہ کرکے ناجائز آمدنیوں کے کاروبار کو ختم کیا جائے، یہ ادارے معاشرتی کرب کا استعارہ ہیں اور ہماری اس سوچ کے عکس کہ
اثرات مرتب ہوئے ہیں
بچوں کے قلندر نام رکھو

Comments

FB Login Required

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

Protected by WP Anti Spam