بے لباس عنایتیں - نصرت یوسف

ہینگرز میں لٹکے سارے کپڑے ایک سے بڑھ کر ایک جاذب نظر لگ رہے تھے۔ کپڑے کی نرمی سے سلائی کی نفاست تک سب ہی عمدہ تھا۔ یہ وہ کپڑے تھے جو کستوری حیدر نے اپنے دریافت کردہ بہترین کاریگروں سے اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کرتے تیار کروائے تھے۔ ہر جوڑے پر لگا ٹیگ اس دیس کے اکثر لوگوں کی ماہانہ تنخواہ سے بڑھ کر تھا۔
کستوری حیدر کے گاہک لگے بندھے تھے، جو ان کے کام کی طرح ان کی شخصیت کے بھی مداح تھے، جو بلاشبہ دل نشیں تھی۔
کامیاب کاروباری گروں سے وہ اچھی طرح واقف تھی اور قسمت بھی اس پر مہربان تھی۔ اسی لیے اس کے گاہک ہمیشہ ہی اس سے متاثر رہتے۔

بیگم شاہنواز بھی کستوری کے پرستاروں میں سے ایک تھیں۔ خاصی دیالو، نہ بھاؤ نہ تاؤ، پسند کیا، ٹیگ پڑھا، بٹوہ کھولا، اور رقم بس ان تین مرحلوں سے کھٹا کھٹ کستوری حیدر تک پہنچ جاتی۔ دونوں ہی فریق مطمئن ہو جاتے۔ اس دن بھی بیگم شاہنواز نے پانچ سوٹ خریدے اور پانچ ہزار کے بیس نوٹ مسکراتے ہوئے کستوری کے ہاتھ میں تھما دیے۔ چلتے چلتے پانچ ہزار کا ایک اور نوٹ کستوری حیدر کو تھماتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ کیا اور روانہ ہو گئیں۔

اگلے دن کستوری حیدر کی گاڑی شہر کے گنجان علاقے میں ایک بلڈنگ کے آگے رکی۔ یہ بیگم شاہنواز کے کسی قریبی عزیز کا گھر تھا جن کی خاموش مدد کے لیے وہ کستوری کو آگے رکھتی تھیں۔
کستوری بھی اپنے مزاج اور انداز کے برخلاف کئی برس سے اس معمول کو نبھاتی کئی تجارتی کامیابیاں حاصل کر چکی تھی۔ تشکر سے لبریز آنکھیں اس کے نفس کو بھی تسکین پہنچاتیں اوروہ لوٹ آتی۔
اس دن بھی حسب معمول رقم تھما کر اس نے واپس پلٹنا چاہا، بجلی کی غیرحاضری نے اس سے روایتی خوش دلی نبھانی بھی مشکل کر دی تھی۔ لباس سے اٹھنے والی نفیس خوشبو پسینے کی باس میں گھل مل گئی تھی۔گھر سے باہر قدم رکھتے ہی اس نے پرفیوم کی بوتل نکالی لیکن اندر سے آتی آواز نے اس کو متجسس کر دیا ۔
”اب اس رقم سے بجلی کا بل بھرا جائے یا اسکول کی فیس ادا کی جائے، کوئی ان شاہوں سے پوچھے“ ۔ آواز میں بے چینی اور اضطراب گھلا پڑا تھا۔
کستوری کی پیشانی پر بل پڑگئے ”ہیں نا! ناشکرے لوگ!ــ“۔

اگلے ماہ بیگم شاہنواز کے ہاں شادی میں ”امداد لینے“ والے سابقہ حالت سے بہتر حالت میں نظر آئے۔ کستوری حیدر نے رسمی علیک سلیک کا تعلق نبھاتے ہوئے اپنی خوبصورت ساڑھی کا پلو شانے پر ٹکاتے ہوئے دل میں اٹھنے والے سوالات دبائے اور مسکراتے لبوں سے ان کی خیر خیریت دریافت کی تو خاتون کا چہرہ کھل اٹھا۔
”ماشاءاﷲ میرے بیٹے نے اس سال میٹرک کے امتحان کے بعد گھر کی ذمہ داری بھی اٹھا لی ہے“۔ انہوں نے کستوری کے خیالات سے بے خبر مسرت بھرے انداز میں اطلاع دیتے ہوئے سامنے کی جانب اشارہ کیا۔
”وہ ہے میرا بیٹا!“ کستوری نے چار و ناچار ایک بار پھر مسکراتے ہوئے اشارے کی جانب توجہ کی تو سن ہو گئی۔
”یہ تو وہ ہی خوبرو لڑکا تھا جو شہر کے پوش کمرشل ایریا میں واقع سی ڈیز کی دکان میں شیشے کی دیوار پار کھڑا بخوبی نظر آتا تھا۔ سی ڈیز کی یہ دکان خفیہ طور پر اخلاق باختہ فلموں کے لیے معروف تھی۔“
کستوری نے ہمیشہ اس دکان کے لیے دل میں نفرت ہی محسوس کی تھی اور اس انکشاف کے بعد کستوری کے دل میں ان لوگوں کے لیے ہمدردی کے جذبات یکلخت بیزاری اور کوفت میں تبدیل ہو گئے۔ مسکراہٹ جیسے سکڑنے لگی۔ دل نے فوراََ ہی فرد جرم عائد کر دی۔ جائز ناجائز کے فلسفے اور تصورات کے جملے کستوری کے پاس خاصے تھے لیکن اس وقت وہ ان خاتون سے بیزار ہو چکی تھی۔
”کتنے سال ان کے لیے خواری اٹھائی مگر ذہنیت نہیں بہتر ہوئی، لباس بیشک بہتر ہو گیا۔ روزی روٹی کے لیے کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا۔“ کستوری جیسے کیکر سی ہو رہی تھی۔ جس پر لمہ بھر میں کڑوے بوٹے اگ گئے تھے۔

نہ جانے انسان اس حقیقت سے کیوں آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ رائی بھر مدد کر کے تھال بھرے ذاتی ارمان اور شوق کی رونمائیاں اور رنگینیاں لاتعداد انسان کی زندگی میں محرومیوں اور المیوں کے وہ در کھول دیتے ہیں جن کی لپیٹ میں پورا معاشرہ آجاتا ہے۔ معاشرتی وبائیں پھیل جاتی ہیں اور شفا کے ہاتھوں میں لرزہ آجاتا ہے۔ پھر عنایتیں عنایتیں نہیں، ستم میں ڈھل کر بے لباس رہ جاتی ہیں.

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.