جڑیں زمین میں ہی اچھی لگتی ہیں ـــ محمد مبین امجد

ایک انسان کو اپنی مٹی سے جڑ کر ہی رہنا چاہیے۔۔۔۔
اس نے کہا اور اپنا سامان اٹھا کر چل دیا۔
میں نے اس کے پیچھے بھاگ کر اس کا کندھا پکڑا۔۔۔۔ مگر یار تم اس بیک ورڈ ملک میں رہو گے کیسے۔۔۔؟
یہ ملک جیسا بھی ہے میرا ہے۔۔۔ اسے میری ضرورت ہے ، یہاں کے فضاؤں نے میری سانسوں کو نہارا ہے، یہاں کی زمین سے میرا خمیر اٹھا ہے اور یہاں کے کھیتوں نے مجھے خوراک عطا کی ہے۔۔۔۔۔
اچھا تم کیا سمجھتے ہو تمہارے اس فیصلے سے یہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہو جائے گا۔۔۔؟؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ ملک ترقی نہیں کرے گا مگر پھر بھی۔۔۔۔
پھر بھی مجھے بارش کا پہلا قطرہ بننا ہی ہے۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ بارش کا پہلا قطرہ ہمیشہ فنا ہوجاتا ہے، جب وہ پیاسی اور تپتی ہوئی زمین پہ گرتا ہے تو اس میں جذب ہو جاتا ہے، اس کی ہستی مٹ جاتی ہے، اس کے باوجود تم بارش کا پہلا قطرہ بننا چاہتے ہو۔۔؟؟؟
ہاں یہ جانتے ہوئے بھی۔۔۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بارش کا پہلا قطرہ ہی لوگ اپنی ہتھیلی پہ لینا چاہتے ہیں۔۔۔
مجھے اپنا کردار ادا کرنا ہی ہے۔ اور تم تو جانتے ہی ہو ایک درخت اگر اپنی جڑیں چھوڑ دے گا تو کھڑا کیسے رہے گا؟؟؟
شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا میں جانتا تھا کہ جڑوں کے بغیر درخت کی کوئی حیثیت نہیں۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
میں نے ایف ایس سی پاس کی تو مجھے شہر کی سب سے اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ گریجوایشن کے بعد میں نے باٹنی کا ڈسپلن چنا۔۔۔ کہ فطرت مجھے ہمیشہ فینٹی سائز کرتی تھی۔۔ جنگلوں میں اوارہ گردی میرا محبوب مشغلہ تھا۔۔ اس لیے میں نے اپنے شوق کی تکمیل کیلیے باٹنی میں داخلہ لے لیا۔۔۔
میرا ہاسٹل میں تیسرا چوتھا دن تھا کہ ایک دن وہ آیا۔۔۔ میری ہی عمر کا، مجھ ایسا ہی ۔۔۔ مگر ہمارے معاشرتی سٹیٹس میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔۔۔۔ میں ایک بیوررکریٹ فیملی سے تعلق رکھنے والا نازو نعم میں پلا ہوا ایک فرد تھا جبکہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایسے لگتا تھا جیسے ابھی ابھی اپنے ابا کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے آرہا ہے۔۔۔
باوجود اس کے کہ میرا روم میٹ تھا اور اتفاق سے کلاس میٹ بھی، مگر میری اس سے کبھی نہ بنی۔۔۔
بلکہ مجھ سے ہی کیا اس کی تو کبھی بھی کسی سے نا بنی۔۔۔۔ کتنی ہی لڑکیوں نے اس کی طرف پیش رفت کی مگر ۔۔۔ جانے وہ کس مٹی سے بنا تھا کہ اس نے کبھی کسی کی طرف پلٹ کر نا دیکھا۔
نہ نوٹس کے تبادلوں کی آڑ میں کوئی راہ و رسم بڑھائی۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
آخر امتحانات نزدیک آگئے ۔۔۔۔ جہاں پوری کلاس گروپ سٹڈی کی آڑ میں ہلہ گلہ کرتی وہاں وہ ایک طرف بیٹھ کر پڑھنے میں مشغول رہتا۔۔۔
ہم میں سے کسی نے بھی کبھی اسے درخور اعتنا نا سمجھا کہ وہ ہمارے سیٹ اپ میں مس فٹ تھا۔۔۔۔ مگر پھر بھی ایک کلاس میٹ ہونے کے ناطے ہم نے کئی بار اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر اس نے انکار کردیا۔۔۔۔
انہی مستیوں میں امتحانات بھی ہوگئے۔۔۔۔
مگر وہ امتحانات کے بعد بھی نچلا نا بیٹھا اور اس کا زیادہ وقت لیب اور لائبریری میں گذرنے لگا۔۔۔۔ ہمیں کچھ معلوم نا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اس کا مشن کیا ہے۔۔؟؟؟
۔۔۔۔ ہم سب کلاس والے چھٹیوں میں ناران کاغان کی سیر کو نکل گئے مگر وہ پھر رہ گیا۔۔۔ جانے کون تھا کیا کرنا چاہتا تھا کیوں اتنا تنہائی پسند تھا۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
ہم پورا ہفتہ سیر پر گذار کر آئے۔۔۔ اور میں جب تھکا ٹوٹا کمرے میں آیا تو وہ لائٹ جلائے کچھ پڑھ رہا تھا۔۔۔۔
خیر میں نے اسے کہہ کر لائٹ آف کروائی اور سو گیا۔۔۔۔۔
صبح اٹھا تو دیکھا اس کا بستر خالی ہے۔۔۔۔ میں باہر نکلا تو دیکھا وہاں معمول سے زیادہ رونق ہے ۔۔۔۔ الٰہی خیر کہیں یونیورسٹی تو نہیں کھل گئی۔۔۔۔
میڈیا والے بھی تھے۔۔۔ تو پتہ چلا کہ ہماری یونیورسٹی کے ایک سٹوڈنٹ نے عالمی سطح پہ ہونے والی ایک سائنسی نمائش میں گندم کا ایک ایسا بیج پیش کیا تھا جسے پوری دنیا پہ منعقد ہونے والے مقابلے میں اول انعام سے نوازا گیا ہے۔۔۔۔
اور میری حیرت اور بھی دو چند ہو گئی جب مجھے پتہ چلا کہ اس بیج کا خالق میرا روم میٹ ہے۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
پھر اس کے بعد تو ٹی وی والوں کا تانتا بندھ گیا۔۔ آئے دن انٹرویو اور سپیشل شوز والوں نے اس کے کئی انٹرویو کر ڈالے۔۔۔ ہمارا وہ کلاس فیلو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پہ جا پہنچا۔۔۔۔
اسے کئی ملکی اور غرن ملکی اعزات سے نوازا گیا۔۔۔۔ اور کئی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے اسے ملازمت کی پیش کش کی۔۔۔ مگر۔۔۔ وہ بارش کا پہلا قطرہ بن چکا تھا اور لوگ اسے اپنی ہتھیلیوں میں سمونا چاہتے تھے، مگر وہ تو اپنی اس پیاسی اور تپتی ہوئی زمین کی پیاس بجھاتے ہوئے فنا ہونا چاہتا تھا۔۔۔
اس کی ایک ہی رٹ تھی کہ میں اپنے ملک میں ہی کام کروں گا۔۔۔۔ اور،
اور اسی بات پہ میری اس سے بحث بھی ہو جاتی تھی ۔۔۔ مگر۔۔
مگر اس نے کہا ایک انسان کو اپنی مٹی سے جڑ کر ہی رہنا چاہیے۔۔۔۔کہ جڑیں اپنی مٹی میں ہی ہوں تو انسان پھلتا پھولتا ہے۔۔۔ ویسے بھی ہر انسان کو اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ آنا چاہیے سنگ مر مر پہ چلے گا تو پھسل جائے گا۔۔۔
مگر یار۔۔۔۔۔۔
اگر مگر کچھ نئیں یار بس میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ مجھے اپنے ملک میں ہی رہنا ہے ۔۔۔۔ جو لوگ خود غرض ہو کر سوچتے ہیں وہ آخر پچھتاتے ہیں۔۔۔!
٭٭٭٭٭٭
اور وہ رہ گیا اور میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اس لیے۔۔۔
شاید اس لیے کہ اس کی سرشت میں وطن کی محبت تھی جبکہ میری سرشت میں محض دولت کی ہوس تھی۔۔۔۔!

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */