وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد (3) اوریا مقبول جان

جس طرح یہ بات پورے تیقن اور بغیر کسی دلیل کے کی جاتی ہے کہ دنیا بھر میں دہشتگردی کا صرف ایک ہی سبب ہے اور وہ مذہبی فکر ہے جو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ جدید علوم سے مرعوب عالم دین اس کا اس قدر آسان اور ’’مجرب‘‘ حل بتاتے ہیں جیسے یہ فوری طور پر نافذ العمل کردیا جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ ان کے نزدیک پوری امت مسلمہ کو ایک نئے ’’بیانیے‘‘ پر متفق کرنا ضروری ہے اور یہ ’’بیانیہ‘‘ ان کا اپنا ترتیب دیا ہوا ہے جسے وہ اسلام کا اصل بیانیہ کہتے ہیں۔
ان کے نزدیک مدارس میں پڑھایا جانے والا بیانیہ جو گزشہ چودہ سو سال سے ایک تسلسل سے پڑھایا جارہا ہے اسلام کا اصل بیانیہ نہیں ہے۔ ان کے اس بیانیے کے جواب میں گزشتہ سال میں کئی کالم تحریر کرچکا ہوں۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان جن کے ہاتھوں میں قرآن پاک، اس کی تفاسیر، احادیث اور ان کے تراجم، فقہ کی کتب کا ایک ذخیرہ اور ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک تسلسل اور روایت موجود ہے۔ وہ کیسے ’’موصوف‘‘ کے بیانیے پر اتفاق کرسکتے ہیں جو اسلام کی تاریخ اور تعلیمات سے اجنبی ہے۔
’’حضرت‘‘ کو یقینا علم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں میں جو شدت پسندی کا ’’بیانیہ‘‘ مقبول ہورہا ہے، یہ اچانک اور فوری نہیں ہے۔ ایک خاموش، مرنجا مرنج اور سوئی ہوئی قوم اچانک کیسے جاگ گئی کہ وہ ہر اس محاذ پر اپنے افراد مرنے کے لیے بھیجنے لگی جہاں ان سے مخالف نظریے کے لوگ انھیں محکوم بنارہے تھے، قتل کررہے تھے، بستیاں اور گھر اجاڑ رہے تھے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ پوری امت مسلمہ کے سامنے جدید مغربی تہذیب نے ایک ’’بیانیہ‘‘ پوری طاقت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ چونکہ یہ تمام اقوام طاقتور ہیں۔ اس لیے وہ اپنے اس بیانیے کو طاقت سے نافذ کرتی ہیں اور انھوں نے ایسا کرکے دکھایا ہے۔ یہ بیانیہ اسلام اور اس کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ اس بیانیے کی بنیادیں معاشی ہیں اور خالصتاً سودی معیشت اور کارپوریٹ اقتصادیات پر مبنی ہیں۔
اس کا نفاذ پہلی جنگ عظیم کے فوراً بعد شروع ہوا۔ خلافت عثمانیہ مسلمانوں کی ایک مرکزی حکومت کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسے جس طرح ایک عالمی جنگ میں ملوث کرکے اس علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد ان سب کو نسل، رنگ اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے قومی ریاستوں کو تشکیل دیا گیا۔ یہاں بھی کوئی اصول کار فرما نہیں رکھا گیا۔ قطر، بحرین، کویت، عراق، اردن، شام، مسقط، یمن، دبئی اور ابو ظہبی جیسے علاقے ایک زبان بولتے، ایک رنگ و نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ان سب کا مذہب بھی ایک تھا، لیکن جس کے پاس جتنا زیادہ تیل تھا، اتنا ہی چھوٹا ملک بنا دیا گیا تاکہ اسے قابو کرنا آسان ہو۔ پھر ان سرحدوں کو مقدس اور محترم بنانے کے لیے 1920ء میں پاسپورٹ کا ڈیزائن منظور کیا گیا اور ویزا ریگولیشن نافذ کیے گئے۔ دنیا کی تقسیم کا یہ عمل دوسری جنگ عظیم میں اس وقت تیز ہوگیا جس دن نارمنڈی فتح ہوا اور اس ’’بیانیے‘‘ کو نافذ کرنے کی طاقت ان قوتوں کے پاس آگئی۔
فوری طور پر امریکا کے علاقے برٹن ووڈ میں یہ تمام قوتیں اکٹھی ہوئیں اور دنیا بھر کو ایک سودی نظام کے تابع کرنے کے لیے کانفرنس منعقد ہوئی۔ وہاں جو فیصلے ہوئے وہ آج دنیا بھر میں بزور طاقت نافذ کرنا ان طاقتوں کا معمول ہے۔ فیصلے یہ تھے کہ دنیا کے تمام ممالک کاغذ کے نوٹ جاری کریں گے جس کی قدرو قیمت کا تعین ایک بینک کرے گا جس کا نام Bank of International Settlement ہے۔ کاغذ کی یہ مصنوعی دولت اپنے پیچھے موجود سونے کے ذخائر کی بنیاد پر ہوگی اور پھر آہستہ آہستہ یہ صرف کاغذ ہی رہ گئے اور 1971ء میں ایک نئی تجویز پیش ہوئی اور نافذ کردی گئی۔ اب سونے کے ذخائر ضروری نہیں، اب کسی ملک کی حالت good will اس کے کرنسی نوٹ کی قیمت متعین کرے گی اور یہ ہم متعین کریں گے۔
کس قدر حیرت کی بات ہے کہ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کے تحت نائیجیریا جو تیل سے مالا مال ملک ہے اس کے نوٹ کی قیمت کم ہے اور آئس لینڈ جہاں کچھ بھی نہیں اگتا اس کی قیمت مضبوط ہے۔ آئی ایم ایف بنا، دنیا پر سود کی بنیاد پر مبنی ’’بیانیہ‘‘ نافذ کردیا گیا۔ اب دنیا میں کسی بھی ملک کو یہ آزادی حاصل نہیں کہ وہ سونے اور چاندی کے سکے جاری کرے اور ان میں عالمی کاروبار کرے۔ اسے دنیا کے اس مصنوعی کرنسی اور سود کے کاروبار سے منسلک ہونا پڑے گا۔ جو نہیں کرے گا وہ اس بیانیے کا منکر ہے، اس کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ لیبیاء کے سربراہ معمر قذافی نے افریقہ کی تیل پیدا کرنے والی حکومتوں کو سونے کے بدلے تیل بیچنے پر متفق کرنا شروع کیا تو پورا مغرب نیٹو کے نام پر بھیڑیوں کی طرح اس ملک پر چڑھ دوڑا اور اسے نشان عبرت بنا دیا۔ اس بیانیے کا دوسرا اہم نکتہ سیکولر آئینی جمہوریت کا نفاذ ہے جو ممالک یہ نکتہ تسلیم نہیں کرتے، ان پر زور بازو اور قوت سے یہ نافذ کیا جاتا ہے۔
افغانستان اور عراق اس کی بدترین مثالیں ہیں۔ پہلے ان دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لیے خطرہ ثابت کیا گیا، پھر ان کے ملکوں پر حملہ کیا گیا۔ اپنی مرضی کے آئین مرتب ہوئے، مرضی سے الیکشن کرائے گئے اور اپنی ٹوڈی حکومتیں بنواکر دنیائے اسلام پر یہ واضح کیا گیا کہ اس دنیا میں ہمارا بیانیہ ہی نافذ ہوگا کیونکہ ہمارے پاس طاقت ہے اور یہ اندھی طاقت ہے۔ ہم چاہیں تو سعودی عرب اور عرب ریاستوں میں بادشاہتوں کو قائم رہنے کی منظوری دے دیں اور ہماری مرضی ہو تو پرویز مشرف جیسے فوجی ڈکٹیٹر کو حکومت بھی کرنے دیں اور اسے اپنا اتحادی بھی کہیں۔ یہ بیانیہ ایک اور تصور کا دنیا میں نفاذ چاہتا ہے اور اس کا ہدف اسلامی دنیا ہے۔
یہ لائف اسٹائل یا جدید مغربی تہذیب کا نفاذ، ایک ایسے ماحول کی تخلیق جس میں فیشن انڈسٹری سے لے کر حسینہ عالم کے مقابلوں تک، فاسٹ فوڈ کے ریستورانوں سے لے کر ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں تک، ملبوسات، مشروبات، رہن سہن یہاں تک کہ اشتہاری مہمات کے ہیروز اور ہیروئنیں بھی مختلف نہ ہوں۔ عورت کو گھر کی ذمے داری سے نکال کر کیسے مارکیٹ کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔ وہ اس بیانیے کو بھی طاقت سے نافذ کرتے ہیں۔ سودی بینکاری کے نظام نے تمام ممالک کو گزشتہ پچاس سالوں سے قرضے کی لعنت میں جکڑلیا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ برصغیر پاک و ہند پر 1947ء سے پہلے ایک روپے کا قرضہ نہیں تھا اور اس زمانے کی ترقی دیکھ لیں، ریلوے، نہری نظام، تعلیمی ادارے، ڈاک کا نظام، مواصلاتی نظام، غرض کیا کچھ تھا، لیکن آج ہم اس سودی معیشت کے تحت بال بال قرضے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جب یہ مسلمان ممالک قرضے میں ڈوب جاتے ہیں تو پھر ان پر وہ تمام تصورات نافذ کیے جاتے ہیں، معاہدوں کا حصہ بنائے جاتے ہیں، بچوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق، آزاد معیشت جیسے خوشنما ناموں کے تحت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اپنی مخصوص شقوں کو معاہدے کا حصہ بناتا ہے۔ اقوام متحدہ آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ اس لائف اسٹائل پر مبنی معاہدے پر دستخط کریں۔
لائف اسٹائل کا یہ بیانیہ دو راستوں یا دو ذریعوں سے نافذ ہوتا ہے۔ سب سے اہم اور بنیادی ذریعہ نصاب تعلیم ہے اور طریقۂ تعلیم ہے جسے یہ ’’موصوف‘‘ وسیع البنیاد تعلیم کا نام دیتے ہیں اور دنیا بھر میں یونیورسل ایجوکیشن کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ تہذیبی بیانیہ ان مسلمان ملکوں میں نافذ کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے یہ طاقت ور ممالک ان ملکوں کے نصاب تعلیم کو ’’مغربی بیانیہ‘‘ کے مطابق ڈھالنے کے لیے قرض میں جکڑے ہوئے ان ممالک میں اپنی مرضی سے اس وسیع البنیاد تعلیم کا نفاذ کراتے ہیں۔ جس کے بارے میں میرے یہ ’’استاد اور جدید مذہبی مفکر‘‘ کہتے ہیں کہ بارہ سال تک وسیع البنیاد تعلیم ایک بچے کا بنیادی حق ہے۔
یہ بارہ سال کی شرط کیوں اور پھر وسیع البنیاد کی کیا تعریف ہے۔ بارہ سال اس لیے کہ تمام تعلیمی نفسیات کے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ اس عمر تک بچے کا ذہن ایک صاف سلیٹ کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جس طرح کے نقوش بنائے جائیں گے وہ مستقل ہوجائیں۔ وہ جیسی کہانیاں پڑھے گا، کرداروں کو جس طرح کے لباس میں دیکھے گا، جو نظمیں اس کو یاد کرائی جائیں گے۔ جس طرح کی اخلاقیات اس کو سکھائی جائیں گی، جس طرح کے تہواروں کو اس سے روشناس کرایا جائے گا اور سب سے بڑھ کر جس طرح کے ہیروز اس کے دماغ پر نقش کیے جائیں گے وہ مستقل ہوجائیں گے۔ یہ اس کا بنیادی ماحول ہوگا جو تمام عمر اس کا حوالہ بنے گا۔