تین طلاق پر سیاست - غوث سیوانی

’’طلاق، طلاق، طلاق‘ کہہ کر مرتضی فون کاٹ دیتا ہے اور چار بچوں کی ماں عشرت جہاں کے ساتھ اپنے 15 سالہ ازدواجی تعلقات کو ایک پل میں توڑ دیتا ہے۔ دبئی میں رہنے والے مغربی بنگال کے مرتضیٰ کواب نئی بیوی اور نئی زندگی چاہئے۔اسے اس بات سے مطلب نہیں کہ اس کی بیوی اور بچوں کا کیا ہوگا؟ اجمل بشیر نے کیرالہ میں اپنی دس دن پرانی بیوی کو واٹس ایپ سے طلاق دیتے ہوئے لکھا، جہیز یا طلاق؟ مدھیہ پردیش کے سید اشہر علی وارثی نے اپنی بیوی کو اسپیڈ پوسٹ سے تین طلاق دے ڈالا۔اسی طرح یوپی کے رضوان احمد نے اپنی 37 سال کی بیوی سائرہ بانو کو ایک خط میں لکھا’’طلاق، طلاق، طلاق‘‘۔ یہ تین طلاق کی چند مثالیں ہیں، جب مسلمان، شوہروں نے اپنی بیویوں کو محض تین بار طلاق کہہ کر اجنبی بنادیا۔

حالانکہ اگر طلاق شدہ جوڑوں کی زندگیوں میں جھانکنے کی کوشش کریں تو احساس ہوتا ہے کہ ’’طلاق‘‘ کے ایک چھوٹے سے لفظ نے ان کی زندگی میں کیسے بھونچال بپاکئے ہیں۔ طلاق ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے، جس پر مذہب کے ساتھ سماجی پہلو سے بھی غور کرنے کی ضرورت ہے اور ان تمام مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جو اس کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو ہندوستانی مسلمانوں نے ٹھیک سے سمجھا ہوتا اور علماء کرام نے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہوتی تو آج یہ مسئلہ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں زیر غور نہ ہوتا اور نہ ہی اترپردیش میں سنگھ پریوار اسے اپنی سیاست کے لئے استعمال کرپاتا۔ اب سوال ہے کہ کیا اس مسئلے میں مسلمانوں کواپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے؟ یا جو جھانکنے کا مشورہ دیتے ہیں،انھیں ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کرادینا چاہئے؟’’ہم جیسے ہیں، ٹھیک ہیں‘‘ کی روش پر چلنا چاہیے اور ان خواتین کے مسائل سے نظر چرائے رہنا چاہیے جواس کا شکار ہورہی ہیں یا پھر اس معاملے میں ملکی قوانین کو قبول کرلینا چاہیے؟

سپریم کورٹ کی مداخلت؟
’’تین طلاق‘‘ کا ایشو اس وقت سنجیدگی اختیار کرتا جارہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر کسی بڑے ہنگامے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں کہاہے کہ’’ تین طلاق‘‘ کے مسئلے کو لے کر دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت پانچ ججوں کی آئین بنچ، مئی کے مہینے میں کرے گی۔اسی کے ساتھ کورٹ نے کہا کہ عدالت’’ تین طلاق‘‘ کے تمام پہلوؤں پر غور کرے گی۔ عدالت کا تبصرہ تھاکہ’’ یہ مسئلہ بہت سنگین ہے ، اسے ٹالا ،نہیں جا سکتا۔‘‘ سماعت کے دوران تین طلاق کو لے کر مرکزی حکومت نے کورٹ کے سامنے کچھ سوالات بھی رکھے۔ مرکز کے علاوہ کچھ اور اطراف سے بھی سوال آئے، جس پر عدالت نے تمام متعلقہ فریقوں سے کہا کہ وہ 30 مارچ تک تحریری طور پر اپنی بات اٹارنی جنرل کے پاس جمع کرا دیں۔اس بیچ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر نے کہا کہ اس معاملے میں صرف قانونی پہلوؤں پر ہی سماعت ہوگی۔ تمام فریقوں کے ایک ایک لفظ پر عدالت غور کرے گی۔عدالت قانون سے الگ نہیں جا سکتی۔واضح ہوکہ 11 مئی سے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیس پر سماعت شروع ہوگی۔ اس کے پہلے عدالت 30 مارچ کو تین طلاق، حلالہ اورتعددازواج کے سلسلے میں غور کرے گی۔سپریم کورٹ تین طلاق کو حقوق انسانی سے جڑا ہوا معاملہ بھی قراردے چکا ہے۔

’’تین طلا ق‘‘ میں سنگھ پریوار کی دلچسپی
اترپردیش کی انتخابی ریلیوں میں وزیراعظم نریندر مودی ’’تین طلاق‘‘ کے ایشو کو اٹھا چکے ہیں۔ بی جے پی صدر امت شاہ بھی اپنی تقریروں میں اس کا ذکر کرچکے ہیں۔ اس کے بعد وزیرقانون روی شنکر پرساد بھی لکھنو اور غازی آباد میں پریس کانفرنس کر اس مسئلے پر تفصیلات دے چکے ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ’’ تین طلاق‘‘ میں بھاجپائیوں کی دلچسپی کا سبب مسلمانوں کو چڑانے اور ہندو خواتین کو یہ پیغام دینے کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دیکھ لیں مسلمان اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔اب حال ہی میں آرایس ایس کے ذرائع کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ آر ایس ایس سے منسلک تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے ملک بھر میں تین طلاق کے معاملے کو اٹھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ ایم آرایم کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر میں ’’تین طلاق‘‘ کا مسئلہ اٹھا کر مسلم خواتین کو بیدار کرنے کا کام کرے گا۔تنظیم کے ذرائع کے مطابق اس کے جلسوں کو آرایس ایس کے لیڈر اندریش کمار اور دیگر سنگھی خطاب کریں گے۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ فرقہ وارانہ دنگوں میں بھگوا تنظیموں پر دنگا، ریپ وغیرہ کے الزام لگتے رہے ہیں مگر اب اچانک سنگھی تنظیموں کی طرف سے ’’تین طلاق‘‘ کے حوالے سے مسلم خواتین پر ترس آنے کی خبر دلچسپ ہے۔ ’’تین طلاق‘‘ کے ایشو پر وشو ہندو پریشد ،مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ وی ایچ پی نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کے رخ پر خوشی بھی ظاہر کی ہے۔ وی ایچ پی کو لگتا ہے کہ اس معاملے پر عدالت کا رخ بھی حکومت جیسا ہی ہوگا۔ وشو ہندو پریشد کے ڈاکٹر سریندر جین کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہمیشہ ہی ’’تین طلاق‘‘ ختم کرنے کی مخالفت کرتا آیاہے، اور آئین کو چیلنج دیتا ہے۔ کوئی بھی پرسنل لاء بورڈ آئین کے اوپر نہیں ہو سکتا اور وہ پوری مسلم کمیونٹی کی نمائندگی بھی نہیں کرتا۔ مہذب معاشرے میں ایسی چیزیں برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ مسلم خواتین کو قرون وسطی کے دور سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ انہیں بھی برابری کا حق چاہئے۔ جب کہ مسلم راشٹریہ منچ نے کہاہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، مسلم خواتین کو برابری کا حق دینے میں ناکام رہا ہے۔ آخر آزادی کی چھ دہائی بعد بھی تین طلاق پر روک کیوں نہیں لگ سکی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ روایت ختم ہو چکی ہے، یہ تو شرمناک ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کا ذکر نہیں۔ مظلوم ،مسلم خواتین کو تین طلاق دے کر راتوں رات بے گھر کر دیا جاتا ہے ۔یہ باتیں منچ کی ریشما حسین کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں کہی گئیں۔

ان سوالوں کا جواب کیا ہے؟
سنگھ پریوار کی طرف سے جوباتیں کہی جارہی ہیں، وہ بغض وعناد میں کہی جارہی ہیں مگر اس میں جو سوال اٹھ رہے ہیں، ان کا جواب کیا ہے؟ہم جواباً سوال کرسکتے ہیں کہ آر ایس ایس، جس کی مسلم دشمنی کی طویل تاریخ ہے، اسے مسلم خواتین پر ترس کیوں آرہا ہے؟ آخر اسے اچانک کیوں لگنے لگا کہ مسلم عورتوں پر مظالم ہورہے ہیں؟ہم یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ آرایس ایس کو مسلم خواتین پر ہی رحم کیوں آرہا ہے؟ اسے یشودابین مودی جیسی خواتین پر ترس کیوں نہیں آتا جو بغیر طلاق کے ہی چھوڑ دی جاتی ہیں؟ شوہرنامدار تو وزیراعظم بن جاتے ہیں مگر بیوی کی پوری زندگی کرب میں گزرتی ہے؟ سنگھ والوں کو صرف ’’تین طلاق ‘‘ہی کیوں ظلم لگتا ہے، آخر گجرات فسادات میں ریپ کی شکار خواتین پر ترس کیوں نہیں آتا؟ مظفرنگر میں جن عورتوں کی عزت لوٹی گئی اور آج تک انھیں انصاف نہیں ملا،ان پر سنگھ پریوار کا پیار کیوں نہیں امنڈتا؟ جب کہ یہاں بی جے پی اور آرایس ایس کے لوگ ظالموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کم سنی میں شادی عام بات ہے اور یہ رواج مسلمانوں سے زیادہ ہندووں میں ہے، ایسی لڑکیوں پر سنگھ کو ترس کیوں نہیں آتا اور اس بری روایت کے خلاف وہ تحریک کیوں نہیں چلاتا؟ ہریانہ ،پنجاب اور کچھ دوسری ریاستوں میں جنین کشی اس قدر عام ہے کہ لڑکیوں کی کمی کا احساس ہونے لگا ہے اور آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے، اس پر سنگھ پریوار روک تھام کی کوشش کیوں نہیں کرتا؟ مگر اس قسم کے سوال ،ان سوالوں کا جواب نہیں بن سکتے جو سنگھی خیمہ ہی نہیں بلکہ سیکولر نظریات کے حامیوں کی طرف سے بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

کیا خود ہمیں گریبان میں جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے؟ یقیناقرآن اور سیرت نبوی میں تمام مسائل کا حل موجود ہے پھر کیا سبب ہے کہ مسئلہ طلاق کا حل ہمیں دکھائی نہیں دیتا؟ جن خواتین کو طلاق دے دی جاتی ہے،ان کی زندگی موت سے بدتر ہوجاتی ہے، جب کہ مرد، دوسری شادی کرلیتا ہے۔اس کا سب سے برا اثر بچوں کی زندگی اور نشوونما پر پڑتا ہے۔ آخر کسی کو کیا حق ہے کہ اس طرح کسی کی زندگی سے کھیلے؟ کیا طلا ق کا مسئلہ اسلام کے طریقے کو چھوڑنے کے سبب پیدا نہیں ہواہے؟ اسلام نے تو طلاق کو حلال باتوں میں سب سے قبیح قراردیا ہے۔اس کی اجازت بھی مجبوری میں دی گئی ہے اور اگر طلاق کی نوبت آبھی جائے تو اس کے لئے’’تین طہر‘‘کی مدت طے کی گئی ہے۔ یہ وقت اس لئے دیا گیا ہے تاکہ تقریباًتین مہینوں میں افہام وتفہیم کا راستہ ڈھونڈ لیا جائے مگر جو لوگ ٹیلی فون، واٹس ایپ اور خط کے ذریعے یا جھگڑے میں ایک ساتھ تین بار ’’طلاق طلا ق طلاق‘‘ کہہ دیتے ہیں وہ ان ضابطوں کو کہاں پورا کرتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ایک ساتھ تین بار طلاق دینا قرآنی احکام کے خلاف ہے، مگر ایسا کرنے والے کے لئے کوئی سزاطے نہیں ہے۔ ہمارے خیال سے اگرحالات زمانہ کو دیکھتے ہوئے سخت سزا مقرر کی جاتی توشاید ہی کوئی ایک ساتھ تین طلاق دینے کی ہمت کرپاتا۔ اب یہ مسئلہ سنگینی اختیار کرتا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ طلاق کے بعد ایک عورت اور اس کے بچوں کے ساتھ جو حالات پیش آتے ہیں، وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی کہے جائیں گے۔ ایسا کرنے والے کے لئے سزا مقررہونی چاہئے تھی مگر ہندوستان میں علماء اورقاضیوں کے ہاتھ میں اس کا اختیار نہیں ہے اور جو، ان کا علمی معیار ہے، اس کے پیش نظر ہونابھی نہیں چاہئے۔ ایسے میں کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلنا چاہئے اور کورٹ اسی پر غور کر رہا ہے۔ اب فکر کی بات یہ ہے کہ اگر ایک بار شریعت میں مداخلت کا راستہ کھل گیا تو بات بہت آگے تک جائے گی اور اگر اس مسئلے کا حل نہیں نکالا گیا تو مطلقہ خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی رہے گی۔