سوچیں - خواجہ مظہر صدیقی

کسی سیانے نے سچ کہا ہے کہ سوچیں پریشان کرتی ہیں. ایک جگہ میں نے پڑھا تھا کہ سوچیں انسان کو جلدی بوڑھا کر دیتی ہیں. مثبت سوچ کا درس دیتے ہوئے ایک استاد نے طلبا سے کہا تھا کہ مثبت سوچ عمر میں اضافہ کرتی ہے اور کسی نے تو یہ بھی کہا ہے کہ منفی سوچیں سانپ کے زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں.

ہماری خوبی ہے کہ ہم اچھا سوچتے اور پھر اچھے بن جایا کرتے ہیں. ہمارا المیہ ہے کہ ہم برا سوچ کر برے بننے میں بھی دیر نہیں لگاتے. سچ تو یہ بھی ہے کہ تعمیری سوچ کو پھل پھول ذرا دیر سے لگتے ہیں. جبکہ تخریبی سوچ اس بیل کی طرح ہوتی ہے جو بہت جلد ہی اپنے قد کاٹھ کو پھیلا دیتی اور آسمان کو چھونے لگتی ہے.

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم نا خوش کیوں رہتے ہیں؟ ہم خود کو ادھورا ادھورا سا کیوں محسوس کرتے ہیں؟ ہر وقت ٹھنڈی آہیں کیوں بھرنے لگتے ہیں؟ کیوں ایسا لگتا ہے کہ زندگی میں مزا نہیں رہا؟ سوچیں تو پوچھتی ہیں کہ لگاتار اور مسلسل ناکامیاں میرا مقدر ہی کیوں؟ زندگی میں لاتعداد و بے شمار خوشیاں کیوں نہیں؟ لائف میں کچھ کمی سی ہے. کوئی ان جانا دکھ ہے جو گھیرے رکھتا ہے... یہ سوچ اور اس جیسے خیالات اداس کرتے ہیں..

زمین و آسمان اور ارد گرد کا ماحول بھی اجنبی سا لگنے لگتا ہے. نا شکری کے بادل سر پہ سایہ کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں. ویرانی سی ڈیرہ ڈال لیتی ہے. اور ایک لمحے کو ایسا لگتا ہے کہ عمر اور تجربہ سب کا سب بے کار گیا. زندگی میں بگاڑ تو ہے مگر سدھار نہیں. بے ترتیبی سی ہے. ایک بوجھ ہے جو دل و دماغ پر سوار لگتا ہے . کچھ بھی تو اچھا نہیں. سوچتے سوچتے مایوسی گھیر لیتی ہے.

انہی خیالات میں مدہوش رہتے ہوئے پھر ایک تبدیل منظر دکھائی دینے لگتا ہے. میری آنکھوں کے سامنے رفتہ رفتہ وہ مناظر آ جاتے ہیں. جہاں مجھ سے غلطیاں ہوئیں. غلط فیصلے ہوئے. جذبات میں قدم اٹھے... بہت کچھ جو ہونا چاہئے تھا وہ نہ ہو سکا... لیکن وہ ارمان جو پورے ہوئے.. وہ خواہشیں اور تمنائیں جو کبھی پوری ہوئی تھیں. درست کہ سب کچھ تو نہ مل سکا اور میں بہت کچھ سے محروم رہ گیا تھا... لیکن بہت کچھ ملا بھی... بلکل تہی دامن نہ رہا. دامن میں خوشیاں بھی ہیں سکھ اور سکون بھی نصیب ہوا..

بس یہیں سے سوچ کا زاویہ یو ٹرن لیتا ہے..جی ہاں! ایسے میں ایک لمحہ سوچتے سوچتے ایسا بھی آتا ہے کہ جو کچھ حاصل ہے اس پر جا نظر پڑتی ہے. بند سوچ یکدم کھلی سوچ بن جاتی ہے. دل و دماغ کو ایک نیا رخ مل جاتا ہے. محرومی بھول جاتی ہے. حاصل پر دھیان پڑتے ہی منفی سوچیں غائب ہو جاتی اور مثبت سوچ و خیال غالب آ جاتا ہے. نعمتوں پر جی جان سے شکر کی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں. ادھورے پن کا اور محروم رہنے کا احساس ختم ہو جاتا ہے. غلطیاں نہ دوہرانے کا عزم پیدا ہوتا ہے.

لاحاصل کی جستجو چھوٹ جاتی ہے. نئے ارادے باندھنے اور عمل کی راہ اختیار کرنے کا خود سے وعدہ ہوتا ہے. لگن اور عزم بیدار ہوتے ہیں. منزل کی جانب قدم تیزی سے دوڑنے لگتے ہیں. مایوسی امید بن جاتی ہے.... پل بھر میں منفی سے مثبت کا سفر شروع ہو جاتا ہے... زبان پکار اٹھتی ہے. لگتا یہی ہے کہ زبان سے ادا ہونے والے یہ لفظ دل سے ہی نکلے ہیں. وہ لفظ یہ ہوتے ہیں." اللہ تیرا شکر ہے".

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.