اسائلم سیکر اور پناہ گزین - علی ملک

ہانگ کانگ میں اس وقت کوئی گیارہ ہزار کے قریب افراد ایسے ہیں جنہوں نے اسائلم اپلائی کیا ہوا، ان گیارہ ہزار میں سے سب سے زیادہ تعداد، پاکستانی، انڈین اور بنگلادیشیوں کی ہے. حال ہی میں ہانگ کانگ نے انڈیا کا ”ویزا آن ارائیول“ یعنی آمد پر ویزا ختم کر کے، آمد سے پہلے انڈیا میں پری رجسٹریشن کر دیا. پاکستانیوں کا شعبدہ چائنا کے ویزے سے ہوتا ہے، پاکستان کے ٹریول ایجنٹ چائنا کے ویزے پر پاکستانیوں کو گوانگ زو، ( Guangzhou) پہنچا دیتے ہیں، وہاں سے چائنیز بوٹ مین ہانگ کانگ کے بارڈر پر چھوڑ دیتے ہیں، ایک مہینہ جیل میں رہ کر اسائلم کا ایک پیپر لے لیتے ہیں.

اسائلم سیکر ہانگ کانگ میں جاب کر سکتے ہیں نہ ان کو کوئی جاب پر رکھ سکتا ہے، خلاف ورزی کرنے والے ایمپلائر کو پچاس ہزار ہانگ کانگ ڈالر جرمانہ اور قید ہو سکتی ہے. ہانگ کانگ کی حکومت کی طرف سے اسائلم سیکر کو تین ہزار ہانگ کانگ ڈالر ملتے ہیں، جن سے گزارا بہت مشکل ہوتا ہے. پاکستانی اسائلم سیکر زیادہ تر پنجاب سے ہیں، خاص کر گجرات، جلال پور جٹاں، لاہور، فیصل آباد، اور جہلم. چونکہ اسائلم سیکر ہانگ کانگ میں کام نہیں کر سکتے، لہذا وہ چھپ چھپا کر کم تنخواہ پر لوگوں کے گھر باورچی لگ جاتے ہیں یا کسی ہوٹل میں برتن دھو لیتے ہیں. جو تیز طرار ہوتے ہیں، وہ عارضی شادی کر کے ریذیڈنٹ شپ لے لیتے ہیں، جبکہ کچھ غلط لوگوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے اب ہانگ کانگ میں سٹریٹ کرائم عروج پر ہے. سٹریٹ کرائم میں زیادہ تر اسائلم سیکر ہی کا نام سامنے آتا ہے، کبھی کوئی پاکستانی تو کبھی کوئی انڈین ، جس کی وجہ سے ہانگ کانگ کے پاکستانی اور انڈین ریذیڈنٹ افراد کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

پاکستان میں افغانی اسائلم سیکر / پناہ گزین پر اس قسم کی ایسی کوئی خاص پاپندی نہیں ہے، وہ جاب بھی کر رہے ہیں اور بزنس بھی، افغانی پناہ گزین پاکستان کے ہر صوبے میں آباد ہیں، لیکن پنجاب میں ان کی تعداد زیادہ ہے. پنجاب میں زیادہ تر رہنے اور بولنے والے پشتو سپیکنگ، پاکستانی نہیں ہیں. پاکستان کے پختون اپنے صوبے میں رہائش پذیر ہیں، بالکل اسی طرح سندھی اپنے، بلوچی اپنے اور پنجابی اپنے صوبے میں، ان صوبوں کے افراد دوسرے صوبے میں یا جاب یا پھر بزنس، رشتہ داریوں وغیرہ کے سلسلے میں آتے جاتے ہیں. پاکستان کے پختون افغانستانی پناہ گزینوں کو ان کے لب و لہجے سے ایک منٹ میں پہچان لیتے ہیں، جیسے ہانگ کانگ کے چائنیز چائنا کے چائنیز کو، لیکن جیسے پاکستانیوں کے لیے سب چائنیز ایک جیسے لگتے ہیں، بالکل اسی طرح پنجاب کے لوگ افغانستان کے پشتو سپیکنگ اور پشاور کے پشتو سپیکنگ میں کوئی فرق نہیں کر سکتے. اور تو اور اٹک میں بھی بہت سے افراد پشتو بولتے ہیں، اور میں ان کو پشتو سپیکنگ ہی سمجھتا تھا، لیکن پشاور کے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اٹک اور پشاور والوں کی پشتو میں بہت فرق ہے.

دنیا میں پناہ گزین/اسائلم سیکر کے دو ہی اصول ہیں، یا تو ان کو اس ملک میں رہنے کی عارضی اجازت دے دی جاتی ہے یا پھر اس ملک کی شہریت، یہی اصول پاکستان میں افغانستان کے پناہ گزینوں پر بھی لاگو ہوتا ہے. کچھ افغانی پناہ گزینوں نے نادرا کے کارڈ بنوا لیے اور وہ خود کو پاکستان کے شہری بھی کہنے لگے، لیکن پاکستانی حکومت نے کبھی بھی انھیں شہریت دینے کا اعلان نہیں کیا تھا. اس وقت پاکستان اور افغانستان کے سیاسی طور پر تعلقات اچھے نہیں ہیں، لہذا اس سیاسی تناؤ میں ان پناہ گزینوں کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے. پنجاب میں جہاں بعض پشتو بولنے والوں کی پوچھ گوچھ کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستانی پختونوں کے خلاف نسلی تعصب کی بنا پر کوئی کریک ڈاؤن چل رہا ہے، اس تصدیقی عمل کو تعصب کا رنگ دینے والے لوگ صرف اور صرف پاکستان میں نسلی و لسانی نفرت کے بیج بو رہے ہیں.

افغان پناہ گزینوں کو اگر افغانستان کی حکومت استعمال کر رہی ہے تو ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا کون سی بری بات ہے؟ پاکستان میں اچھلنے والے دانشور اور سوشل میڈیا کے مجاہد اگر افغان پناہ گزینوں کو پاکستان سے واپس بھیجنے کے خلاف ہیں تو پھر ان کو پاکستانی شہریت دلوانے کی جدوجہد کریں یا پھر ان کو واپس جانے دیں. چونکہ ابھی پاکستان میں افغانستان کے غیر رجسٹرڈ پناہ گزین موجود ہیں، اسی لیے وجہ کریک ڈاون بھی ہو رہا ہے، جب ان کو شہریت مل جائے گی تو پھر سب نادرا کے ڈیٹا بیس کا حصہ ہوں گے.

جس طرح ہانگ کانگ میں پناہ لینے والے پاکستانی سٹریٹ کرائم میں استعمال ہو رہے ہیں، اسی طرح افغانستان کے پناہ گزیں کو استعمال کرنا کون سا مشکل ہے، کیونکہ پیٹ کا جہنم کبھی نہیں بھرتا، اس کو بھرنے کے لیے روز کچھ نہ کچھ چاہیے ہوتا ہے. جس طرح ہانگ کانگ و دیگر ممالک میں پاکستانی اسائلم سیکر میں سے کچھ تعداد وہاں کی پاکستانی کمیونٹی کے لیے پریشانی اور بدنامی کا باعث بن رہی ہے اور پاکستانی ان اسائلم سیکرز میں موجود گندی مچھلیوں کو ہی اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح پاکستان میں پشتو بولنے والے افغان اسائلم سیکرز کی کچھ تعداد باقیوں کے لیے پریشانی و بدنامی کا باعث بن رہی ہے، اس لیےگندی مچھلیوں کی اس قلیل تعداد کو موجودہ حالات کا ذمہ دار سمجھا جانا چاہیے.

Comments

علی ملک

علی ملک

علی ملک ہانگ کانگ میں ایک چینی کمپنی میں بطور آپریشن مینیجر برائے انڈیا و بنگلہ دیش کام کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دفاع کے لیے متحرک ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com