خواندگی اور تعلیم میں فرق - اب حجر

پڑھنا لکھنا اور تعلیم و تربیت دو مختلف چیزوں کے نام ہیں. یہ سچ ہے کہ پڑھ لکھ کر انسان میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ انسان پڑھ لکھ کر ہر طرح کی سماجی اور روحانی ترقی بھی کر جاۓ اور دنیا کا لیڈر بن جائے ، کیونکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کیا پڑھ اورلکھ رہے ہیں.

اس نقطہ کی ایک واضح مثال ہے : سری لنکا
سری لنکا میں شرح خواندگی 92 فیصد ہے، یعنی وہاں کے 92 فیصد لوگ پڑھ لکھ سکتے ہیں، یہ شرح پورے جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے، پاکستان سے تو اس کا مقابلہ ہی نہیں لیکن کیا سری لنکا ایک جدید ترقی یافتہ ملک ہے؟ دنیا کی بڑی شاندار قوموں میں سے ہے؟ کیا پاکستان سے لوگ سری لنکا ہجرت کرنا چاہتے ہیں؟

پاکستان میں بھی پڑھائی لکھائی کا اس وقت تک مقصد پورا نہیں ہوگا جب تک کہ ہماری سمت ٹھیک نہ ہو، انگریزی میڈیم سکولوں میں پڑھنے سے بندہ انگریزوں جتنا ترقی یافتہ نہیں ہو جاتا، بلکہ ترقی کے لیے اپنی قوم سے اخلاص، اپنے کمزور لوگوں کو حقیر نہ جاننا، بلکہ ان کو عزت دینا، اور خود احتسابی جیسے ”ناگوار“ کام کرنا پڑتے ہیں، کیا ہمارے سکولوں میں یہ ”انسانی اقدار“ سکھائی جاتی ہیں؟

پڑھنا اور لکھنا جینے کی بنیادی شرط نہیں، لیکن ہاں انصاف اور تعلیم و تربیت جینے کی بنیادی ترین ضرورتوں میں سے ہیں.
ہمارے نبی کریم ﷺ کو پڑھنا اور لکھنا تو نہ آتا تھا لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تعلیم و تربیت سے لوگوں کا تزکیہ کیا، یعنی انہیں پاک کیا، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دی. ہمارے اُمّی نبی ﷺ نے لوگوں کو نہ صرف انسان بننے کا ہنر سکھایا بلکہ ان کی ایسی تربیت کی کہ وہ جہاں گئے انسانوں کے رہبر اور درخشاں ستارے بنے، جن سے روشنی مستعار لے کر دوسری قوموں نے بھی ترقی کر لی.

یہ بھی پڑھیں:   کرتار پور امن کی راہداری - حاجی محمد لطیف کھوکھر

پڑھنا لکھنا ایک ذریعہ ہے نہ کہ ہمارا مقصد
Literacy is a tool, not a purpose itself.

تعلیم و تربیت کی اہمیت اور برتری تو واضح ہو گئی، لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ پڑھنا لکھنا کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ؟ ہرگز ایسا نہیں.
یہ بات یاد رہے، کہ پڑھنا لکھنا اور دنیاوی علوم سیکھنا اپنی جگہ مسلّمہ اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اس کا حکم تو نبی کریم ﷺ نے بھی دیا ، وہ اس لیے کہ پڑھنا لکھنا سیکھنا ہمارے حکمت اور تربیت حاصل کرنے کے عمل اور دماغی وسعت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دیتا ہے، یعنی اس پڑھائی لکھائی کے ذریعے کو اگر صحیح سمت (direction and approach) میں استعمال کریں تو دنیاوی اور اخروی کامیابی، اور اگر غلط سمت میں استعمال کریں تو دنیا اور آخرت دونوں برباد.