ڈاکٹر گردی - راحیل جاڈا

بھلے وقتوں کی بات ہے جب طب کمائی سے زیادہ خیر خواہی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا. طبیب کی بات اور تسلی ہی مریض کی آدھی پریشانی ختم کر دیتی تھی. سب سے بڑا سبب اس کا یہ تھا کہ طبیب کا جذبہ خیرخواہی کا ہوتا تھا، کمائی کی حیثیت ثانوی درجے میں تھ،ی نتیجہ یہ تھا کہ نقاہت بھرا چہرہ لیے مریض دواخانے میں داخل ہوتا اور طبیب کے چند اپنائیت سے بھرے جملے وہ کردیتے جو مہنگی مہنگی دوائیاں پی کر بھی نہیں ہوتا. اور اب صورتحال دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ واقعی وہ بھلا زمانہ اب رخصت ہوچکا ہے. ضرور کہیں کچھ چراغ جل رہے ہوں گے لیکن غلبہ اندھیرے کا ہے. اب تو خدا ترس ڈاکٹر بڑے بڑے ہسپتالوں سے اس لیے فارغ کردیے جاتے ہیں کہ مریض کو ڈرانے کا حق ادا نہیں کیا، جو مریض زندگی بھر کی جمع پونجی لگا سکتا تھا اس کے جیب میں آدھے پیسے باقی کیوں چھوڑ دیے. یہ محض باتیں نہیں حقیقت ہے اور ایسے کیسز تلاش کرنے کے لیے آپ کو زیادہ تگ و دو بھی نہیں کرنی پڑے گی.

گذشتہ دنوں انڈیا کے ایک ٹی وی پروگرام کی ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک لیبارٹری کے مالک اظہار خیال کر رہے تھے. ان کا کہنا تھا جب نئی نئی لیبارٹری کھولی تو دو تین مہینے گزر گئے لیکن مریض آنے سے گریزاں رہے، نتیجہ یہ کہ ڈاکٹرز کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا اور جس ٹیسٹ کی رپورٹ دو سو روپے میں تیار کی جاسکتی تھی، اس کا ریٹ چار سو مقرر کرنا پڑا کہ صاحب بہادر نے ففٹی پرسنٹ اپنا طے کیا تھا. اسی پروگرام میں ایک ڈاکٹر سے ویڈیو کال کے ذریعے ملاقات کروائی جو کسی خاص قسم کی سرجری میں مہارت رکھتے تھے، وہ اپنے فن سے ہم وطنوں کو فائدہ اس لیے نہ پہنچا سکے کہ یار دوست اپنے مریض بغیر کمیشن ان کے پاس بھیجنے کو آمادہ نہیں تھے کہ سرجن صاحب آپ سے دوستی اپنی جگہ لیکن اپنے مریض کو آپ کا ریفرنس تب دیں گے جب اس کی جیب سے نکلنے والے خون پسینے کا تیس چالیس یا پچاس فیصد تک ہمارا ہو.

یہ بھی پڑھیں:   بیمار اور طبیب - حسین اصغر

یہی حال ہمارے وطن کا بھی ہے. دوا ساز کمپنیوں میں ڈاکٹرز کے کمیشن کے باقاعدہ کھاتے بنے ہوتے ہیں. حد تو یہ ہے کہ پروڈکٹ بیچنے دکان دار کے پاس جانے کے بجائے ڈاکٹرز کے پاس جاتے ہیں. عوام اپنے مسیحا پر خود کو آزمائش کے لیے ان کے چھوٹے چھوٹے کلینکس میں پیش کر دیتی ہے، پھر ان پر تجربے کر کر کے یہ ”ینگ ڈاکٹرز“ کچھ بن جاتے ہیں تو پھر یورپ کو پیارے ہوجاتے ہیں یا پرائیویٹ ہاسپٹلز میں قینچی بردار بن کر بیٹھ جاتے ہیں.

کاش کے کوئی ریاستی مسیحا ان مسیحاؤں کی خبر بھی لے اور ردالفساد سے اس فساد کا بھی علاج کرے. لیکن اس سارے مضمون میں یہ بھی یاد رہے کچھ چراغ ہیں جو ابھی بھی جل رہے ہیں، کاش کہ دوسرے ان سے جلنا سیکھ لیں.