لڑکی کا تعاقب کرتی نگاہیں - ندا منظور

نظریں تعاقب کر رہی ہیں، کیا ان نظروں میں شفقت ہے یا ہوس؟ قدرت نے شاید خواتین میں مردوں کی نسبت یہ صلاحیت زیادہ دے رکھی ہے کہ وہ اپنی طرف اٹھنے والی نظر کو پہچان لیتی ہے۔ یہاں عورت بیچاری گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کہیں اسے ہوس بھری نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کہیں بےہودہ قسم کی گفتگو سننا پڑتی ہے۔ ہمارا معاشرہ مردوں کا جو ٹھہرا۔

ارے یہ تو مردوں کا معاشرہ ہے، یہاں عورت کے جینے کا کوئی حق نہیں، جب بھی کوئی دانشور عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اس پر فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔ منٹو نے معاشرے کا پردہ چاک کیا، منافقت کا لبادہ اوڑھے معاشرے کو بےنقاب کیا، تو اس پر بےہودگی کا لیبل لگا کر دھتکار دیا گیا، اس پر فتویٰ لگانے والے وہ لوگ تھے جو خود بےہودگی کے ہمالیہ پر کھڑے تھے۔

ایک لڑکی دفتر، کالج یا یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکل کر کسی وین سٹاپ پر گاڑی کا انتظار کرتی ہے تو پہلے سے کھڑے مردوں میں کھسر پھسر شروع ہو جاتی ہے۔ کہیں سے کسی کی بے ہودہ گفتگو کانوں سے ٹکراتی ہے، دیکھیے پری جمال چہرہ، بن سنور کر کھڑی ہے، ایک طرف کچھ نوجوان بلند آواز میں گفتگو کر رہے ہیں، وہ کیوں بلند آواز میں باتیں کر رہے ہیں؟ ارے یہ تو پڑھے لکھے نوجوان ہیں مگر کیا کریں؟ سامنے کھڑی خاتون پر تبصرہ کرنا تو ضروری ہے، تفریح کا موقع بھی مل گیا، عورت کو تنگ کرنے کے سوا ان کے پاس بہترین تفریح اور کیا ہو سکتی ہے؟

ارے اس عمارت کے باہر اتنا رش کیوں لگا ہوا ہے؟ یہ تو لڑکیوں کا کالج ہے، عجیب حلیے بنائے نوجوان کالج کے باہر کیوں کھڑے ہیں؟ کیا ان سب کی بہنیں اس کالج میں پڑھتی ہیں؟ نہیں ان میں سے تو چند کی بہنیں کالج میں ہیں، باقی دوسروں کی بہن بیٹیوں کو تنگ کرنے آئے ہوئے ہیں، کیا کریں کہ تفریح تو ضروری ہے۔

کالج وین جو لڑکیوں سے بھری ہوتی ہے، بےہودہ میوزک اور وہ بھی اتنی اونچی آواز میں، گویا گاڑی پٹرول پر نہیں میوزک پر چل رہی ہے۔ ارے اس گاڑی کے اردگرد موٹر سائیکل سوار کیوں اپنے کرتب دکھا رہے ہیں؟ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ گاڑی خاتون چلا رہی ہے، موٹر سائیکل سوار ایک ادھیڑ عمر شخص کو دیکھیے، پاس سے گزرتی خواتین کو گھور گھور کر دیکھ رہا ہے حالانکہ اس نے اپنے پیچھے خاتون بھی بٹھائی ہوتی ہے، مگر بات تفریح پر ہی آکر ٹھہرتی ہے۔

وہ لڑکی تو اپنے گھر سے سوداسلف لینے کے لیے نکلی مگر گلی میں بیٹھے اوباش لڑکوں کو خود پر فقرے کستے پایا، چلیں مان لیتے ہیں کہ اس لڑکی کا قصور ہے کہ وہ آخر کیوں باہر نکلی؟ اسے تو چار دیواری کے اندر رہنا چاہیے۔ ہر کام چار دیواری کے اندر کرنا چاہیے، تعلیم حاصل کرنی ہے تو گھر کے اندر یونیورسٹی اساتذہ کو بلا لے، سودا سلف لینا ہو تو دکاندار اپنی دکان اس کے گھر لے آئے. اگر یہ ناممکنات ہیں تو پھر قدم قدم پر مشکلات کیوں؟ کیونکہ یہ مردوں کا معاشرہ جو ٹھہرا اور عورت مرد کے لیے بہترین تفریح ہے۔

عورتوں کو گھر سے باہر پردہ کر کے نکلنا چاہیے، یہ بھاشن ہم ہر روز سنتے ہیں، مگر مرد حضرات ایمانداری سے بتائیں کہ کیا وہ باپردہ خواتین کو تنگ نہیں کرتے. دعوی کیا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے، ہم خواتین کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے اور وہ مقام دینے کا دعویٰ تو کرتے ہیں جس کی وہ حقدار ہیں، مگر یہ محض دعویٰ ہی ہے حقیقت نہیں۔

دین اسلام تو عورت کو وہ مقام دیتا ہے جو باقی کسی مذہب نے نہیں دیا، عورتوں کو پردے کا حکم ہے تو مرد حضرات کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، پردہ صرف جسم کا نہیں ہوتا نگاہوں کا بھی ہوتا ہے، اس میں مرد اور عورت کی قید نہیں، نگاہ مرد کی ہو یا عورت کی، پردہ دونوں کے لیے ضروری ہے. المیہ ہمارا مگر یہ ہے کہ ہم دوسروں کو اسلامی شعائر کا درس تو دیتے ہیں مگر ہمیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

عورتوں کو جائز مقام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم منافقت کا لبادہ اتار پھینکیں، خود کو نام نہاد غیرت کی ہمالیہ سے نیچے اتار کر یہ سوچیں کہ ہم جس نظر سے دوسروں کی بہن بیٹیوں کو دیکھ رہے ہیں، شاید اسی نگاہ سے کوئی ہماری بہن بیٹی کو بھی دیکھ رہا ہو، کیونکہ دنیا مکافات عمل ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com