مستنصر حسین تارڑ زندہ رہیں گے - سائرہ ممتاز

............................
”خس و خاشاک ہو چکے زمانوں میں لاہور ایک خاموش شہر تھا...!
میں نے ایک صاحب حال بلکہ صاحب لاہور سے یہی سوال کیا کہ سوائے مجید لاہوری اور اکبر لاہوری کے کسی اور ادیب نے اپنے نام کے ساتھ لاہوری کا لاحقہ منسلک نہ کیا، جبکہ دہلوی، لکھنوی، ملیح آبادی، نانوتوی، جالندھری، لدھیانوی، پانی پتی، امروہوی، امرتسری، الہ آبادی یہاں تک کہ مچھلی شہری بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں، تو ایسا کیوں ہے؟ تو اس صاحب حال نے قدرے توقف بلکہ کشف کیا اور کہنے لگا، ایک لاہوری کی تخلیق اور اس کی شخصیت گواہی دیتی ہے کہ وہ لاہور کا ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ بھی لاہور کے حوالے سے مشہور ہوئے، ان میں سے بیشتر لاہور کے نہ تھے، لیکن یہ لاہور کی مہر تھی جس نے انھیں قبول عام کی سند عطا کی.
............................
دنیا کے ہر قدیم شہر کی آوازیں، صدائیں، سرگوشیاں، روشنیاں الگ اور منفرد ہوتی ہیں، اور یہ ہزاروں برس سے آباد ان بستیوں کی تاریخ، ثقافت اور مذہب میں سے جنم لیتی ہیں. وہ دنیا کا سب سے قدیم آباد شہر جو اب برباد ہو رہا ہے، دمشق ہو، قرطبہ، مکہ مکرمہ، سمرقند، قونیہ، تبریز یا استنبول، آپ آنکھیں بند کر کے ان میں داخل ہو جائیں، ان کی صداؤں سے آپ پہچان جائیں گے کہ آپ کس شہر میں ہیں، آنکھیں کھول کر دیکھیں تو اس کی روشنیاں اس کے نام کی مالا جپتی ہوں گی، اسی طور شہر لاہور کی آوازیں، صدائیں، سرگوشیاں اور روشنیاں بھی الگ اور منفرد ہیں..
............................
لاہور کی ایک گلی کا نام گھنگرو سازاں ہے، تو ذرا اس میں جھانک کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں گئے زمانوں میں جتنے بھی خاندان آباد تھے، ان سب کا پیشہ گھنگھرو سازی تھا.
پائل میں گیت ہیں چھم چھن کے
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے
............................
لاہور آج سے تقریباً پینسٹھ برس پیشتر ایک بخار تھا، ایک وحشت ایک جنون تھا، جس کا رنگ بسنتی تھا۔ اور لوہاری دروازے اور انار کلی چوک کے آس پاس متعدد تاریخی کتاب گھر ہوا کرتے تھے، ان میں مکتبہ جدید سر فہرست تھا، جہاں محمد حنیف رامے، سیاست دان کم اور خطاط اور دانشور زیادہ، بیٹھا کرتے تھے، اور میں نے منٹو کی کتاب ”اوپر نیچے اور درمیان“ حاصل کرنے کے لیے انہیں شاید آٹھ آنے پیشگی ادا کیے تھے.
............................
میں وہ جولاہا ہوں جو اپنی کنڈی پر بیٹھا رنگ رنگ کے مختلف دھاگوں سے لاہور کی تصویر کا ایک ایسا کھیل بُن رہا ہوں جس کے نقش اور آرائش واضح نہیں ہیں. لوہاری کے آغاز میں ہر جانب خوراکوں اور مٹھائیوں کی دکانوں پر اس سویر بھی لاہوریوں کے ہجوم تھے، جو دنیا کے بہترین کھانے، حلوہ پوری، نہاری، سرخ بوٹی، سری پائے اور جانے کیا کیا. ذرا آگے جا کر ایک دوراہا آیا. ڈاکٹر انیس نے ایک نانبائی سے پوچھا کہ بھائی جی اس جگہ کو کیا کہتے ہیں تو وہ کہنے لگا ”بھا جی... یہ چوک چکلا ہے“ ڈاکٹر انیس نے حیرت سے میری طرف دیکھا ”تارڑ صاحب آپ کے ناول راکھ کا آغاز مجھے بے حد پسند ہے کہ چار چیزیں ہیں جو ہر دسمبر میں مجھے بلاتی ہیں، قادر آباد جھیل میں مرغابیوں کا شکار، دریائے راوی کے کنارے کامران بارہ دری، سورت کا ایک سلیٹی منظر اور چوک چکلا، تو میرا خیال تھا کہ چوک چکلا آپ کے تصور کی پیداوار ہے. یہ تو واقعی ہے.. یہی ہے؟“
............................
مائی موراں کی مسجد، مائی موراں جس کو دیکھ کر رنجیت سنگھ، مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کہا تھا کہ مجھے دو چیزیں پسند ہیں ایک اتھری گھوڑی، اور دوسری اتھری رن، اور پھر مائی موراں کو اپنے حرم میں داخل کر لیا.
سلطان ٹھیکیدار جس کا ذکر کنہیا لال نے تاریخ لاہور میں کیا ہے..
اور موچی دروازے کی بسنت، جہاں سردار سرجیت سنگھ کا دواخانہ ہے. “
............................
اور آج لاہور کے آوارہ گرد عاشق، مستنصر حسین تارڑ صاحب کی سالگرہ ہے،
لاہور جن کے دل میں زندہ رہتا ہے، وہ کبھی نہیں مرتے، نہ ہی ان کا دل دھڑکنا بھولتا ہے،
انھیں سالگرہ کی بہت بہت مبارکباد، دعا ہے وہ جیتے رہیں، صحت کے ساتھ سلامت رہیں، جب تک لاہور زندہ رہے گا، مستنصر حسین تارڑ زندہ رہیں گے...

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */