سرکہ کو شہد بنالیجیے - قاضی عبدالرحمن

بر ہیچ کس افسانہِ امید نخواندیم
عمریست ہمیں بیکسی ماست کسِ ما
(بیدل رح)
ترجمہ:
”ہم نے اپنا افسانہ امید کسی کو بھی نہیں سنایا، اک عمر سے یہی کمزوری , ہماری طاقت ہے.“

بات یہ ہے کہ جب ہوا موافق ہو تو ہر کوئی کشتی کھے سکتا ہے. ملاح کے عزم کا اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب ہوا ناموافق ہو اور سمندر طوفان کی زد میں ہو. جس زندگی میں راوی عیش ہی عیش لکھ رہا ہو، ایسی زندگی کے عادی کا کمال حاصل کرلینا کون سی بڑی بات ہے. مزہ تو تب ہے جب شب و روز تلخی اور ترشی سے عبارت ہوں اور ایسی زندگی گزارنے والا، ان ایام کو شیریں بنانے کے فن سے آگاہ ہو. کمال تو تب ہے جب آپ غموں سے خوشیاں نچوڑ لیں اور ظلمتوں میں نور برآمد کرلیں. انگریزی کا مقولہ ہے،
”When life gives you lemons, make lemonade.“
یعنی جب زندگی تمہیں لیموں دے تو اس سے لیموں شربت بنائیے!
ایک دانا کا قول ہے، ”ذکی اور عقلمند وہ نہیں جو اپنے فائدوں میں اضافہ کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اپنے نقصان کو بھی فائدے میں بدل دے۔“

ماضی کے دفاتر کھنگالیے اور دیکھیے کہ کس طرح انسانی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والی شخصیات نے لوگوں سے ملنے والے سنگ کو سنگ میل اور ترش حالات کو شیریں بنادیا-قیدخانے میں آزادی کے خواب دیکھے، جلاوطنی کے دور میں سیاحت کی، عسرت بھری زندگی میں سعادت سے چمٹے رہے اور موت آئی تو شہادت کے دامن آغوش میں پناہ لے کر. آئیے چند مثالیں لیتے ہیں.

¤ حدیبیہ کے مقام پر صلح ہو رہی ہے جس میں اکثر شرائط کفار مکہ کی مسلمانوں کے خلاف ہیں، ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ آجائے تو مسلمان اسے لوٹانے کے پابند ہوں گے اور اگر اس کے برعکس مدینہ سے کوئی مرتد ہو کر آجائے تو مکہ والے اسے نہیں لوٹائیں گے. ظاہرا تو یہ اسلام پر روک لگ گئی مگر داعی اعظم اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و سلم نے صلح کے اس دور کو تبلیغ اسلام کے لیے استعمال کیا اور وہ اسلام جو آج تک کفار و قریش سے لڑائی کے سبب عرب کے حدود سے باہر نہیں نکل پایا تھا، اب شہنشاہان عجم کے ایوانوں میں دستک دینے لگا اور یہ دور فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہوا.

¤ قد کی پستی حضرت ربیع بن عامر رضی اللہ عنہ کو عظیم جرنیل اور فاتح بننے سے نہیں روک پاتی ہے.

¤ بنو امیہ کا شہزادہ اور دارالخلافہ بغداد کا ولی عہد عبدالرحمن الاول، بنو عباس کے ہاتھوں ”بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے“ کی مجسم تصویر بنے بغداد سے نکلنے پر مجبور ہو جاتا ہے، پانچ سال تک مسلسل بےوطنی کی زندگی میں ٹھوکریں کھاتا ہے، مگر اولوالعزمی اور شجاعت کو مرنے نہیں دیتا بلکہ مسلسل آبیاری کرتا ہے اور بغداد کا ولی عہد، اندلس کے تخت کا مالک بن جاتا ہے.

¤ سلطان محمد الفاتح، کم عمری اور چند درباریوں اور صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود قسطنطنیہ کے ناقابل تسخیر شہر کو ”خشکی پر جہاز چلاکر“ اپنے عزم مصمم سے فتح کر لیتا ہے اور ناممکن فتح کی نئی داستان رقم کرتا ہے.

¤ امیر شکیب ارسلان کو خلافت عثمانیہ کی حمایت کے سبب عرب کے نااندیش حکمرانوں نے ملک بدر کر دیا. امیر شکیب ارسلان نے اس دور جلاوطنی کو دور سیاحت سے بدل دیا اور مشاہدہ کی بدولت قلم کی نوک سے قرطاس کے جگر پر ادب و عالمی سیاست و ملت براہیمی سے متعلق وہ نقوش بکھیرے کہ مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی بھی اس ادیب کے تعریف میں رطب اللسان نظر آئے.

¤ تاتاریوں کی یلغار، عالم اسلام کا سمٹتا وجود اور وسائل کی قلت، یہ سب یک چشم رکن الدین بیبرس کو ہلاکو کے ٹڈی دل سے مقابلہ کرنے سے روک نہیں پاتے ہیں. اور طرہ یہ کہ تاتاریوں کے مقابلے میں جیت حاصل کر کے ملک عرب و افریقہ کا سلطان الفاتح رکن الدین بیبرس بن جاتا ہے.

¤ مغلوں سے ملی آدھی درجن شکستیں بھی فریدالدین سوری کے شہنشاہ ہند شیر شاہ سوری بننے میں مزاحم نہیں ہوپائیں.

آپ کانٹوں کے درمیان گلاب بن کر کھلیے اور ماحول کو مہکا دیجیے - سرکہ کو شہد بنالیجیے. اسی بات کو شاعر نے کس خوبصورتی سے بیان کیا!

دھکّا دیا تھا اس نے ڈبونے کے واسطے
ہم ہاتھ پاؤں مار کے تیراک ہو گئے
معصومیت کا دور خلش اب گزر گیا
اتنے فریب کھائے کہ چالاک ہوگئے

اور یہ بھی،
ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */