سوشل میڈیا ڈپریشن کی وجہ - مدیحی عدن

سوشل میڈیا پہ اکثر ہر دوسرا انسان ہمیں اپنے سے زیادہ پرفیکٹ اور بھرپور زندگی گزارتا نظر آتا ہے، حالانکہ وہ اپنی زندگی میں رونماہ ہونے والے چند خوشی کے لمحات کو ہمارے ساتھ شئیر کرتا ہے جس سے ہمارے اندر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید سب کی زندگیاں خوشیوں سے بھرپور اور مکمل ہیں۔ وہ انسان ہمیں ہمیشہ اپنی زندگی کی برائٹ، کلر فل سائیڈ دکھاتا ہے اور اپنی زندگی کی ڈارک سائیڈ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اسے شئیر کیا جائے کیونکہ زندگی کا وہ پہلو اس انسان کو بھی افسردہ اور اداس رکھے ہوتا ہے، اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کی زندگی کے بہت سے ڈارک شیڈز ہمیں نظر آئیں۔

دوستوں کی نیوز فیڈز دیکھ کر انسان سمجھتا ہے کہ سب اپنی زندگی میں اتنا انجوئے کر رہے ہیں، اور ہم ہیں کہ بوریت کا شکار اور اکتاہٹ کے مارے ہوئے ہیں۔ بس دن بھر پوسٹ پر لائک مارنے کے ہی قابل رہ گئے ہیں، یہ سوچ ان کی بوریت اور اکتاہٹ کی کیفیت اور ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کرتی ہے جو بعد میں ڈپریشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ نوجوان طبقہ سوشل میڈیا سائٹس پر اچھا خاصا وقت گزارتا آتا ہے، یہ وقت خوشی دینے کے بجائے ان کے اندر جذباتی پریشانی کو مزید پروان چڑھاتا ہے، جس نے اب باقاعدہ ایک مرض کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسے ہم ”فیس بک ڈپریشن“ کا نام دے سکتے ہیں.

روز کی روٹین کا آغاز دوسروں کی بہترین سیلفیوں، لذیذ کھانوں، خوشگورا شادی شدہ جوڑوں، شاندار کاروں جیسی تصویریں دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور ان کا موازنہ اپنی حسرتوں اور محرمیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کا انسان زیادہ تنہا، الگ تھلگ اور اداس ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں انسان کا دماغ عجیب آئیڈیل زندگی کی زد میں آتا جا رہا ہے۔ آئیڈیل ازم بھی عجیب چیز ہے، ایسی کیفیات کےساتھ انسان اپنی طبیعت کو بوجھل رکھتا ہے، اچھے بھلے حالات میں بھی وہ سمجھوتہ کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتا، اور پھر یہی آئیڈیل ازم آہستہ آہستہ ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خود کلامی - محمد منیب خان

حالیہ ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا پر انسان ایسی پوسٹ شئیر کرنا زیادہ پسند کرتا ہے جس میں وہ عام روٹین سے ہٹ کے کچھ منفرد کر رہا ہو۔ وہ اپنا بہترین امیچ لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے، اور مختلف قسم کی چیزوں اور برانڈز کا سہارا لے کر اپنی ایک شناخت متعارف کرواتا ہے، مثلاً اکثر مخصوص کھانے، بہترین ہوٹل، سیر و تفریح کی اعلی جگہیں، دوستوں کے ساتھ انٹرٹینمنٹ اور تازہ سیلفیز، اور تصویریں سب سے زیادہ شیئر کی جاتی ہیں۔ ایک پرفیکٹ سیلفی پوسٹ کرنے کے لیے کئی سیلفیز لی جاتی ہیں اور پھر سب سے بہترین سیلفی پوسٹ کی جاتی ہے۔ جبکہ عام روٹین میں وہی انسان اپنےگھر پر کس حالت میں رہتا ہے، زندگی میں کن پریشانیوں کا سامنا ہے، روزمرہ کے کیا کیا مسائل درپیش ہیں، اس پر مبنی پوسٹ اور تصاویر شاذ و نادر ہی شئیر کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی غلطی سے ایسی تصویر پر ٹیگ بھی کر دے تو اپنے بہتر امیج کو برقرار رکھنے کے لیے فوراً ٹیگ ہٹا دیا جاتا ہے۔

روزانہ دوسروں کو مکمل زندگی انجوئے کرتے دیکھ کر انسان کو اپنا آپ برا لگنے لگتا ہے، اور وہ ہر وقت خود کو ناکام تصور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس پر فیکشن اور بھرپور زندگی کے چکر میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ تصویر کو صرف ایک رخ سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسا رخ جس میں سب کی زندگیاں مکمل اور خوشیوں سے بھرپور تو نظر آ رہی ہوتی ہیں، دوسرا رخ یعنی پریشانیاں، اداسیاں، حسرتیں کہیں دکھائی ہی نہیں جاتیں، اس لیے اس کا ذہن یہ سوچنے سے قاصر ہوتا ہے کہ سب کی زندگیاں اس کی زندگی جیسی نارمل ہیں، ان میں بھی بہت سی حسرتیں اور محرومیاں ہیں لیکن وہ ایسی منفرد نہیں کہ انھیں شئیر کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سب لبرل ہیں - درّ صدف ایمان

تصویر کا ایسا رخ جس میں خود کو مکمل اور بھرپور کر کے دکھایا جاتا ہے، وہ اصل میں نامکمل اور ادھورا ہوتا ہے، جو سوائے سوچ کے دھوکےاور فریب کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آئیں آج سے سب کو نارمل انسان کے طور نارمل سی اپنی جیسی زندگی گزارتے سوچیں!

Comments

مدیحی عدن

مدیحی عدن

مدیحی عدن ایک سوچ کا نام ہے جو ایک خاص زاویے سے دیکھی گئی تصویر کے دوسرے رُخ کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشرتی صورت حال کے پیش نظر انھیں مایوسیاں پھلانے سے سخت الرجی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قلم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ سوچ اور امید کے ساتھ سمت کا بھی تعین کر دیتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں