خیبرپختونخوا میں جہیز پر پابندی - آصف محمود

مبینہ طور پر کے پی کے اسمبلی آج جہیز پر پابندی کا بل پیش کرنے جا رہی ہے. سوال یہ ہے کیا اس طرح کی قانون سازی سے جہیز کی لعنت سے نجات پانا ممکن ہے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے.

کچھ معاشرتی برائیاں ایسی ہوتی ہیں جو قانون بنانے سے ختم نہیں ہوتیں، ان کے لیے سماج کی تربیت ضروری ہوتی ہے. اب یہ چونکہ ایک ایسا طویل اور کٹھن کام ہے جس کے تصور ہی سے فرہاد جیسوں کا پتہ آب ہو جائے، اس لیے شارٹ کٹ اختیار کرتے ہوئے ایک قانون بنایا جاتا ہے اور تصور کر لیا جاتا ہے کہ اب چونکہ قانون بن گیا، اس لیے برائی ختم ہو گئی. حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا. نفاذ شریعت ہو یا سماج کی تہذیب یہ محض چند سزاؤں کے نفاذ کا نام نہیں. یہ ایک مکمل پیکج ہے جس میں تربیت پہلے آتی ہے اور تعزیرات کا نفاذ آخر میں آتا ہے.

کوئی سمجھتا ہے کہ جس باپ سے اس کی بیٹی کے نام پر جہیز لیا جائے گا، وہ بیٹی کو رخصت کر کے حکام کو جا کر شکایت لگائے گا کہ اس سے بھاری جہیز لیا گیا ہے تو ایسے آدمی کو اولین فرصت میں کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے. اس شکایت کے دو منطقی نتائج نکلیں گے. اس کی بیٹی کی زندگی میں زہر گھل جائے گا یا یہ مردانہ معاشرہ اسے طلاق دے کر گھر بھیج دے گا. کون احمق ہوگا جو اپنی بیٹی پر جہیز کو ترجیح دے.

جہیز اور دیگر لعنتیں اس وقت ختم ہوں گی جب سماج کی اتنی تربیت ہو جائے کہ وہ ان لعنتوں کو واقعی لعنت سمجھنا شروع کر دے. اور یہ تربیت صرف اقوال زریں سنانے سے نہیں ہوگی. جو لوگ معاشرے میں اس حیثیت کے مالک ہوں کہ عوام ان سے انسپائر ہوتے ہوں، انہیں اپنے عمل سے بھی ثابت کرنا ہوگا کہ یہ سماجی برائیاں واقعی برائیاں ہیں. لیکن جب صاحب اقتدار کی بیٹی شادی کے وقت سونے سے لاد دی جائے اور وزیر محترم کی صاحبزادی کی شادی ایک فریضہ کم اور دولت کی نمائش زیادہ بن جائے تو نیم خواندہ سماج سے یہ توقع نہ رکھیے کہ وہ قانون کی چند سطروں سے سدھر جائے گا.

اس قانون سے تو کچھ ہونے والا نہیں. البتہ عمران خان اگر اپنے کارکنان سے عہد لیں کہ وہ باپ یا بیٹا جس حیثیت میں بھی ہوں جہیز نہیں لیں گے تو یہ تربیت کا نقش اول ثابت ہو سکتا ہے.

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */