سیہون - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اک شاپر گوشت ملا ہے
کچلی ہوئی امیدوں کا
درد میں ڈوبی روحوں کے
دم توڑتے نوحوں کا
اک بوتل تھی ٹوٹ گئی ہے
منت کے روغن میں لپٹی
امیدیں بھی چھوٹ گئی ہیں
میرا بچہ چھوٹا سا تھا
خالی فیڈر صحن سے ملا ہے
باقی کچھ بھی باقی نہیں ہے
وہ بابا کھچڑی بالوں والا
وہ اماں کالی چادر والی
مجنوں انگارہ آنکھوں والا
سب ہی کہیں گم سے گئے ہیں
نئی نویلی دلہن تھی اک
سوہا جوڑا ماتھے پہ ٹیکا
ہاتھ پہ مہندی
ساتھ سجن کے
دعائیں لینے آئی تھی نا
اس روز عجب نظارا دیکھا
سوہا جوڑا خون کے چھینٹوں سے رنگ کے
بیوہ رنگ سا لگتا ہے اب
مہندی بھی رنگ کھو بیٹھی ہے
مانگ کا ٹیکا خاک بنا ہے
جب سے ساجن راکھ بنا ہے
اک شاپر گوشت میں مترو
کیا کیا کچھ تم تول کے دو گے
کتنے ہی انمول رتن ،
بے دام ، بے مول ہی دو گے
چھوڑو تم اس گوشت کے بدلے
گندم کے چند دانے دے دو
گھر پر بچے بلک رہے ہیں
میں ابھاگن اس گوشت کو دیکھوں
یا گھر پر بھوکے زندہ پیٹ کو دیکھوں
رہنے دو صاحب رہنے دو
گوشت کا شاپر رہنے دو

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں