ذہانت کے مختلف مراحل - روبینہ شاہین

انسان اور انسانی دماغ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتے رہے ہیں۔ اس سفر میں اسے مختلف ادوار اور ذہانتوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ کبھی جسمانی طاقت ہی اصل محور تھی۔پھر ایک دور آیا کہ نمبرز اور اعداد ذہانت کا معیار سمجھے جانے لگے۔ 1905ء میں الفریڈ بنٹ نے پہلا انسانی ذہانت کو ماپنے والا ٹیسٹ ایجاد کیا۔ یہ ابتدائی دور تھا، جب ذہانت کو ماپا اور پرکھا جا رہا تھا کہ یہ کیا ہوتی ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ طے پایا کہ ذہانت ایک نہیں ہوتی، بلکہ نو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک انسان میں مختلف ذہانتیں بھی پائی جا سکتی ہیں۔ ہارورڈ گارڈنز کی اس تھیوری نے انقلاب برپا کر دیا اور اس بحث کا آغاز کیا جو آج ہمارا موضوع ہے۔ اس نے 1983ء میں Frames Of mind نامی کتاب میں اپنی مشہور زمانہ تھیوری پیش کی اور ان ذہانتوں کا ذکر کیا، جو انسان میں پائی جاتی ہیں۔
1. Linguistic
2. Logical-mathematical
3. Musical
4. Bodily-kinesthetic
5. Spatial
6. Interpersonal
7. Intrapersonal
گارڈنز کی چھٹی اور ساتویں ذہانت کو بعد ازاں ”ایموشنل انٹیلی جنس“ میں ضم کرد یا گیا۔ 1999ء میں گارڈنز نے ایک اور ذہانت کا اضافہ کیا۔ اسے فلاسفیکل ذہانت کا نام دیا جو کہ روحانیت، اخلاقیات اور مذہب سے مل کر وجود میں آتی ہے۔ پھر اس سے بھی آگے دنیا اس نتیجے پر پہنچی کہ جو شخص ایموشنز کو سمجھ بوجھ کر استعمال کرتا ہے، وہ اصل میں ذہین ہے۔ اسے Emotional Intelligence Theory کا نام دیا جاتا ہے۔گذشتہ دہائیوں میں اس پر بہت سارا کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔

Emotional intelligence کیا ہے؟
ایموشنل ذہانت اصل میں وہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم اپنے جذبات کو سمجھتے ہیں اور پھر موقع کی مناسبت سے ان کا اظہار کرتے ہیں۔ ایموشنل انٹلی جنس میں صرف خود کو ہی نہیں سمجھنا بلکہ دوسروں کو بھی سمجھ کر ان کی ذہانت اور صلاحیتوں کو کام میں لانا ہے۔ محبت، نفرت، غم اور غصہ، ان کو سمجھنا، اور اعتدال پر رکھتے ہوئے مختلف مواقع پر اظہار ہی اصل میں ایموشنل انٹیلی جنس ہے، جو شخص جتنا زیادہ جذبات پہ قابو رکھتا ہے، اتنا ہی وہ ذہین ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رخصتی - طوبیٰ ناصر

Spiritual Intelligence کیا ہے؟
ایموشنل انٹیلی جنس سے آگے بھی ایک ذہانت ہے۔ spiritual یعنی روحانیت، انسانی جتنا روحانی طور پر اندر سے مضبوط ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ ذہین ہوتا ہے۔

انسان کا وجود دو چيزوں سے مرکب ہے۔ ايک جسم اور دوسری روح۔ جس طرح جسم کی خوراک ہے اسی طرح روح کی بھی خوراک ہے۔ اگر جسم کی خوراک کی کمی مختلف عوارض کا سبب بنتی ہے تو اسی طرح روح کی خوراک کی کمی بھی۔ روحانی طاقت اصل میں مذہب سے ملتی ہے، جبھی اللہ نے ہر دور میں نبی اور رسولﷺ بھیجے تاکہ انسان کی جسمانی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ روحانی ضرورتیں بھی پوری ہوں، اور انسانیت ترقی کی طرف گامزن ہو۔ اسی کی طرف واصف علی واصف نے اشارہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان کا سب سے بڑا سفر اگر کوئی سکتا ہے تو اس کے اندر کا سفر ہے۔ اگر وہ سارے زمانے کے علوم پڑھ لے مگر اپنے اندر تک نہ پہنچے تو سب بے کار ہے۔ لیلیٰ گفتی لکھتی ہیں کہ تم زیادہ کمالات کر سکتے ہو، اگر خدا پر یقین رکھتے ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کو سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں نے پہنچایا جو اللہ والے تھے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں
کہ من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
یعنی ایمان کی نعمت ہی اصل اور پائیدار ہے، باقی سب فانی۔

اس سے یہ نکتہ سامنے آیا کہ انسان کی کمال درجے کی ذہانت اور قوت اگر کوئی ہو سکتی ہے تو وہ اس کا ایمان اور عقیدہ ہے۔ وہ جتنا زیادہ اللہ اور اس کی ذات پر پختہ ایمان رکھتا ہے اتنا ہی زیادہ ذہین ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ وہ احکام الہی کا پابند ہوتا ہے اتنا ہی وہ برگزیدہ اور پرہیزگار کہلاتا ہے۔ اور جتنا وہ پرہیزگار اور گناہوں سے بچنے والا ہوتا ہے، اس کی روحانی صلاحیتیں اتنی ہی مضبوط ہوتی ہیں، اور وہ اپنے اور اپنے معاشرے اور قوم کے لیے سود مند ہوتا ہے۔
بقول اقبال
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.