پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز کس نے کیا؟ مرزا شہبازحسنین بیگ

پاکستان میں تخریب کاری و دہشت گردی کا آغاز کب ہوا اور اس کی بنیاد کس نے رکھی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا از حد ضروری ہے، کیونکہ مرض کی تشخیص کیے بنا مرض کا علاج کرنے سے افاقہ ہونے کے بجائے اور بگاڑ پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ حقائق کی روشنی میں پرکھا جائے تو حیران کن عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔

نوجوان نسل کو نام نہاد لبرلز اور ترقی پسند دانشوروں نے تصویر کا ایک ہی رخ دکھانے کی ٹھان رکھی ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ شکل جنرل ضیاءالحق کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ مگر تصویر کا ایک ہی رخ پیش کرکے دانستہ طور پر بد دیانتی کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے درست عوامل کا علم ہونا ضروری ہے تاکہ عوام اپنے ملک کے لیے قربانیاں دینے والوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔ 70ء کی دہائی میں پاکستان میں ترقی پسند اور روسی کمیونسٹ نظام کے حمایتی دانشوروں اور سیاست دانوں کا وسیع حلقہ موجود تھا۔اس دور میں خود کو لیفٹ کی سیاست کا علمبردار کہنے والی جماعتیں فعال تھیں، اور نہایت قدآور سیاسی رہنما کمیونسٹ نظام کے حامی تھے۔ باچا خان افغانستان میں موجود تھے، اور ولی خان نے نیشنل عوامی پارٹی کی کمان سنبھال رکھی تھی۔ اجمل خٹک افغانستان چلے گئے تھے۔ افغانستان کی پرچم پارٹی اور سردار داؤد کے ساتھ ان کے روابط تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سر کردہ کارکن افغانستان کے راستہ روس جا کر کمیونسٹ نظام کو پاکستان میں رائج کرنے کے لیے روسیوں سے باقاعدہ ٹریننگ حاصل کرتے تھے۔ انھی لیڈروں نے بلوچستان میں بلوچ رہنماؤں کو بھی حکومت پاکستان کے خلاف اکسایا اور علیحدگی کی تحریک چلانے کے لیے افغانستان میں ٹریننگ کیمپ قائم کیے۔ خیبرپختونخوا کے ساتھ بلوچستان میں پختون عوام کو ریاست کے خلاف اکسایا اور تخریب کاری کی تربیت کے لیے انھیں افغانستان بھیجا۔ وہاں سے یہ نوجوان تربیت حاصل کر کے پاکستان میں تخریب کاری کرنے میں لگے۔

اس زمانے میں کمیونسٹ نظریات کے حامی سیاسی رہنماؤں نے نوجوانوں کو فکری مغالطوں میں مبتلا کر کے تخریب کاری کو ہوا دی، منظم ہونے میں مدد کی۔ 1971ء سے 1975ء تک کا عرصہ دہشت گردی اور بدامنی سے بھرپور ہے۔ اس دوران پیپلزپارٹی کے رہنما حیات خان شیر پاؤ کو ایک تقریب کے دوران بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ اس وقت ذوالفقار بھٹو کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ حیات خان شیر پاؤ کے قتل میں ملوث افراد کے سہولت کار پکڑے گئے، بعض افغانستان فرار ہوگئے۔ اس زمانے میں اجمل خٹک نے ایک کتاب جس میں پختون زلمے تنظیم کی تخریبی سرگرمیوں کی تفصیل موجود تھی، اشاعت کے لیے لندن بھیجی۔ حیات خان شیرپاؤ کو بم دھماکے میں قتل کرنے کا کارنامہ بھی کتاب میں شامل تھا۔ یہ بم دھماکہ سردار داؤد کے علم میں لائے بغیر کیا گیا، بعد میں اجمل خٹک اور ولی خان دونوں اس سے انکاری ہوگئے۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ عوام الناس کو معلوم ہو جائے کہ کس طرح افغانستان اور نام نہاد کمیونسٹ نظام کے حامیوں نے مل کر معصوم اور بےگناہ پاکستانی عوام کا خون بہایا، اور خطے میں دہشت گردی کے بیج بوئے۔ حقائق کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز ہرگز مذہبی بنیادوں پر نہیں ہوا تھا، بلکہ دہشت گردی کا آغاز کرنے والے قوم پرست اور کمیونسٹ نظریات سے متاثر لوگ تھے۔ ان تمام واقعات کی تفصیل جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب فریب ناتمام میں نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے، اور بتایا ہے کہ کس طرح سادہ لوح بلوچ اور پختون نوجوانوں کو ان لیڈروں نے فریب کاری سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جمعہ خان صوفی کے بیان کردہ حقائق کو نظرانداز کرنا اس لیے ممکن نہیں کیونکہ وہ بذات خود عملی طور پر کابل میں اجمل خٹک کے ساتھ موجود تھے، اور اس کو منظم کر رہے تھے۔ اس کمیونسٹ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں نے ذوالفقار بھٹو کے حکم پر آپریشن کیا اور حالات پر قابو پایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پالیسی کا آغاز بھٹو دور میں ہوا تھا اور اس کے ذمہ دار کمیونسٹ رہنما اور تنظیمیں تھیں. بعدازاں افغانستان میں روسی افواج کی مداخلت کی وجہ سے ریاست کو اس جنگ میں مجبورا شامل ہونا پڑا تاکہ روسی مداخلت کو پاکستان تک پہنچنے سے روکا جائے، جس میں وہ کامیاب رہی۔ کمیونسٹ حضرات جنھوں نے اب لبرلزم کا لبادہ اوڑھ لیا ہے، کا سچ بیان کرنے سے گریز سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت کا کم و بیش چار دہائیوں سے سامنا ہے، معصوم انسانوں کا خون بے دردی سے بہایا جارہا ہے۔ ریاستی ادارے اور ہماری فوج لازوال قربانیوں کے ذریعے اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ پولیس، رینجرز اور فوج کے جوانوں نے اپنے جانیں اس دھرتی کے لیے نچھاور کی ہیں، اور آج تک دہشت گردوں کے خوفناک اور جان لیوا حملوں کے دوران ہمارے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں نے پیٹھ نہیں دکھائی، ہمیشہ آگے بڑھ کر اپنی جان کی قربانی دی اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ مگر اس کے باوجود جیسے ہی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو لبرلزم کے پرچم تلے جمع ہونے والے کمیونسٹ طبقے کی طرف سے فوج اور عسکری اداروں پر بے رحمانہ تنقید شروع ہو جاتی ہے، اور یہ پرانا حساب کتاب برابر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انھیں ابھی تک افغانستان میں سوویت یونین کی شکست، اور پاکستان میں سرخ ٹینکوں کے اسلام آباد نہ آنے کا غم نہیں بھولا، ادھر کوئی المناک سانحہ ہوا اور ادھر وہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف جی بھر کر دل کی بھڑاس نکالنا شروع ہوجاتے ہیں۔اس لیے وہ کہتے ہیں کہ موجودہ دہشت گردی جنرل ضیاءالحق کے لگائے گئے درخت کا پھل ہے، اور تمام مسائل فوج کے پیدا کردہ ہیں، ضیاء الحق انھیں کیسے بھول سکتا ہے، جس نے سرچ پاکستان کا خواب چکنا چور کر دیا تھا.

د ہشت گردی کے بنیادی عوامل مختلف ہیں۔ محض مذہبی انتہا پسندی ہی وجہ نہیں۔ افغانستان کی سرزمین ہمیشہ سے پاکستان کے عدم استحکام کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، اور یہاں کے کمیونسٹ اور لبرل حلقے اس میں آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان کو جوابی حکمت عملی پر مجبور کیا گیا، اس لیے صرف پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا اور ریاستی اداروں کو افغانستان میں ھونے والی خرابی کا ذمہ دار قرار دینا قرین انصاف نہین ہے۔ بلاشبہ غلطیاں سرزد ہوئیں مگر پاکستان دشمن عناصر کو کھلی چھوٹ دینا اور محض مذہبی طبقے اور سلامتی کے اداروں کو رگیدنا درست نہیں ہے۔ یہ بےجا تنقید افواج پاکستان کے تاثر کو عوام کے اندر متنازعہ بنانے کی دانستہ کوشش کے زمرے میں آتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم سلامتی کے اداروں کے ساتھ عزم مصمم کے ساتھ کھڑی ہو اور انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے افواج پاکستان اور سلامتی کے تمام اداروں کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعاون کرے. لبرلز اور پرانے کمیونسٹوں کو چاہیے کہ پرانا غصہ تھوک دیں، اپنے طرزعمل پر غور کریں اور تنقید برائے تنقید کے ذریعے دشمن کے ہاتھ مضبوط نہ کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */