صوبائی تعصب کی سٹیریو ٹائیپنگ - محمد زاہد صدیق مغل

میں نے پیدائش سے لے کر 30 سالہ زندگی کراچی میں گزاری اور اسی شہر میں شعور و تعلیم کی منزلوں کو طے کیا۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ پاکستان میں جب کبھی کسی معاملے میں پنجاب بمقابلہ کوئی دوسرا صوبہ نظر آئے اور پنجاب کے مقابلے میں دوسرے صوبے کو کوئی نقصان ہو رہا ہو یا پنجاب کو کسی بنیاد پر کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو تو علی الرغم اس سے کہ بیان کیے جانے والے واقعے کی نوعیت کیا ہے، نیز آیا یہ جھوٹ ہے یا سچ، "صوبائی عصبیت" نامی شے مارکیٹ میں بکنے کے لیے لانچ کردی جاتی ہے، (بشمول ان صوبوں کے بعض لیڈرران کی طرف سے) اور بدقسمتی سے چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے احباب اس نوع کو خریدنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اس معاملے کے دیگر بہت سے ایسے پہلو ہوتے ہیں جن کے پیش نظر معاملے کی اس سے بہت بہتر توجیہ سمجھ میں آجاتی ہے، مثلا وہ کوئی انتظامی نوعیت کی چیز ہوتی ہے، یا اس میں میرٹ کا کوئی پہلو ہوتا ہے، یا اس میں کوئی ٹیکنیکل پہلو ہوتا ہے وغیرہ (میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کبھی کوئی نامناسب فیصلہ ہوا ہی نہیں)۔ اس کے مقابلے میں جب معاملہ اس کے برعکس ہو تو پنجاب سے اس قسم کی آواز بلند نہیں ہوتی (اس رویے کی اپنی تاریخی بنیادیں ہیں)۔

چنانچہ چند سال پہلے اٹھارویں ترمیم کے بعد جب گیس کی تقسیم کو صوبائی معاملہ قرار دیا گیا تو ایک طرف سردیوں کے موسم میں پنجاب کے بیشتر علاقوں میں لوگوں کو چولہا جلانے کے لیے بھی گیس میسر نہ تھی جبکہ دوسری طرف سندھ اور خیبرپختونخوا میں اسی گیس کو 24 گھنٹے گاڑیوں میں ڈال کر جلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اب اگر ایسی صورت حال اس کے برعکس پیدا ہوجاتی تو پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اسے ”صوبائی تعصب“ اور ”حق غصب“ کرنے جیسے عنوانات سے مارکیٹ میں لانچ کردیا جاتا، بلکہ شاید 18ویں ترمیم ہی کو سازش کا نام دیا جاتا۔ اسی طرح زرداری دور حکومت میں پنجاب کی انڈسٹریز کو گیس کی فراہمی معطل کر کے انھیں نقصان پہنچایا گیا، لیکن اگر اس کے برعکس صورت حال ہوتی تو اسے ”سندھ دشمنی“ کا نام دے کر مارکیٹ میں لانچ کر دیا جاتا۔ زیادہ دور کیوں جائیں، کالا باغ ڈیم کو لیجیے جس کے نہ بننے کی سب سے بڑی قیمت سیلابوں کی صورت میں ہر دوسرے تیسرے سال پنجاب چکاتا ہے۔

یعنی کہ اصول یہ ٹھہرا کہ مثلا پی پی پی یا اے این پی اپنے مفادات کے لیے سندھ و خیبرپختونخوا لوگوں کو حقوق سے محروم رکھ کر ان کا جس قدر مرضی استحصال کریں تو یہ بالکل بھی تعصب نہیں، اسی طرح اگر دیگر صوبوں کی نمائندہ پارٹیوں کے کسی اقدام کی وجہ سے پنجاب کو نقصان ہوجائے تو یہ بھی تعصب نہیں، لیکن اگر پنجاب کی نمائندہ پارٹی کے کسی اقدام کی وجہ سے کسی دوسرے صوبے کے لوگوں کو نقصان ہورہا ہو تو یہ خالصتا اور صرف اور صرف تعصب کی بنا پر ہوتا ہے، اس کا کوئی دوسرا انفرادی و ٹیکنیکل پہلو ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ وہ غیر علمی مفروضہ ہے جسے ہمارے سمجھدار و پڑھے لکھے حضرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مفروضہ سٹیریو ٹائیپنگ پر مبنی ہے، اپنی نوعیت میں یہ قریب قریب اسی قسم کا ہے کہ ”مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں“، یا ”روایتی معاشروں کا مرد عورت کو مارتا ہے“۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com