عشق جب سچا ہو تو - رضوان اللہ خان

عشق و محبت کی کہانیوں اور داستانوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں، اور ان کتابوں سے دُنیا بھر کی لائبریریوں کا پیٹ بھرا جاتا ہے۔ انہی محبت کی داستانوں میں کچھ ایسی داستانیں اور حقیقی واقعات بھی ہیں جنہیں پڑھا جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ کیا واقعی کوئی شخص کسی سے اس قدر بھی محبت کر سکتا ہے کہ وہ عشق کے اس درجے پر جا پہنچے اور پھر عشق بھی ایسا کہ انسان اپنی ذات کو بھول جائے اور معشوق کی خاطر جسم کے ٹکڑے کروانے میں مزہ اور لطف محسوس کرے۔ یہ ایسا میٹھا عشق ہے کہ دل چاہا ان عاشقوں کی وہی کہانیاں جو تاریخ کی کتابوں میں بھی موجود ہیں اب ایک نئے انداز میں پیش کی جائیں۔ اس طرح کہ جہاں خود میں اور آپ یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ گویا ان عاشقوں کے عشق کو ہم سامنے بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔

تو پھر آئیے دیر کیسی؟ اس عاشق کو دیکھیے جو اپنے معشوق کی گستاخی کرنے والے کو قتل کر نے کے بعد عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہے۔ ذرا سُنیں تو سہی کہ وہ جج صاحب کو کیا کہنے لگا ہے:
’’آپ سے توہین عدالت برداشت نہیں ہوتی، تو ہم توہین رسالت ﷺکیسے برداشت کرلیں؟‘‘
اس عاشق کا نام غازی علم دین شہید رحمہ اللہ تعالی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے کس کے عشق میں ایک گستاخ کو قتل کیا؟ ذرا ماضی میں جھانکتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ہستی ہے کہ جس کی خاطر کبھی جان دی جاتی ہے تو کبھی جان لی جاتی ہے۔

یہ 1400 سال پرانی بات ہے، دنیا بظاہر تو روشن لیکن باطن میں تاریک ہے۔ معصوم بچیاں پیدا ہوتے ساتھ زندہ دفن کر دی جاتی ہیں۔ قبائلی تعصبات اور قومیت کے جھنڈے تلے قتل و غارت گری جاری ہے، چھوٹی سی بات پر گردنیں اُتاری جارہی ہیں، بھائی بھائی کا دشمن ہے تو دوست بھی لہو کے پیاسے۔

ایسے میں ایک دن دنیا میں روشنی سی پھیلی ہے، قیصر و کسری کا دربار لرزنے لگا ہے، روم، شام و فارس کے محلات کے درودیوار میں ہلچل مچی ہے، فرشتے خوشیاں منا رہے ہیں، چرند و پرند خوب گنگنا رہے ہیں۔ ارے کیا ہوا؟ یہ کیسی تبدیلی ہے؟ کفر کے ایوانوں میں ہلچل کیونکر مچی ہے؟ فرشتوں کی یہ محفل کیوں آج سجی ہے؟ ہر جانب آج یہ کیسی خوشی ہے؟
سنو سنو سنو! کیا تمہیں معلوم نہیں؟ یہ وہ دن ہے جب تاریکیوں کے خاتمے کا فیصلہ ہوچکا، باطل کے مٹ جانے کا بندوبست ہوچکا، گرد چھٹ جانے کا وقت آچکا کیوں کہ وہ دنیا میں تشریف لا چکے ہیں جن کے لیے خالق و مالک نے کائنات کو تخلیق کیا۔ ہاں دیکھو ”محمد“ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں اور اب چاند ان کا کھلونا اور نیزہ و تلوار ان کے ہتھیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سماجی انصاف تعلیمات نبوی صل اللہ علیہ و سلم کی روشنی میں - ام سائح

چلو چالیس سال آگے کا سفر کرتے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کا اعلان کر چکے ہیں، سب سے پہلے اپنے گھر سے مخالفت کا سامنا، آس پڑوس کے لوگ دشمن، لیکن ”قولوا لا الہ الا اللہ تفلحون“ کی صدائیں بلند کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک سے دو، دو سے تین، تین سے چھ، چھ سے بارہ اور لشکر تیار ہوتا چلا جا رہا ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثاروں کا لشکر ہے، یہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے ماں باپ تک قربان کر دینے کے دعوے کر رہے ہیں۔ منافقین دیکھ رہے ہیں کہ اپنے آقا کا لعاب مبارک بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے، یہ اپنے آقا کی باتوں پر فدا ہوئے جاتے ہیں، یہ اپنے آقا کی بات سننے میں ایسے محو ہوتے ہیں گویا ان پر جادو کر دیا گیا ہو، یہ اپنے آقا کے آگے پیچھے دائیں بائیں اپنے دل ہاتھوں میں لیے چلتے ہیں، انہیں بھوک پیاس، مار کٹائی کی کوئی فکر نہیں۔

لیکن ہاں کفار و منافقین یہ سب دیکھتے ہوئے بھی اس سوچ میں ہیں کہ یہ ماں باپ اور اولاد قربان کرنے والے دعوے کھوٹے لگتے ہیں۔ایسے میں معرکہ بدر برپا ہوتا ہے،حق و باطل کا پہلا معرکہ۔ یہ امتحان کی گھڑیاں ہیں، آج محبت اور عشق کی حقیقت دُنیا پر عیاں ہونے والی ہے۔ ذرا مسلمان مجاہدوں کی حالتِ ذار کا بغور جائزہ لیجیے۔ وہ دیکھیں میدان میں مجاہدین کی صرف اتنی تعداد موجود ہے جنہیں آسانی سے گِنا جا سکتا ہے۔ جانتے ہیں یہ کتنی تعداد میں ہیں؟ جی ہاں صرف 313 جبکہ مقابلے میں آنے والوں کی تعداد تقریباََ تین گنا زیادہ۔ گِنی چُنی تلواریں، ڈھال نام کی شے کوئی نہیں، ستر اونٹ اور صرف دو گھوڑے۔ اس کُل سامان کے ساتھ 313 نفوس اپنے عشق کو سچا ثابت کرنے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب - محمد ریاض علیمی

لیکن رُکیں۔ کیا آپ نے یہ منظر دیکھا ہے؟ ذرا دیکھیں تو سہی سعید ؓ اور ان کے والد خثیمہؓ کے درمیان کچھ بحث ہو رہی ہے کہ اس جہاد میں شرکت کون کرے گا۔ ذرا سُنو تو بوڑھا باپ کیا کہہ رہا ہے:
’’بیٹے میں عمر کے اس حصے میں پہنچ چُکا ہوں کہ اب اس عمر کا اعتبار نہیں۔ ممکن ہے کہ مجھے پھر موقع نہ مل سکے، مجھے اپنے محبوب پر جان وار لینے دو‘‘
لیکن بیٹا ہے کہ مانتا نہیں، سُنو تو کہ جواب کیا دیا ہے:
’’ابا اس جنگ میں جوان خون بہہ لینے دیجیے، مجھے اجازت دیجیے کہ اللہ کے محبوب ﷺ پر اپنی جان قربان کرسکوں، آپ اپنے جوان بیٹے کو قربان ہوجانے کا موقع دیجیے۔‘‘
ذرا دونوں کے چہروں کی رونق تو دیکھو، اندر ہی اندر ایک دوسرے کے جذبات پر خوش ہو رہے ہیں لیکن جنت کی خاطر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو بے چین ہیں۔ ارے یہ کیا؟ دیکھو وہ قرعہ اندازی کرنے لگے ہیں، دیکھتے ہیں کہ کس کی قسمت میں لہو میں نہا کر سُرخرو ہوجانا لکھا ہے۔ واہ واہ! بیٹے کا جوش و جذبہ اور خوشی و مسرت دیکھو، وہ چمکتا دمکتا چہرہ دیکھو، ہاں ہاں قرعہ اندازی میں سعید ؓ کا نام نکل آیا ہے، تبھی تو دل باغ باغ ہوا جاتا ہے۔ سعیدؓ نے ہتھیار سجا لیے ہیں، جوانی کا جوش ہے جو کسی طرح سے تھمنے کو نہیں آرہا، خوشی ایسی کہ پھولے نہیں سما رہے۔دیکھو اپنے والد خثیمہؓ کے پاس گئے ہیں، سلام کیا ہے، بیوی بچوں سے رخصت ہو رہے ہیں اور جانتے ہیں نا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ جی ہاں عشق مصطفی ﷺ دل میں لیے اللہ کے محبوب کے آستانے پر حاضری دینے چلے ہیں۔
(جاری ہے)

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں