فضائل اعمال اور تبلیغ کی محنت - صائمہ تسمیر

بار بار یہ خیال ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ نجانے کس اخلاص کے ساتھ حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ نے فضائل اعمال تصنیف کی ہوگی. عنداللہ و عندالناس اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ بلامبالغہ دنیا کی ہر زبان میں اس کا ترجمہ ہوچکا، اور دنیا کے کونے کونے میں اس کی تکرار جاری ہے۔

پچھلے دنوں سری لنکا سے آئی ہوئی جماعت کی نصرت کی سعادت حاصل ہوئی۔ تامل زبان میں فضائل اعمال دیکھنے اور سننے کا پہلا موقع تھا۔ سنتے ہوئے یوں محسوس ہوتا جیسے ”ڑ“ کی تکرار ہو رہی ہو۔ اس کے ساتھ ہی ملائی زبان میں ترجمانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دیگر زبانوں کے نسبت ملائی زبان قدرے آسان ہے، کیونکہ انگریزی رسم الخط میں ہے، اور اردو، عربی و انگلش کے بھی بہت سے الفاظ مستعمل ہیں۔ پچھلے ایک سال سے سنتے سنتے کچھ شدبد بھی پیدا ہوگئی ہے، سو اب اتنی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔

اللہ پاک نے اس مبارک محنت میں اتنی تاثیر رکھی ہے کہ خاموشی کے ساتھ لاکھوں افراد کی ہدایت کا ذریعہ بن رہا ہے۔ بےمقصد زندگی گزارنے والوں کو مقصد زندگی کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ اخلاص کے ساتھ کہےگئے سادہ جملے تیر کی طرح دل میں پیوست ہوجاتے ہیں۔گزشتہ بیان کا ایک جملہ دل کے نہاں خانوں میں دستک دے رہا ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں بن مانگے ایمان کی دولت سے نوازا ہے۔ یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر پیدائش سے لےکر موت تک ہم سجدے میں پڑے رہیں، تو پھر بھی شکرگزاری کا حق ادا نہ کرسکیں گے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اللہ سے درخواست نہیں کی تھی کہ ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا جائے۔ یہ تو محض رب کا فضل ہوا کہ ہمیں ماں کی گود سے کلمہ نصیب ہوگیا۔ اللہ پاک ہمیں اس نعمت کا قدر دان اور شکرگزار بنائے۔

بیان کے بعد جماعت کی ایک بہن سے بات چیت ہوئی۔ ہم تامل اور ملائی زبان سے نابلد، اور وہ اردو سے ناآشنا، سو انگریزی ہمارے درمیان رابطے کی زبان ٹھہری۔ انہوں نے جب شہید جنید جمشید رحمہ اللہ اور مولانا طارق جمیل صاحب کا تذکرہ کیا تو، بےحد خوشی ہوئی۔ وہ دس سال قبل پاکستان میں وقت لگاچکی ہیں۔ کہنے لگیں کہ نہ ہم نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا، نہ ہی ہماری زبان ایک، کلچر الگ، زبان الگ، مگر ایک کلمہ، ایک قرآن، ایک اللہ، ایک رسول ہمارے درمیان مشترک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت پیدا کر دی ہے۔ یہ کلمے کا اعجاز ہے کہ ہمیں ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔

آج زبان و قومیت اور فرقہ واریت کا تعصب پھیلا کر ایک امت ہونے کا تصور ہمارے ذہنوں سے کھرچا جارہا ہے، مگر تبلیغ کی مبارک محنت کی بدولت امت پھر سے جڑنے لگی ہے۔ اللہ ہمیں ایک امت بنادے کہ ہمارا غم بھی ایک ہو اور خوشیاں بھی۔ انہوں نے ایک خوبصورت بات یہ بھی بتائی کہ اللہ پاک جب بندے سے سوال کریں گے کہ میرے لیے کیا لے کر آئے ہو؟ بندہ کہے گا کہ میرے اعمال، نماز، روزہ، حج، صدقات، تلاوت، ذکر، یہ سب تیرے لیے ہی تو ہیں، تو اللہ رب العزت فرمائیں گے کہ نہیں! یہ تو تم نے اپنی نجات کے لیے کیا ہے۔ میرے لیے کیا لے کر آئے ہو؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں نکل کر اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنا، یہ وہ عمل ہے جو اللہ کے لیے شمار ہوگا۔ باقی سب تو اپنے لیے ہیں.

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ محض نماز کو زندہ کرنے کی محنت ہے۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اگر صرف نماز کی تحریک ہوتی، تب بھی افادیت سے خالی نہ تھی کیونکہ نماز ایک انتہائی عظیم الشان عمل ہے، مگر بقول مولانا طارق جمیل صاحب، تبلیغ تو اک درد ہے کہ کس طرح ساری کی ساری انسانیت جہنم سے بچ کر، جنت میں میں جانے والی بن جائے۔ تبلیغ ایک ایسا ویلفیئر ہے جو ہمیشہ کی آگ سے انسانیت کو بچانے کی محنت کرتی ہے۔ دنیا کے دکھ درد تو عارضی ہیں، مگر آخرت کی سختی اور جہنم کی آگ، یہ تو دائمی ہے، جس سے انسانیت کو بچانا ہی اصل خیر خواہی ہے۔

آخری بات یہ کہ اس دنیا میں کوئی تحریک، کوئی جماعت کاملیت کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ انسان کمزور واقع ہوا ہے۔ کمی کوتاہی انسانی سرشت میں شامل ہے۔ وہ تو نبی علیہ السلام کی مبارک ذات ہے، جو بیک وقت تعلیم، تبلیغ، جہاد اور سیاست سمیت دین کے تمام شعبوں پر یکساں گرفت کے ساتھ محنت کرکے، اپنے فرض منصبی سے کامیابی کے ساتھ سبکدوش ہوئے۔ ہم کمزور ہیں، کسی تحریک یا جماعت میں یہ استعداد نہیں کہ دین کے تمام شعبوں پر یکساں گرفت ہو۔ سو ، اسلام کی بقا و سربلندی کے لیے جو جس شعبے میں محنت کر رہا ہے، اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ تمام دینی جماعتوں اور اسلامی تحریکوں کو ایک دوسرے کا دست و بازو بننا ہوگا، ورنہ باطل ہمیں آپس کے اختلافات میں الجھا کر، اپنی راہ ہموار کرتا رہے گا۔

دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری نسلوں کو، ہماری جان و مال کو اپنی راہ میں قبول فرمائے اور ہم سے دین کی عالی محنت کا کام لے لے۔ آمین.

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.