محبت فاتح عالم - اسری غوری

دورہ قرآن کا چوتھا دن تھا، وہ کلاس میں نئی تھیں، میری پڑوس میں ہی رہتی تھیں، کئی بار دعوت دے کر آئی تھی، مگر انہوں نے جب میرے ہاتھ میں ”تفہیم القرآن“ دیکھی تو ہر روز ہی یہ کرتیں کہ جب بھی کوئی ایسی آیت گزرتی جس میں کوئی اختلافی مسئلہ کھڑا یا جاسکتا ہو، وہ وہیں پوری کلاس ڈسٹرب کرکے سوال در سوال کرنے لگتیں، کلاس جز بز ہوتی، مگر میں ان کے ہر سوال کو رک کر سنتی اور بہت سکون سے جواب دینے کی کوشش کرتی۔

اگلے دس دن یہی حال رہا، بعض اوقات تو وہ اس قدر تلخ اور الزام لگانے والے انداز میں مجھ پر تنقید کرتیں یا مولانا پر ایسے جملے کستیں کہ کلاس کی باقی خواتین جذباتی ہونے لگتیں، مگر میں ان کے جواب میں بس دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ، بہت محبت سے مخاطب کرکے کہتی کہ آپ کا قصور نہیں، دراصل آپ نے یہی سب کچھ سنا ہوا ہے نا، اس لیے آپ اپنی جگہ بالکل درست ہیں، اب جب تک آپ کے ان تمام سوالات کا جواب نہیں مل جائے گا تب تک آپ کا رویہ تو یہی ہوگا نا۔ وہ میرے جواب سے کبھی خاموش ہو جاتیں، کبھی کوئی اور سوال کر دیتیں، مگر ان کی خوبی تھی کہ کلاس میں آنا نہیں چھوڑا تھا۔

یہ کوئی پندرھواں روزہ ہوگا کہ وہ آج باقی کلاس سے ایک گھنٹہ پہلے آگئیں، میں صبح اپنے کام نمٹانے میں مصروف تھی، ان کا سنا تو حیرت ہوئی خیر بیٹ مین سے کہا کہ باجی کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ۔
سلام کیا تو میرے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑیں، میں آپ سے بہت ساری باتیں کرنے آئی ہوں، اسی لیے جلدی آئی ہوں، اور ساتھ ہی ان کی آنکھیں برسنے لگیں. میں حیران، انہیں چپ کرواتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہوا پلیز بتائیں، آپ کو میری کوئی بات بری لگی، یا تکلیف پہنچی ہو تو میں معذرت کرتی ہوں۔ انہوں نے روتے ہوئےایک دم میرا ہاتھ پکڑا اور بولیں، نہیں! معذرت تو میں کرنے آئی ہوں. دراصل میرا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جہاں ہمیں مولانا مودودی کی کتابوں سے ایسے دور رکھا جاتا ہے جیسے مسلمانوں کو کافروں کی کتابوں سے اور ہمارے ہاں ان کی مخالفت بچپن سے ہی ذہنوں میں راسخ کر دی جاتی ہے، اسی لیے جب میں نےآپ کے ہاتھ میں تفہیم القرآن دیکھی تو میں وہی تربیت اور پڑھائے گئے سوالات کرکے میں نے آپ کو پندرہ دن تنگ کیا، ہر طرح سے آپ کو اشتعال دلانا چاہا، آپ کے امام کے بارے میں بھی نجانے کیا کچھ کہا مگر آپ نے ہر سخت بات کے جواب میں سوائے مسکراہٹ کے کوئی جواب دیا نہ تلخ ہوئیں، آپ کے دیے ہوئے جواب کو میں گھر جاکرسارا دن سوچتی رہتی، اگلے دن اس سے سخت سوالات سوچ کر آتی مگر آپ بالکل ویسے ہی محبت سے پیش آتی رہیں۔ آج میں تھک کر آپ کے پاس آئی ہوں، ان کے چہرے پر دکھ سے چھائی ندامت ان کے الفاظ کی سچائی کی گواہی دے رہی تھی۔ وہ پھرگویا ہوئیں: ”آپ مجھے معاف کردیں، میں نے آپ کو بہت ستایا ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:   کانچ کی گڑیا - ماہا عابد

انھیں محبت سے گلے لگایا، اور کہا کہ داعی کےلیے ضروری ہے کہ ہر ایک کا اختلاف، تنقید اور سخت رویہ ہنس کر برداشت کرے، اگر یہ سب نہ کیا جائے تو پھر درس کی مسند پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، یہ ایک داعی کا فرض ہے کہ وہ ہر طرح کی تنقید برداشت کرے اور جواب محبت سے دے۔ سخت رو لوگوں کے پاس کوئی نہیں ٹھہرتا، خود اللہ ربی نے نرم مزاجی کو اپنی رحمت قرار دیا. وہ ایک گھنٹہ پاس بیٹھی باتیں کرتی رہیں. پھر وہ روزانہ ایک گھنٹہ پہلے آنے لگیں، اپنے ہر سوال ہر کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے، پھر انہیں تفہیم القرآن پڑھنے پر راضی کیا، اس دن انہوں نے کہا کہ آج میں زندگی میں پہلی بار اس کو ہاتھ لگا رہی ہوں جسے ہم (نعوذ باللہ) کفر کی کتاب سمجھتے تھے۔ اب کلاس میں انھیں اپنے برابر بٹھانا شروع کردیا، روزے کی وجہ سے گلا خشک ہونے لگتا تو ترجمہ وہی پڑھتیں، جہاں تشریح کی ضرورت پیش آتی، تو وہاں روک کر تشریح کردیا کرتی تھی۔

دورہ قرآن کے مکمل ہونے تک ان کے دل میں تفہیم القرآن کی محبت پیدا ہوچکی تھی اور ایک دن انہوں نے کہا کہ مجھے تفہیم القرآن کا سیٹ چاہیے، میں اس دن اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا کہ اس کی توفیق سے کسی کے دل سے نفرت کے بیج نکال کر محبت بونے میں کامیاب ہوئی۔ الحمدللہ
اللہ ہمیں ہمیشہ حق اور باطل میں فرق سمجھنے والا بنائے، اور محبتیں بانٹنے والا اور جوڑنے والا بنائے۔ آمین

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.