بہار اور خوشبو - زینی سحر

بہار کی آمد ہے.
بہار پھولوں اور خوشبووں کا موسم.
ہر طرف پھول مہکتے ہیں اور خوشبو گنگناتی ہے.
خوشبو کا بھی ایک اپنا وجود ہوتا ہے.
جیسے ہر ذی روح اپنا وجود رکھتا ہے. ایسے ہی ہر خوشبو اپنا ایک انفردی وجود رکھتی ہے.
کچھ خوشبوئیں آپ کو مست کر دیتی ہیں اور کچھ بے خود،
کچھ تو ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپ کی طبع نازک پہ گراں گزارتی ہیں.
کچھ تو ایسی بھی ہوتی ہیں جو میلوں دور سے ہی اپنے ہونے کا پتا دیتی ہیں، اور آپ کو مجبور کرتی ہیں کہ آپ ان کا پیچھا کريں.

خالق کائنات نے جہاں بہت ساری حسيں انسان کو ودیعت کی ہیں، انھی میں سے ایک سونگھنے کی بھی ہے.
ہم انسانوں کو جو چیز اپنے مزاج کے مطابق لگتی ہے، اسے ہم خوشبو کا نام دیتے ہیں، اور جو مزاج کو ناگوار گزرے اسے بدبو کہتے ہیں.

سائنسدان کہتے ہیں کہ ہر انسان کے فنگر پرنٹس یعنی انگلیوں کے نشان دوسرے انسان سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کائنات میں موجود ہر وجود کی خوشبو بھی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے.
کائنات میں موجود بہت سارے جاندار اپنے بچوں اور قبیلے کی پہچان ان کے بدن سے نکلنے والی خوشبو سے کرتے ہیں.
یہاں تک کے بعض جانور راستوں کا تعین بھی خوشبو سے کرتے ہیں.
میں نے جیسا کہ پہلے بھی کہا کہ خوشبو ایک بھرپور وجود رکھتی ہے.
پھر وہ چاہے سوکھی مٹی پر برسنے والی بارش کی ہو یا پھر کسی ماں کے وجود کی..

یہ خوشبو ہی تھی جو کئی سال کے بینائی سے محروم حضرت يعقوب علیہ السلام کو يوسف علیہ سلام کے کرتے کی صورت میں ملی تھی، اور انھیں بینا کر دیا تھا..
ذرا سوچیں اس خوشبو میں ایسا کیا تھا، وہ کس کے بدن کی خوشبو تھی،ایک باپ اور بیٹا، ایک محب اور محبوب، ایک عاشق دوسرا معشوق. ایک فراق میں اتنا رویا کہ بینائی دان کر دی، اور دوسرے کی خوشبو نے بینائی لوٹا دی.
دنیا میں موجودہ ہر جذبے کی بھی ایک خوشبو ہوتی ہے، محبت کی بھی نفرت کی بھی، اچھائی برائی کی بھی.
جب وہ کسی بدن سے نکلتی ہے تو آپ تک پہنچ ہی آتی ہے، خواہ شر لیے ہوئے ہو یا خیر.

عبادت کی بھی ایک خوشبو ہوتی ہے، نیکی کی بھی اور دعا کی بھی،
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کسی کی دعاؤں کے حصار میں ہے. وہ دعاؤں کا حصار بھی ایک خوشبو ہے، جو بھیجنے والے نے اپنی اچھائی اور خلوص سے سینچ کر آپ کو بھیجی ہے.

خوشبو کا روحانیت سے بھی بڑا گہرا تعلق ہے.
کیا آپ کو کبھی اپنے اردگرد کچھ نامانوس سی خوشبو محسوس ہوئی، جو پہلے آپ نے کبھی نہ سونگھی ہو اور جو بظاہر کسی پرفیوم کی بھی نہ لگتی ہو. اور کوئی ایسا وجود بھی نظر نہ آ رہا ہو. تو پھر آپ یہ جان لیں کہ کوئی ایسا وجود آپ کے اردگرد ضرور موجود ہے جسے آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں، لیکن اس کی خوشبو نے اپنے ہونے کی گواہی دے دی ہے.
ہم نے اپنا تمام فوکس دیکھنے اور سننے پہ کیا ہوا ہے.

اگر ہم تھوڑا سا بھی فوکس سونگھنے والی حس پر کر لیں تو يقین جانیے کہ کائنات کے کہیں رازوں سے پردہ اٹھ جائے.
اگر ہم میں خوشبو کو سمجھنے کی صلاحیت آ جائے تو بہت سارے راز جو موت و حیات سے متعلق ہیں ان کو بھی سمجھ سکتے ہیں.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.