جاپانی خاتون پروفیسر کی خواہشات - فریدہ یوسف

اس کا نام سی چی اون تھا یا کیا، جب اس سے مطلب پوچھا تو اس پیاری سی جاپانی خاتون نے شستہ اردو میں ”مسرت، خوشی“ بتایا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔
آج اسٹاف روم میں داخل ہوتے ہی پرنسپل کا میسج ملا تھا کہ ایک جاپانی ریسرچر ادارے کے وزٹ پر ہیں، ان کے ساتھ آپ کی ڈیوٹی ہے، سینیئر کلاسز کے ساتھ سٹنگ ارینج کروا دیں، سو کلاس انچارج کو بلا کر کلاسز کو کمپیوٹر لیب میں جمع ہونے اور سٹنگ ارینجمنٹ کی ہدایات کیں۔ سیچی اون سےانگلش میں کیے گئے تعارفی سوال کا اردو میں جواب آیا تو بات کرنا بہت آسان لگا کہ انگلش سے کبھی ہماری بنی نہیں۔

یہ جاپانی خاتون انڈیا اور پاکستان پر پی ایچ ڈی کی ریسرچ کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر تھیں، اس سے قبل انڈیا جا چکی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ماسٹرز لیول کی ڈگری انٹرنیشنل ریلیشنز کے لیے یونیورسٹی کے وفد ساتھ آئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں سیچی نے بتایا کہ وہ ہفتے میں 3 دن یونیورسٹی جاتی ہے۔ ہر لڑکی کو جاب کرنا پڑتی ہے۔ لڑکیاں یا فیملی بنا لیں یا جاب کرلیں۔ مرد بچوں کا خرچ کم اٹھاتے ہیں، اس لیے وہاں جنریشن گیپ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر جنریشن گیپ اسی طرح جاری رہا تو 35 سال بعد جاپان کے پاس ورکنگ پاور خطرناک حد تک کم ہو جائے گی، اس لیے حکومت نے عورتوں کو فیملی بنانے کی طرف راغب کرنے کے لیے انھیں وظائف دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس خاتون پروفیسر کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی صرف 3 دن جاتی ہے جبکہ اس کا شوہر 5 دن جاتا ہے، برابر تنخواہ پر۔ اس وقت طالبات کھلکھلا کر ہنس پڑیں جب اس نے کہا کہ میرا کہنا ہے کہ میرے شوہر کو بھی 3 دن ہی جانا پڑے تاکہ ہم فیملی ٹائم زیادہ اچھا گزار سکیں۔ جاپان میں آدمی گھر کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے مگر میری اپنی شوہر سے اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے، میں اور وہ مل کر گھر کے کام کرتے ہیں۔ میں اس وقت ریسرچ کے لیے یہاں ہوں تو وہ گھر کے سب کام کر رہے ہیں۔ میں اپنے بچوں کو بڑوں کے ادب اور جھوٹ سے بچنے جیسی اچھی عادتیں سکھاتی ہوں اور یہ میں نے اسلام اور پاکستان کو جاننے سے سیکھا ہے.

میڈیا اور اس کے معاشرہ پر اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ جاپان میں میڈیا پر ٹیکنالوجی چھائی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کے چینلز پر بھی ان کو ٹیکنالوجی کے بارے ہی تفریح بھی فراہم ہوتی ہے، ڈانس،ایروبکس، سائنس، اور دیگر مہارتوں کا بچپن ہی سے عادی بنایا جاتا ہے جبکہ اخلاقیات، تہذیب، شرم و حیا ایسی کوئی بات میڈیا پر نہیں آتی۔ جاپانی لڑکیاں ایسے لباس پہنتی ہیں کہ مجھے شرم آجاتی ہے لیکن ان کو نہیں آتی، لباس مختصر ترین ہے اور اس کی وجہ سے بہت بے حیائی ہے۔ کھا پی لو اور عیش کرلو۔ایک دوسرے کا خیال رکھنا، بڑوں کا احترام، بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنا، یہ سب وہاں ناپید ہے جس کی وجہ سے سب بس ایک مشینی زندگی گزار رہے ہیں۔

سیچی نے بتایا کہ پاکستان آنے جانے سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ میں اور میرے شوہر اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں، اپنے بچوں کی ہم خود کیئر کرتے ہیں، میری بیٹی اس وقت نانی کے پاس ہے، میں اپنے شوہر کے والدین سے بھی دوستی رکھتی ہوں تاکہ میرے بچے بھی ہم والدین کی عزت کریں۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، ان کو باہر گھمانے ساتھ لے کر جاتے ہیں، اکھٹے کھانا کھاتے ہیں، ان کو ٹی وی کم دیکھنے دیکھتی ہوں اور جب ہم سب بیٹھے ہوں تو آپس میں گفتگو کرتے ہیں، سیل فون چھوڑ دیتے ہیں. اس کا کہنا تھا کہ بچے ہم سے یعنی والدین سے سب سے زیادہ سیکھتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ بچوں اور ان کے والدین کو زیادہ سہولیات دے تاکہ ہم اپنے بچوں کو ایک اچھا شہری بنا سکیں.

وہ جاپانی اسکالر گفتگو کر رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ ایک ترقی یافتہ معاشرے سے ہے، مگر اس سے بیزار ہے. ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خود مختار خاتون خود کو ان تمام اخلاقیات کی جانب لے جانا چاہ رہی ہے جسے اس وقت ہمارے معاشرے نے بوجھ سمجھنا شروع کر دیا ہے، اور مغرب کی دیکھا دیکھی اس سے ہاتھ دھو رہے ہیں. اخلاقیات کو کتابوں کی کہانیاں بنا دیا گیا ہے۔ اپنے تعلقات لو اور دو کی بنیاد پر نبھائے جا رہے ہیں، ساتھ رہنے والوں کے دکھ درد اور غم سے ناآشنا ہوکر خود غرض زندگی کے عادی ہو رہے ہیں.
والدین بوجھ لگنے لگے ہیں، اور بچوں کو دادا دادی، نانا نانی، خالہ مامی، چچی تائی کے بجائے سمارٹ فون، سوشل میڈیا، ٹی وی کارٹون اور انڈین چینلز، مونٹیسوریز کے حوالے کرنے کا سفر تیزی سے طے ہو رہا ہے۔ کیبلز پر انڈین چینلز نے جوائنٹ فیملی سسٹم سے سنگل فیملی سسٹم کا رجحان بنایا، نتیجہ ماں اور باپ دونوں گھن چکر بنے گھر اور سوشل لائف گھسیٹ رہے ہیں اور بچوں کی ذہنی، اخلاقی، تعلیمی تربیت جدید ذرائع ابلاغ کر رہے ہیں.

اب بھی وقت ہے کہ ہم سوچیں،
کیا ہمیں نسل نو کا تحفظ عزیز نہیں۔ معاشرہ، تعلیمی نظام اور میڈیا ہمارے بچوں کو جو سکھا رہا ہے، آنے والے دنوں میں ان کا طرز زندگی اسی پر تعمیر ہوگا.
کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے بچے ہمیں اولڈ ہومز میں پھینک دیں،
کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے بچے شادیوں کے بغیر حرام تعلقات کےگند میں زندگی گزاریں،
کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے بچے دوسروں کے حق چھیننے والے بنیں،
کیا ہم گوارا کرلیں گے کہ قتل و غارت، فساد اور جھگڑے ہمارے بچوں کی زندگیاں تباہ کریں،
کیا ہم دیکھنا چاہیں گے کہ ہمارے بچے سوال کریں کہ ہمیں خدا نے دیا ہی کیا ہے، رسول ﷺ کی کیا حیثیت، یہ ہماری زندگی ہے جیسے چاہیں گزاریں۔ (نعوذ باللہ)
حلال حرام کی تمیز کے بغیر رشوت، چوری، ڈاکے، کرپشن میں مبتلا ہوں،
ہم اپنے بچوں کو دیکھنے کو ترسیں اور کتے بلے پال کر ان کے ساتھ زندگی گزریں،
کیا ہم پسند کریں گے کہ ہمارے بچوں کو نشے میں دھت کسی ڈانس کلب میں فساد پھیلانے پر پولیس پکڑ کر لے جائے،
کیا ہم یہ دیکھنے سے پہلے مر جانا نہ گوارا کرلیں کہ ہمارے بیٹے کسی کی بیٹی کی ردا چھینیں اور بیٹیاں لڑکوں کو دعوت زنا دیں، اس سے بھی آگے ہم جنس پرستی کے دلدداہ بن جائیں.

یہ الفاظ لکھنا بھی مشکل اور برداشت سے باہر ہے، یقینا آپ سب نے بھی پڑھتے فورا انکار کیا ہوگا، کراہت محسوس کی ہوگی، فورا استغفراللہ بولا ہوگا، اور ور کہا ہوگا کہ اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو. واقعی اللہ نہ کرے کہ کبھی بھی ایسا ہو کہ جن اولادوں کو ہم نے اللہ سے دعائیں مانگ کر لیا ہے، دن رات ان کی خاطر پیٹ کاٹا ہے، محنت مشقت کی ہے، راتوں کو جاگے ہیں، اچھی تعلیم و تربیت کے لیے کئی تکلیفیں اٹھائی ہیں، بہترین مستقبل کے لیے جتن کیے ہیں، وہ اس طرح کی زندگی گزاریں.

کیا کبھی سوچا کہ میڈیا کیسے ہمارے اس سرمائے کو تباہ و برباد کرنے میں مصروف ہے؟ اس پر کوئی حکومتی قدغن نہیں کہ حکومت اپنی لبرلزم کے دعوے کئی بار کرچکی۔ پیمرا، پی ٹی اے اور صحافتی اصول و ضوابط کے ایکٹ، سب خاموش تماشائی، ان کی دفتری دستاویز میں سب لکھا ہے، مگر عملدرآمد ندارد.
ہماری جیبوں سے جانے والی ٹی وی لائسنس کی کروڑوں کی فیس اور ہر پراڈکٹ میں دیا جانے والا سیلز ٹیکس، کیا یہ سب ہماری نسلوں کی تباہی و بربادی کے لیے ہے؟

ایک مسلم معاشرے میں برائی کو ہمیشہ کمزور ہونا چاہیے، ایسے کہ وہ منہ چھپاتی پھرے، تقویٰ کو غالب ہونا چاہیے، لیکن بد قسمتی سے میری اور آپ کی خاموشی اور بےحسی کی وجہ سے کلمے کی تجربہ گاہ کے طور پر بننے والے ملک کو سیکولرزم اور لبرلزم کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے، الیکٹرانک، پرنٹ، اور سوشل میڈیا اس میں آلہ کار بن گیا ہے.

اپنے فرض کو پہچانیے، برائی کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیجیے، اپنے بچوں کے انٹرٹینر خود بنیے، انھیں صالح صحبت فراہم کیجیے، قرآن و سنت ﷺ سے دلچسپ انداز سے جوڑیے، رشتوں میں رہنا سکھائیے، میڈیا پر وہ دکھائیے جو دکھانے والی چیز ہو، ان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھیے، سمارٹ فون کا مشترکہ استعمال ہو، ضرورت کے لیے سادہ فون استعمال کروائیں.

پیمرا و دیگر متعلقہ اداروں کو کال کر کے علم میں لائیں کہ کون کون سے چینل کے کون کون سے پروگرامات اسلامی تعلیمات، نظریہ پاکستان، پیمرا قوانین اور معاشرتی اقدار و روایات کے خلاف ہیں.
اور ایسے حکمران لائیں جو ہماری نسلوں کے محافظ ہوں، نہ کہ مارے جانے والوں پر مذمت کرکے اپنے بچوں کے بینک بیلنس بھر کر ہاتھ جھاڑنے والے۔ جب تک مخلص، دیانتدار اور کرپشن سے پاک لوگ برسراقتدار نہیں آئیں گے، حالات تبدیل نہیں ہوں گے.