ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں - سعدیہ نعمان

ہمارے ارد گرد ایسے کردار موجود ہوتے ہیں جو کسی کی نظر میں بھی اتنے اہم نہیں ہوتے اور دراصل وہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتے ہیں، وہ اپنے حصے کا بوجھ بہت ذمہ داری سے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں، ان کی قدر جان کر ان کی حوصلہ افزائی کریں، معاشرے میں مجموعی طور پہ پھیلتی مایوسی میں وہ امید کی کرن ہیں، ایسے ہی ایک کردار سے آج میں آپ کو ملوانا چاہوں گی.

یہ حفیظ انکل رکشہ والے ہیں، ٹھیک سات بج کے دس منٹ پہ ”چلو جی ی ی صاب جی ی ی“ کی گرجدار آواز کے ساتھ وہ گیٹ پہ موجود ہوتے اور بچے کبھی سکول سے لیٹ نہ ہوتے. وہ پورے ٹاؤن کے حفیظ انکل ہیں، ان کا دن صبح فجر کی باجماعت نماز سے شروع ہوتا ہے، اور رات دس بجے تک مسلسل وہ سکول کالج اور اکیڈمی کے بچوں کو چھوڑتے ہیں. ریٹائرڈ فوجی ہونے کی وجہ سے وقت کے اتنے پابند ہیں کہ دو منٹ پہلے تو آ سکتے ہیں، دو سیکنڈ دیر سے نہیں، سردی گرمی کے شدید موسموں میں جب وہ رکشہ میں بچوں کو بحفاظت لے جا رہے ہوتے ہیں، ان کے اپنے بچے اسی راستے سے پیدل سکول جا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، یہ پچھلی گرمیوں ایک سخت گرم دوپہر تھی، ملتان شہر، مئی کا اخیر اور لو کے تھپیڑے۔ بچوں کے آنے کا وقت ہو رہا تھا، ان کے آنے سے پہلے ٹھنڈا روح افزا تیار تھا، ڈیڑھ بجے سے کچھ پہلے فون کی گھنٹی بجی حفیظ انکل تھے، اور جو پیغام وہ رندھی ہوئی آواز میں دے رہے تھے، سن کر لگا کوئی قیامت سی قیامت ہے،
”باجی! میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے، بچوں کو سکول سے لے لیں، میں نہیں لے سکوں گا.“
بچوں کو گھر تک خیریت سے پہنچانے والے حفیظ انکل کے اپنے انیس سالہ جوان بیٹے نے کالج سے واپسی پر گرم لو کی لپیٹ میں آ کر عین نشتر ہسپتال کے چوک میں جان ہار دی تھی۔ اور اس قیامت کے برپا ہونے پر بھی احساس ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ وہ سب والدین کو مطلع کر رہے ہیں۔

ٹھیک چار دن بعد گیٹ پہ سات بج کے دس منٹ پہ ایک آواز بلند ہوتی ہے ”چلو جی ی صاب جی ی“ ھم حیران قد موں سے جا کے دیکھتے ہیں، تو حفیظ انکل رکشہ کے ساتھ موجود ہیں۔ ہمارے کہنے پہ کہ انکل آپ کیوں آ گئے کہ ابھی تو زخم بہت تازہ ہے، تو کہنے لگے کہ ذمہ داری تو نبھانی ہے ناں صاب جی۔ فرق یہ تھا کہ ان کی آ واز میں وہ گرج نہ تھی اور کندھے جھکے ہوئے تھے، لیکن ان کا قد معمول سے بڑا لگ رہا تھا۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.