مولانا حیدری سے ایک گزارش - ابو محمد

یوں تو باطنی فدائین سے لے کر گوہر شاہی تک اپنی جنت و جہنم بنانے والے فتنوں کا ذکر ہم سنتے آئے ہیں لیکن عصر حاضر میں اس کی جدید مثال کوریا میں پنپتی ایک تنظیم HWPL ہے. ہمارے کوریا کے دوست محمد عبدہ بھائی نے بہت محنت سے اس کے متعلق مستند معلومات جمع کی ہیں اور اپنا فرض سمجھتے ہوئے ہم سے شیئر کر رہے ہیں. اس تنظیم کے کام اور مقاصد بڑے عجیب و غریب اور پردہ اخفا کے دبیز گرد و غبار میں چھپے ہوئے ہیں، کوئی اسے رضاکار NGO کہتا ہے، کوئی سماجی تنظیم اور کوئی امن کے لیے کوشاں ایک ادارہ، کسی کے نزدیک یہ مذہبی جماعت ہے جو ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ رہی ہے، اس نے عیسائیت اور بدھ مت کو ملا کر ایک نیا مذہب بنایا ہے جس کا بنیادی پیغام امن ہے۔ اس جماعت کے سربراہ ایک سابق کورین فوجی افسر ”من ہی لی“ ہیں جس نے کوریا جنگ میں حصہ لیا تھا اور جنگ میں گرانقدر خدمات انجام دی تھیں۔

یہ تنظیم"روشنیوں کی بحالی" کے نام سے بظاہر امن کا پیغام دے رہی ہے جبکہ در پردہ ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ اس کی ایک ذیلی تنظیم Mananm جو کہ متنازعہ ہے اور اسی کے کاز کو پروموٹ کررہی ہے۔ اس کے منشور میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”ہمارا مقصد جنت کی خواہش (حصول) ہے جس کی ہم تعلیم (رہنمائی) دیتے ہیں“، چئیرمین من ہی لی کو اس کے پیروکاروں میں ایک پیغمبر کا سا درجہ حاصل ہے۔ جس کا کہنا ہے کہ دنیا آفاقی پیغام کو بھول چکی ہے، جس کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور جنگیں ہورہی ہیں۔ اور میں خدا کے اس بھولے ہوئے پیغام کو دوبارہ یاد کروانے آیا ہوں.

ان کے تو جو کرتوت و عقائد ہیں وہ اپنی جگہ، ان سے شکوہ کم ہے، اصل شکوہ تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے. یہ تنظیم کوریا میں ہر سال تین پروگرام کرواتی ہے, جس میں سے ایک پروگرام میں مختلف ملکوں کے بڑے سرکاری لوگوں کو بلایا جاتا ہے۔ ان لوگوں ہی کی مدد سے یو این (یونائیٹڈ نیشن) اور مختلف ملکوں سے چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا سب سے اہم کام مسلمان ملکوں کے بڑے مذہبی لوگوں کو بلانا ہوتا ہے تاکہ اپنے خلاف مذہبی پروپیگنڈہ سے بچا جاسکے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک، مفتی تقی عثمانی اور دوسرے بڑے مذہبی سکالرز کو بھی بلایا گیا تھا مگر انہوں نے اپنے مقام کے شایان شان ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تنظیم کے مقاصد بارے چھان بین کی اور اسے مشکوک جان کر اس کے پروگراموں میں شرکت سے انکار کر دیا۔

لیکن دوسری طرف ڈپٹی چئیرمین سینٹ عبدالغفور حیدری ہر سال اس تنظیم کی دعوت پر جوش و خروش سے کوریا تشریف لے جاتے ہیں، چار پانچ پریس کانفرنسوں کے نام پر خوب سیرسپاٹا اور مقامی پاکستانی کمیونٹی سے دعوتیں کھاتے ہیں۔ حیدری صاحب خود تو ایک تقریر کرکے نکل جاتے ہیں لیکن بعد میں یہ تنظیم ہر جگہ حیدری صاحب کی تصویر لگا کر یو این اور دوسرے اداروں سے چندہ اکٹھا کرتی ہے، اور اسلام کے نام پر اپنے نظریات کا پرچار کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا جمعیت علماءاسلام کے نمائندے دانستہ یا غیر دانستہ ایک نیے مذہب کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں. کیا انہیں ایسے معاملات میں ذمہ داری و مذہبی حمیت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟؟؟
ان سے گزارش فقط اتنی تھی کہ اگر گنے مفت کے بھی ہوں تو کچھ اپنے دانتوں کا ہی خیال کر لیا کریں، ایسی بھی کیا بھوک کہ ہر اچھی بری چیز کھائے جاتے ہیں.