اسلام بمقابلہ انسانیت - ابن حجر

آئیے انسانیت کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں زندگی پانی کی بدولت ہے، نباتات و حیوانات زندہ رہنے کے لیے پانی کے محتاج ہیں۔ پانی ناپید تو زندگی ناپید، خشک ریگستان میں بھی جہاں کہیں پانی کے آثار وہیں نخلستان، حتیٰ کہ چاند، مریخ اور دیگر اجسام فلکی پر بھی مستقبل میں رہنے کے لیے پانی تلاش کیا جا رہا ہے۔
الغرض سب انسانوں کا اس پر اجماع ہے کہ پانی کے وجود سے ہی زندگی ہے، باغ و بہار ہے۔

تو کیا خیال ہے اگر کوئی شخص پانی کے صاف چشمے کے بالکل کنارے پر کھڑا ہو کر پانی کے ان فضائل اور اس نعمت کے تقدّس پر لیکچر دے کر فارغ ہو تو آپ اس شخص کو ایک کٹورے میں کسی نالے کا گندا اور بدبودار پانی پیش کر دیں اور اس کو پینے کو کہیں؟
اس شخص کا رد عمل کیا ہوگا؟
”جناب! یہ آپ مجھے کیا پیش کر رہے ہیں؟“
”جی، آپ ہی نے تو ابھی ابھی پانی کے فضائل پر لیکچر دیا.“
”جی، میں نے لیکچر دیا، لیکن یہ کیا ہے؟“
”جناب، یہ بھی پانی ہی ہے ، پی لیں نعمت ہے!“
”لیکن یہ تو گندا پانی ہے!“
”نہ جی نہ، آپ ہی نے کہا کہ پانی اپنی اصل میں زندگی ہے، بس اتنا ہے کہ اس پانی میں ساتھ میں کچھ دیگر اجزاء شامل ہیں، آپ ان اجزاء کو وٹامنز سمجھ لیں!“
”جناب، آپ کا دماغ ٹھیک ہے؟ میں یہ گندا پانی ہرگز نہیں پیوں گا!“

انسانیت بھی اپنی فطرت میں اس پانی کی مانند ہی ہے۔
جب انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے تو اس کے ماخذ انسانیت کی حفاظت، نگہداشت اور آبیاری کے لیے خالق کے بتائے ہوئے طریقوں کی پیروی کی جائے۔ بالکل ایسے ہی کہ جیسے چٹان سے پھوٹنے والے تازہ پانی کو آلائشوں سے بچاتے ہوئے، اس کو طرح دار نشیب و فراز سے گزار کر ایک خوب صورت جھرنے کا روپ دے دیں، ہوگا یہ بھی پانی ہی، کہ جس کا ایک ایک قطرہ روشنی، خوشی اور زندگی کی ترجمانی کرتا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا نیا چینل واقعی اسلام کو پیش کرے گا - حامد کمال الدین

یا پھر آپ انسان کی ماخذ انسانیت کو حدود و قیود سے آزاد کر دیں اور طرح طرح کی آلائشوں سے پراگندہ ہونے کے لیے چھوڑ دیں، بظاہر کہلاۓ گا وہ بھی انسان ہی، بالکل اسی طرح جیسے چٹان سے پھوٹنے والے پانی کو جانوروں، انسانوں اور ان کی فیکٹریوں کی غلاظت بہانے کے لیے استعمال میں لایا جائے، کہلائے گا وہ بھی پانی ہی، اس میں بھی وہی مالیکیول موجود ہوں گے جو صاف پانی میں ہوتے ہیں، لیکن کیا کوئی اس کو پینے کے لیے تیار ہوگا؟
جس طرح ایک شفاف چشمے کی اصل شفاف پانی ہے، اور یہ چشمہ اور پانی کوئی دو الگ چیزیں نہیں، اسی طرح اسلام اور انسانیت دو الگ الگ چیزیں نہیں۔
خوبصورت چشمہ اصل میں پانی کے شفاف اور خوبصورت اظہار کی ایک شکل ہے۔
اسلام اصل میں انسانیت کے اعلیٰ ترین اور خوبصورت اظہار کی شکل ہے۔
پھر کچھ لوگ اسلام کو انسانیت سے الگ ظاہر کر کے کون سی والی ”انسانیت“ کا راگ الاپ رہے ہیں؟
یہ تو آپ کو پتا ہی ہے کہ صاف پانی کے ہوتے ہوئے گندا پانی تو کوئی پینے کو تیار نہیں ہوتا!
تو یہ پانی کے نام پر گندا پانی کیوں زبردستی پینے کو دے رہے ہیں؟

Comments

ابن حجر

ابن حجر

ابن حجر پیشہ کے لحاظ سے انجنیئر ہیں۔ سوشل میڈیا اور کرنٹ افیئر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سچ کے نام سے فیس بک پیج چلاتے ہیں۔ دلیل کےلیے مستقل لکھیں گے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.