بخشش ـــ محمد مبین امجد

اور جب وہ پیدا ہوئی تو حویلی میں ماتم بپا ہو گیا۔ اس کی دونوں پھپھیوں نے بین کیے اور بھائی کے نصیب پر ڈھاڑیں مار مار رونے کا ڈرامہ کیا۔ اس کے بختوں کو کوسنے دیئے ۔۔۔
اور تو اور اس کا باپ سات دن تک گھر نہیں آیا اور جب آیا بھی اسے دیکھا تک نہیں۔۔۔

اور یہ بھی غنیمت تھا کہ اس نے اس کی ماں کو طلاق نہ دی کہ وہ داج میں چار مربعے زمین لائی تھی۔۔۔ اور کچھ بھی تھا زمین کی محبت اس کے دل میں ابھی تک بسی ہوئی تھی۔۔۔ اور یہ زمین کی محبت ہی تھی کہ یہ ظلم ہونے جا رہا تھا۔۔!
وہ زمین ۔۔۔ کہ جس نے بے شمار دکھ سہے تھے۔۔۔ جو ازل سے ہی دکھی تھی ۔۔۔مگر اس کے دکھ کوئی جان نہیں سکا تھا اور نہ آئندہ کوئی جان سکے گا۔۔۔ اس کے داغ کسی کو نظر نہیں آتے ۔۔۔ اس کی چیخیں سنائی نہیں پڑتیں۔۔۔

اور جب جب اس زمین کی کسی بیٹی کو دکھ دیا گیا زمین روتی۔ جب جب کسی بیٹی کو قتل کیا گیا زمین کے بے داغ سینے پہ ایک داغ کا اضافہ ہوا تو زمین روئی۔ مگر زمین اس دن دھاڑیں مار مار روتی تھی جس دن کسی شقی القلب نے کسی بہن یا بیٹی کو زندہ درگور کیا تھا۔۔ اور زمین کا یہ زخم کبھی بھر نہ پایا تھا۔ زمین خون کے آنسو روتی تھی ۔۔۔

اور اب اس زمین پہ ایک اور ظلم ہونے کو تھا۔۔ ایک اور بیٹی کو قرآن سے بیاہ کر زندہ درگور کیا جانیوالا تھا۔۔ اور زمین پھر روتی تھی اور آنسو بہاتی تھی۔۔ آنسو جو نظر نہیں آتے ۔۔۔
اور وہ بھی ایسے ہی روتی تھی۔۔لیکن اس کے آنسو بھی کبھی کسی کو دکھا ئی نہیں دیتے تھے۔ بالکل زمین کی طرح، چپ چاپ، ساکت ، لبوں پر خامشی کا قفل لگائے درد سہتی رہتی۔۔
اور وہ کرتی بھی تو کیا ۔۔؟؟

یہ بھی پڑھیں:   بابا کی پیاری _ بریرہ صدیقی

کہ ایک بیٹی کی ماں اور کر بھی کیا سکتی ہے۔۔؟؟ اور بیٹی بھی وہ ۔۔۔ جسے پیدائش کے بعد اب تک باپ کی نظر بھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔۔۔
پیار کی نظر تو ایک طرف ، جسے باپ نے دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔۔۔ نفرت سے بھی نہیں۔
اور وہی باپ اب اسے زندہ درگور کرنے والا تھا۔۔ وہی باپ اسے قرآن سے بیاہنے والاتھا۔۔ صرف اس لیے کہ اسے جہیز نہ دینا پڑ جائے۔ ۔ اور وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ اسے بچانے کیلیے کچھ نہ کر سکتی تھی۔۔ سوائے رونے کے اور روتی بھی تو بالکل چپ کیے ہوئے۔۔ کہ کسی کو آنسو دکھائی نہ دے جائیں۔ اور اس کے آنسو کسی کو دکھتے بھی نہ تھے۔۔۔

مگر اس کرموں جلی کو ۔۔۔ کہ جو نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہونے والا ہے۔۔ اور وہ جو شادی بیاہ کو نہیں سمجھتی تھی ۔ اس کو ماں کے آنسو دکھتے تھے۔ مگر وہ ان آنسوؤں کا سبب نہیں جانتی تھی اور جان بھی کیسے سکتی کہ اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہو نے والا ہے۔۔۔
اس دن بھی شاید سحری کا وقت تھا جب وہ دیوانہ گلی سے صدا لگاتے گزرا تھا۔۔۔

میں نیل کرائیاں نیلکاں
میرا تن من نیلوں نیل
نی میں نیل کرائیاں

جانے کیوں پچھلے چند دنوں سے اسے لگتا تھا کہ وہ بس اسی کے زخموں پہ پھاہے رکھنے آتا ہے۔۔ اس کی درد میں ڈوبی آواز اسکے نیل یاد کروادیتی تھی۔ اور زخم صرف وہی تو نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں۔ اور اس کے نیل بھی نظر نہیں آتے تھے۔ لیکن اسے لگتا کہ اس کا پورا جسم نیلوں نیل ہے۔ یہ ان دیکھے نیل اسے سخت اذیت دیتے۔ اور وہ اپنے سارے جسم پہ ہاتھ پھیرتی اور اپنے نیلوں کو سہلاتی رہتی، فقیر کی درد میں ڈوبی آواز سنتی رہتی اور روتی رہتی۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   بابا کی پیاری _ بریرہ صدیقی

اور اس کا رونا کسی کو نظر نہ آتا ۔۔ مگر اس کرموں جلی کو
جو اپنے ہاتھ اماں کے رخساروں پہ پھیرتی اور ۔۔۔ اور پوچھتی اماں آپ کیوں روتی ہو ۔۔؟؟
مگر اماں کیا جواب دیتی۔۔۔۔؟ اس کی آنکھیں اور بھی بل بل بہنے لگتیں۔ مگر وہ جواب نہ دے پاتی ۔۔۔ اور وہ جواب دے بھی کیا سکتی تھی۔۔۔
آپ ہی بتائیے ناں۔۔۔ اس سوال کا جواب کوئی کیا دے سکتا ہے۔۔؟؟؟

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.