رنگوں کی دنیا - محمد عمیر

بیشتر مرد رنگوں کے معاملے میں بنیاد پرست ہوتے ہیں یعنی ان کو صرف بنیادی تین رنگوں سرخ، سبز اور نیلے رنگ کی ہی پہچان ہوتی ہے، جبکہ لڑکی اگرچہ کلر بلائنڈ بھی ہو تو اسے ہر رنگ کے مختلف شیڈز میں فرق نظر آجاتا ہے۔ بعض مرد حضرات تو اس معاملے میں میری طرح شدت پسند بھی ہیں کہ نیلے اور جامنی رنگ میں اکثر فرق پتہ نہیں چلتا۔ سرخ، سبز اور نیلے کو بنیادی رنگ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ تمام رنگ ان تین رنگوں کے امتزاج سے بنتے ہیں۔
ضیاء جالندھری صاحب نے کہا تھا
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

میرا خیال ہے اس مصرعے میں وہ کسی خاتون سے مخاطب ہیں، کیونکہ خواتین ہی رنگوں سے باتیں کرسکتی ہیں، مردوں کی تو آپس کی بات چیت چند لمحوں بعد ”اور سنا“ پر ختم ہوجاتی ہے ۔جالندھری صاحب کی مخاطب خاتون ہیں، اس کی بات تصدیق مصرع ثانی سے ہوجاتی ہے
درد پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے

چند روز قبل ایک دوست کی شادی کی شاپنگ کے لیے لاہور کے مختلف شاپنگ مالز میں گئے تو یہ دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی کہ جتنے رنگ مجھے کل معلوم ہیں، اس سے زیادہ تو سرخ نیل پالش کے شیڈز موجود ہیں، اور پھر شیڈز کی ایسی ایسی قسمیں کہ الامان الحفیظ ایک سادہ، ایک میٹ اور ایک واٹر پروف.

ہر کاروباری شخص اپنے کاروبار کے بارے کسی بھی دوسرے شخص کے بارے میں بہتر جانتا ہوتا ہے سوائے رنگ ساز کے، میں نے متعدد بار خواتین کو رنگ سازی کے ہنر کے آزمودہ نسخے رنگ ساز کو بتاتے سنا ہے رنگ کیسے ہلکا ہوگا، کیسے گہرا ہوگا، کیسے جوتے کے رنگ اور چوڑیوں کے رنگ سے میچ کرے گا. خواتین اس سے بخوبی آگاہ ہیں مگر مجال ہے کہ کرکٹ میچ ان کی سمجھ آجائے۔ بیشتر تو وائیڈ بال کو وائٹ بال سمجھتی ہیں کیونکہ گیند کا رنگ سفید ہوتا ہے۔

رنگوں کے معاملے میں بھینس سے امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔ اونٹ کے رنگ کو Camel Color کہا جاتا ہے، انسانی جلد کے رنگ کو Skin Color کہا جاتا مگر بھینس کی دفعہ یہ قانون بدل جاتا اور اس کے رنگ کو کالا کہہ د یا جاتا، اصولی طور پر بھینس کے رنگ کا نام Buffalo Color ہونا چاہیے۔ ویسے سیاہ اور سفید رنگ رنگوں کی دنیا میں سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ جیسے مشروبات میں چائے اور لسی ہے، کرکٹ میں انڈیا اور پاکستان ہیں، ایسے ہی رنگوں میں سیاہ اور سفید رنگ ہیں کہ ان دورنگوں کے بغیر رنگوں کی دنیا بے رنگ ہے۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.