مجرم شاید آپ بھی ہیں - احسان کوہاٹی

اس کی آواز جیسے بہت دور سے آرہی تھی، آواز کیا تھی سسکیاں اور ہچکیاں تھیں جن کے بیچ میں وہ ایک دو لفظ کہتی اور پھر رونے لگ جاتی، اس کی بےربط گفتگو سے سیلانی بس اتنا ہی سمجھ سکا تھا کہ وہ کسی گہرے صدمے سے دوچار ہے، شدید کرب میں مبتلا ہے.
سیلانی نے نرمی سے پوچھا ’’آپ مجھے کچھ بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے۔‘‘
جواب میں وہ چیخ اٹھی ’’میں لٹ گئی ہوں سیلانی صاحب، میرا ریپ ہوا ہے۔‘‘
’’کک، کک کیا ۔۔۔ کیا کہہ رہی ہیں آپ، ہوا کیا ہے ۔۔ آپ مجھے ذرا بتائیں تو سہی‘‘
سیلانی کے پوچھنے پر وہ ہسٹریائی انداز میں چیخی
’’کیا بتاؤں ۔۔ کیا سننا چاہیں گے آپ، یہ کہ میری عزت کس طرح لوٹی گئی، کس طرح مجھے ۔۔۔‘‘ اس کی آواز پھر اس کے اشکوں میں ڈوب گئی اور وہ کسی بچی کی طرح سسک سسک کر رونے لگی.

سیلانی سے اس دکھیاری کی ملاقات لگ بھگ دو ماہ پہلے ایک نجی اسپتال میں ہوئی تھی، وہ سیاہ عبایا میں ملبوس حجاب کیے ہوئے تھی، اگر وہ حجاب نہ بھی کیے ہوئے ہوتی تو سیلانی انہیں نہیں پہچانتا، کبھی ملاقات جو نہیں ہوئی تھی. سیلانی نے اسپتال کی او پی ڈی میں پہنچ کر وہاں بیٹھے لوگوں پر نظر دوڑائی، جواب میں اسے اپنی جانب بہت سی نظریں اٹھتی ہوئی محسوس ہوئیں، اور وہ گھبرا کر باہر آگیا، پھر اس نے سیل فون نکالا اور محترمہ کو فون کیا،
’’آپ آچکی ہیں؟‘‘
’’جی، میں نے آپ کو دیکھ لیا ہے، آپ وہی ہیں جیکٹ والے ہیں ناں جو ابھی ابھی ویٹنگ ایریا سے باہر گئے ہیں.‘‘
’’جی، میں اسپتال سے باہر کھڑا ہوں، آپ کو زحمت نہ ہو تو باہر تشریف لے آئیں.‘‘
’’سر! آپ اندر ہی آجائیں، باہر سڑک پر کیا بات ہوگی؟‘‘ ان کی بات ٹھیک تھی، سیلانی دوبارہ اسپتال کے ویٹنگ ایریا میں گیا اور ایک جانب سے ایک باحجاب خاتون اٹھ کر سیلانی کی طرف آگئیں.
’’السلام علیکم، معذرت چاہتی ہوں کہ آپ کو زحمت دی، دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آپ سے کہاں ملا جائے،گھر پر بلا سکتی نہیں تھی اور باہر کہیں ملنا مناسب نہیں لگ رہا تھا، یہاں مجھے آنا تھا تو آپ کو تکلیف دی جس کے لیے معذرت‘‘
’’تکلیف کی تو کوئی بات نہیں، اتفاق سے آج مجھے یہاں آنا ہی تھا ورنہ شاید ملاقات نہ ہوتی.‘‘
’’جی مجھے اندازہ ہے، آپ بہت مصروف رہتے ہیں‘‘

اسپتال کی او پی ڈی میں ’’ع‘‘ نے بتایا کہ وہ ایک محنت کش عورت ہے، اس کا دن بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے اور گھر کے کام کرتے اور رات کا بیشتر وقت کپڑے سیتے گزرتا ہے، وہ چوبیس گھنٹوں میں بمشکل چار سے پانچ گھنٹے ہی سوتی ہے، اس ساری مشقت کی وجہ وہ تین بچے تھے جو شوہر سے خلع لینے کے بعد اب مکمل طور پر اس کی ذمہ داری بن چکے ہیں، اس نے بتایا کہ اس کا شوہر کچھ نہیں کرتا تھا، الٹا اس پر بوجھ بنا ہوا تھا، تنگ آ کر اس نے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
’’اللہ آپ کے لیے آسانیاں پید ا کرے، میرے لیے کوئی کام ہو تو بتائیے.‘‘
وہ، وہ، وہ میں آپ کو فون پر بتا دوں گی.‘‘
اور پھر اسی شام سیلانی کو ’’ع‘‘ کے نمبر سے ایس ایم ایس آیا
’’آپ سے بات ہو سکتی ہے؟‘‘
’’جی، کوئی ایشو نہیں.‘‘
’’ع‘‘ کی کال آگئی
’’سیلانی صاحب! میں بہت عرصے سے آپ کا کالم پڑھ رہی ہوں، دیکھتی ہوں کہ لوگ آپ سے اپنی پریشانیاں بھی شیئر کرتے ہیں، مشورے بھی کرتے ہیں، میں بھی انھی لوگوں میں سے ہوں۔۔۔ آپ سے پانچ منٹ بات کر لوں ناں ‘‘
’’میرا خیال ہے کہ آپ بات تو کر ہی رہی ہیں، اور اطمینان سے کرتی جائیے.‘‘
’’شکریہ ۔۔۔ سیلانی صاحب! کیا آپ، آپ مجھ سے شادی کرسکتے ہیں؟‘‘
’’جی،ای،ای ای،ای۔۔۔۔مم، مم، میں سمجھا نہیں.‘‘
’’دیکھیے ۔۔۔ دیکھیے مجھے غلط مت سمجھیے گا پلیز.‘‘
’’وہ، وہ توٹھیک ہے لیکن میں میں ۔۔۔ شش شادی شدہ ہوں جی‘‘سیلانی گڑبڑا گیا.
’’مجھے پتہ ہے بلکہ مجھے ہی نہیں آپ کے سارے پڑھنے والے جانتے ہیں، میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گی، بس مجھے اس جہنم سے نکال دیں‘‘
’’کیسی جہنم ؟‘‘
اس سوال کے جواب میں ’’ع‘‘ کی بپتا شروع ہوئی، وہ ایک ایسے بھرے پرے گھر کی لڑکی تھی جہاں لڑکیوں کی تعلیم سے زیادہ گھر گرہستی سکھانا زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے، اسے بھی واجبی سی تعلیم کے بعد گھر بٹھا لیا گیا. ’’ع‘‘ بہت روئی دھوئی لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی، ڈانٹ ڈپٹ کے بعد اٹھنے والے ہاتھ نے اس کا سر جھکا دیا. اسے بتا دیا گیا کہ وہ ناسمجھ ہے، اس کے لیے کیا اچھا کیا برا ہے، اس کا فیصلہ گھر والوں نے کرنا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہا، دن ہفتے اور ہفتے مہینے بن کر گزرتے چلے گئے، وہ بڑی ہوگئی لیکن اتنی بڑی نہیں کہ کوئی فیصلہ کر سکے. اس کے رشتے آنے لگے، پھر اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ بھی ہو گیا، اس کی شادی کر دی گئی، سسرال اچھا ملا لیکن شوہر نکھٹو، اس کے نزدیک چارپائی پر پڑے رہنا ہی کام تھا، ایک، دو، تین، آگے پیچھے تین بچے بھی ہوگئے لیکن ان کی ذمہ داری اٹھانے کے بجائے اس نے ا پنی ذمہ داری بھی اپنی بیوی پرڈال دی، جس کا زیادہ تر وقت کپڑوں کی سلائی میں گزرتا تھا. اسی بات پر جھگڑے شروع ہوئے جس کا اختتام خلع پر ہوا، ’’ع‘‘ خلع لے کر اپنی بڑی بہن کے گھر کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہنے لگی اور یہیں اسے اپنے بہنوئی کی میلی نظروں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس نے سیلانی کو بتا رکھا تھا کہ وہ کس قدر مشکل سے رہ رہی ہے، ماں باپ مرچکے تھے، بھائی تھا نہیں، اکیلی عورت کہیں جا کر رہ بھی نہیں سکتی، مجبورا اسے بہن کا سہارا لینا پڑ رہا تھا جس کی قیمت اس کا بہنوئی وصول کرنا چاہتا تھا. ’’ع‘‘ نے بتایا کہ وہ بہت احتیاط کرتی ہے لیکن اس کے باوجود خوفزدہ ہے، اس کا دل کسی انجانے خدشے سے دھڑکتا رہتا ہے اور اس روز یہ خدشہ درست ثابت ہوا، اس کی بہن کہیں گئی ہوئی تھی، بچے اسکول میں تھے، ’’ع‘‘ کی طبیعت خراب تھی، اس نے دوا لی جس کے بعد غنودگی سی طاری ہوئی اور اس کی آنکھ لگ گئی جو اس وقت کھلی جب اس کا بہنوئی شیطان بنا اسے نوچ رہا تھا۔
’’ع‘‘ بری طرح رو رہی تھی، اس کی آہوں سسکیوں سے سیلانی کا دل بھی بھر آیا
’’آپ، ِآپ نے اپنی باجی سے بات کی‘‘
’’ہاں! وہ کہہ رہی ہیں، چپ رہو زبان کھولو گی تو تم پر ہی انگلیاں اٹھیں گی۔۔۔‘‘
’’اوہ! بہت ہی افسوس کی بات ہے۔۔۔‘‘
’’افسوس کیسا افسوس سیلانی صاحب!۔۔۔ میں توطلاق یافتہ ہوں نا، لوٹ کا مال ہوں، راستے میں پڑا سکہ ہوں کہ جس کا دل چاہے اٹھا لے۔ مجھے بتائیں طلاق ، خلع ناپسندیدہ ہی سہی لیکن کیا یہ حق اللہ نے نہیں دیا؟ میری کوئی پسند نہیں تھی،گھر والوں نے میری شادی کی اور میں نے گھر بسایا، میں اس کے تین بچوں کی ماں بنی لیکن وہ بچوں کا باپ بن کر ان کی ذمہ داری اٹھانے پر رضامند ہی نہ تھا، میں کیا کرتی کتنا کرتی، کب تک کرتی؟ میں علیحدہ ہوگئی کہ جب میں نے ہی بچے پالنے ہیں تو اس کے ساتھ کیوں رہوں، کسی کو اپنا گھر اجاڑنے کا شوق نہیں ہوتا، میں نے بہت مجبوری میں یہ فیصلہ کیا تھا ‘‘ وہ لرزتی آواز میں اپنی بپتا سناتی رہی اور سیلانی خاموشی سے سنتا رہا، اس کے پاس کہنے کے لیے تھا ہی کیا۔
وہ لمحہ بھر کو چپ ہوئی اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگی
’’مجھے بتائیں کیا طلاق خلع بدکار ہونے کی سند ہے؟
’’اللہ نہ کرے ایسی تو کوئی بات نہیں‘‘ سیلانی نے جلدی سے کہا.
’’تو پھر انہیں باعزت طریقے سے جینے کا حق کیوں نہیں؟ ان پر خوشیوں کے دروازے بند کیوں؟ سیلانی صاحب! میں نے آپ سے بھی مدد چاہی تھی ناں، آپ میری مدد کر سکتے تھے لیکن۔۔۔‘‘، وہ پھرسسک پڑی،سیلانی کوئی تسلی دلاسہ بھی نہ دے سکا، ’’ع‘‘ نے جیسے اس سے قوت گویائی ہی چھین لی تھی.

’’ع‘‘ اور اس جیسی تمام عینوں کی سسکیاں اس معاشرے کے لیے وہ فرد جرم ہیں جن سے شاید ہی کوئی انکار کر سکے، وہ تمام مرد جنہیں اللہ رب العزت نے خوب عزت، صحت اور دولت دے رکھی ہے، انہوں نے کبھی اس حوالے سے بھی سوچا کہ وہ کسی کا سہارا بن جائیں؟ یہی سوال ان ماؤں بہنوں سے بھی ہے جو اپنے گھروں میں عزت اور وقارکے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں، کیا انہوں نے ان خوشیوں میں کسی کو شریک کرنے کا سوچا؟ یہاں بیویاں شوہر کی بیس گرل فرینڈز برداشت کر لیتی ہیں، چشم پوشی کر لیتی ہیں، ان کی زناکاری پر بھی معترض نہیں ہوتیں، شرط بس یہ ہوتی ہے کہ سوکن نہ آئے، وہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی برادشت نہیں کر سکتیں. بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو اچھوت سمجھ کر دور رکھنا اور کاٹھ کباڑ سمجھنا ہمارا مذہب تو نہیں، پھر ہم ان کا ہاتھ تھام کر خوشیاں کیوں نہیں دیتے؟ نکاح ثانی کو رواج کیوں نہیں دیتے؟ سیلانی اپنی سوچ میں بہتا چلا گیا. اسے خبر بھی نہیں ہوئی کہ ’’ع‘‘ نے آخر میں کچھ کہا یا روتے روتے ہی لائن کاٹ دی. اس کا فون اس بےحس معاشرے کی خاموش ہوچکا تھا جس کاوہ بھی حصہ ہے، فردجرم اس پر بھی لگی تھی، شرم سے سر اس کا بھی جھکا تھا، اور اسی جھکے ہوئے سر کے ساتھ شرمندہ شرمندہ نظروں سے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا.

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.