سکون قلب کی تلاش - مولانا محمد جہان یعقوب

وہ نیویارک کے ایک مال دار گھرانے میں پیداہوئی، جہاں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ کچھ بڑی ہوئی تو دوسری امریکی لڑکیوں کی طرح وہ بھی امریکہ کے عظیم شہر کی گلیمر بھری زندگی میں جاذبیت اور دلکشی کی دوڑ میں حصہ لینے اور اعزازات و کامیابیوں کے سنگ میل عبور کرنے لگی، لیکن بظاہر جس قدر سرعت سے وہ کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی جا رہی تھی، اس کے اندرونی خلا اور بےاعتمادی میں اسی قدر اضافہ ہوتا جاتا تھا، وہ کہتی ہے:
”میں ایک شدید قسم کی ذلت اور حقارت میں اپنے آپ کو ڈوبا ہوا محسوس کرتی تھی، میں فیشن کی غلام بن کر رہ گئی تھی اور میرا مصرف بس یہی رہ گیا تھا کہ دوسروں کی آنکھوں اور دلوں کو خوش کر دوں، میرا معیار زندگی جتنا اونچا ہوتا جاتا تھا، اسی کے بقدر میرا اعتماد اتنا ہی گرتا جاتا تھا۔“

اس نے ان حقائق سے راہ فرار اختیار کرنا چاہی مگر فرار کے ہر موڑ پر یہ سلگتے حقائق اس کا منہ چڑانے کےلیے موجود ہوتے تھے، آخر وہ زندگی سے اس قدر تنگ آگئی کہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح اس نے نشہ کی پناہ لی، ڈانس اور وائن کلبوں اور پارٹیوں میں جا کر دل بہلانا چاہا… مگر سب بےسود … جب عیاشی و مستی کی یہ دنیا بھی اس کے درد کا درماں نہ بن سکی تو اس نے مذہب کے سائے میں سکون کو تلاش کرنا شروع کر دیا، لیکن خود تراشیدہ مذاہب میں سکون قلب کی دولت کہاں مل سکتی تھی! سو یہاں سے بھی اسے گوہر مراد ہاتھ نہ لگ سکا تو اس نے ”ایکٹیوازم“ کا سہارا لیا، یعنی فلاحی اور اجتماعی تحریکوں میں حصہ لینے اور اس مشغولیت میں شب و روز گزار کر سکون تلاش کرنے لگی … مگر ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ کے مصداق جس قدر وہ ترقی کے منازل طے کر رہی تھی، اور اس کا لائف اسٹائل جیسے جیسے بلند ہو رہا تھا، اس کے اندر کا خلا بھی بڑھتا جا رہا تھا، اس کی اندرونی بےاعتمادی کی آگ اسے ایک ان دیکھے الاؤ میں جلاتی جا رہی تھی۔

یہ وہ دن تھے جب نائن الیون کا واقعہ ہو چکا تھا اور اسلام اور اسلامی اقدار و تہذیب خطرناک حملوں اور تنقید کی زد میں تھے۔ اب تک کبھی اس نے اسلام کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے، جاننے اور جانچنے پرکھنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی، اس کے ذہن میں اسلام کے نام پر صرف چند نقوش تھے… خونخوار دہشت گرد، سسکتی تڑپتی مظالم کی چکی میں پستی عورت، اسلحہ بردار دینی کارکن، عدم برداشت، اپنی بات جبراً دوسروں سے منوانے کے لیے تشدد، دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو واجب القتل سمجھنا اور اپنے مخالفین سے جینے کا حق تک چھیننا… یہی تصورات تھے جو اس کے دل و دماغ میں اسلام کے حوالے سے جاگزیں تھے اور کسی بھی ماڈرن امریکی عورت کی طرح اس نے کبھی ان میں کسی تغیر کے لیے حقائق کی دنیا میں جھانکنے کی ضرورت نہ سمجھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اب اس کی حیثیت ایک فیمینسٹ یعنی عورتوں کی آزادی کی علمبردار سماجی کارکن کی تھی۔ اس کام کے سلسلے میں اس کی ملاقات ایک سینئر سماجی کارکن سے ہوئی جو بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مذہب، تمام انسانوں کے حق میں انصاف اور فلاح و بہبود کا داعی تھا۔ یہ ملاقات اس کے لیے ”ٹرننگ پوائنٹ“ ثابت ہوئی، اسے یوں لگا کہ جس سکون کی تلاش میں اس نے در در کی ٹھوکریں کھائی ہیں، اپنے لائف اسٹائلز تبدیل کیے ہیں، مختلف پیشوں سے منسلک ہوئی ہے، وہ سکون اب اس سے زیادہ دور نہیں۔ وہ بیان کرتی ہے: ”اس شخص سے ملاقات کے بعد مجھے احساس ہوا کہ انصاف،آزادی اوراحترامِ انسانیت کا تعلق کسی خاص دین و مذہب سے نہیں، بلکہ یہ آفاقی اقدار ہیں“۔

اس شخص نے قرآن مجید کو ان آفاقی اقدار کا چارٹر قرار دیا تھا، اس نے سوچا قرآن کا مطالعہ کر کے دیکھے کہ کیا واقعی اس کی بات درست ہے؟ سو اس نے اس مقدس کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ پہلے تو قرآن کے معجز نما اسلوب و انداز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا، اگر چہ وہ قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ پڑھ رہی تھی، پھر بھی اس کے ایک ایک لفظ سے اسے نور کی کرنیں پھوٹتی محسوس ہوئیں، اس کا دل بار بار گواہی دینے لگا، یہ دوسری مذہبی کتابوں سے بالکل الگ، منفرد اور ممتاز کتاب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان اور زندگی کے حقائق اور عبد و معبود کے رشتے پر جو روشنی ڈالی ہے، اس نے تو اسے مسحور کر کے رکھ دیا، اس نے دیکھا کہ قرآن نے اپنی بصیرت کا مخاطب براہ راست انسان اور اس کی روح کو بنایا ہے۔ اب اسے فرصت کا جو بھی لمحہ ملتا وہ اسے پاک کلام کی صحبت میں گزارتی، اسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کا خالق خود اس کے قریب آکر اس سے مخاطب ہے۔ قرآن حق کے متلاشیوں کی راہ نمائی کرتا ہی ہے، بس ارادہ نیک اور ہدایت کے حصول کا ہو، سو اس کے دل کی بنجر زمین بھی قرآن کے نور ہدایت سے آباد ہونے لگی… اور آخرکار وہ لمحہ آگیا جب اس نے کلام ہدایت کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے سرِ نیاز جھکا دیا، قرآن کی آفاقی سچائی کوتسلیم کرلیا اور اسلام کے دامن ِرحمت سے وابستہ ہوگئی۔
اس کا کہنا ہے: ”جس منزل کے لیے سرگرداں اور جس سکون کی دولت کو پانے کے لیے میں ایک عرصے سے بے تاب تھی، مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صرف اسلام قبول کرکے ہی حاصل ہوسکتاہے، میری داخلی بےتابیوں اور اضطراب کا علاج صرف ایمان سے ہو سکتا ہے، اور میرے مسائل کا حل مہم جوئی میں نہیں عملی مسلم بننے میں ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کی عالمی برادری سے مایوسی - مفتی منیب الرحمن

اس نے ایک برقع اور سراور گردن کو ڈھکنے والا اسکارف خرید لیا جوایک مسلم عورت کا شرعی لباس ہے۔ یہ لباس پہن کر اسے محسوس ہوا کہ جیسے وہ کسی گوشہ امن و عافیت میں آگئی ہے، جن راستوں، مارکیٹوں، پبلک مقامات اور لوگوں کے سامنے سے کچھ دن پہلے گزرتے ہوئے اس کے رگ و پے میں عدم ِ تحفظ کی سنسناہٹ دوڑ جاتی تھی، اب وہ وہاں سے گزرتی تو کوئی شہوانی نظر اس کا تعاقب نہیں کرتی تھی، ان آنکھوں میں اب تعجب اور دوری کے آثار تھے، جو پہلے مجھ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے شکاری اپنے شکار کو اور باز ننھی چڑیا کو۔ حجاب نے اسے ایک خاص طرح کی غلامی اور ذلت سے نکال دیا تھا… وہی گھر بار، وہی انسانی حقوق کی جدوجہد، وہی خواتین کے حقوق کے لیے سرگرمی … غرض سب کچھ ویسا ہی تھا، بس ایک چیز بدلی ہوئی تھی، اور وہ تھا اس کا اندرونی اطمینان و سکون، خوداعتمادی اور تحفظ کا احساس۔ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان سے نکاح کر لیا، اب وہ خود کو اور زیادہ محفوظ اور باوقار تصور کرنے لگی۔ مخبر صادق ۖ کا نکاح کو نصف ایمان کی تکمیل کا ذریعہ قرار دینے کا فلسفہ وہ سمجھ چکی تھی۔

اس کا دنیا بھر کی مسلمان عورتوں کے نام پیغام ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد اور اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر عمل کرتے ہوئے اندھیروں میں بھٹکتی انسانیت کے لیے مینارہ نور بن جائیں، یہ ان کی ایمانی ذمہ داری بھی ہے اور دینی و معاشرتی فریضہ بھی!

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.