کیا یہ وہی جرمنی ہے؟ حیا حریم

لمبی سڑکیں، ان پر بل کھاتی پٹڑیاں، آسمان کو چھوتی منقش عمارتیں، ان پر تراشیدہ ایسے نقش ونگار کہ ہر فنکار کا فن توجہ مانگے، اس پر مستزاد ہر قدم پر نظر روکنے کا ایک منظر، نگاہوں کو خیرہ کرتا اور کبھی حیرت و استعجاب میں مبتلا کرتا، سلیقہ اور نظم و نسق الگ کہانی ہے. دھکم پیل نہ سست روی، لمبی قطاریں، پھر بھی بروقت کام۔ یہ سب منظر ہی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے تھے، بہت سے سوال سر اٹھاتے تھے، ایک سوال اٹھتے ہی جواب آنے سے پہلے ذہن دوسرے منظر میں کھو جایا کرتا، یہ ذہنی انتشار باہر نکل کر ہر وقت ہی رہتا تھا۔

سکون کا لمحہ جو میسر ہوتا تو اپنے چھوٹے سے مدہم روشنیوں والے کمرے میں ہی ہوتا تھا، وہاں بھی شب کا سناٹا تو بستر کی آغوش میں گزر جاتا البتہ صبح کے دھندلکے میں کمرے کے عقبی جانب کھلنے والے دروازے کے پار بنے ٹیرس پر کچھ وقت کے لیے ضرور جاتی، ابھرتے ہوئے سورج کی کرنوں اور آسمان پر پھیلتی سفیدی میں ارد گرد پہاڑوں کی مانند ایستادہ عمارتیں صاف اور روشن نظر آتی۔ میں ایک ٹک انھیں دیکھتی اور یہ یقین کرنے کی کوشش کرتی کہ واقعی یہ وہی جرمنی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں تباہ ہوگیا تھا؟

چھ سال جاری رہنے والی جنگ کے بعد یقینا یہاں کھوپڑیاں بکھری ہوں گی، اتحادی افواج نے جہاں صرف تین دن میں تین ہزار ٹن کے قریب بارود کی آگ بھڑکائی تھی، یہاں ان شعلوں کے نشانات آج تک ہونے چاہیے تھے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

کھوپڑیوں پر نہایت سلیقے سے اونچی عمارتیں بنی ہوئی تھیں، ان کی کسمپرسی اور اندوہناک ماضی زمین میں دفن تھا، جسے وہ بھولے بھی نہیں تھے اور اس میں منہمک بھی نہیں رہے تھے، یہاں تو آج تک امدادی قافلے گردش کرتے رہنے چاہیے تھے، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا، یہ بہت عزم سے دوبارہ ترقی کی طرف بڑھے تھے اور اس میں کامیاب ہوئے تھے۔
میری نگاہیں یوں ہی طواف کرتی رہتیں، اچانک گھڑی الارم بجاتی اور میں واپس کمرے کی طرف یہ سوچتے ہوئے مڑجایا کرتی کہ
دنیا بھر کی اقوام ترقی اور استحکام کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ اپنی بنیاد سے دور بھاگ رہے ہیں، اور اپنے ماضی کو فراموش کر رہے ہیں، اگر ان کی جگہ ہم ہوتے تو شاید آج تک خود پر بیتے تلخ حقائق کی آڑ میں اپنے دکھوں کا رونا روتے رہتے اور کسی غیر ملکی امداد کے منتظر ہوتے۔

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.