وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد- اوریا مقبول جان

دہشتگردی کی اس قدر آسان اور سادہ تشریح صرف یہ موصوف نہیں کرتے بلکہ جدید سیکولر معاشرے کا میڈیا جو کارپوریٹ سودی معیشت کے بل بوتے پر استوار کیا گیا ہے اس کا ہر لبرل سیکولر اور جدید مغربی تہذیب کا دلدادہ دانشور ضرور کرتا ہے۔ لیکن موصوف کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک عالم دین کے لبادے میں شاندار پیرائے میں ان تمام تصورات کا دفاع کرتے ہیں جو جدید مغربی تہذیب کی علامت ہیں اور مسلمانوں میں تمام خرابیوں، برائیوں، بیماریوں، قتل و غارت اور دہشتگردی کو صرف پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام اور پھر پوری دنیا میں اس کا واحد ذمے دار مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم کو گردانتے ہیں۔
گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد کے اخبارات، ٹیلی ویژن پروگرام، کتب اٹھالیجئے۔ جب بھی کہیں کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوا، ان تمام ’’عظیم‘‘ دانشوروں نے مدارس میں دی جانے والی تعلیم کو ہدف تنقید بنایا۔ ایسا کرنے سے ان کا ایک شاندار مقصد حل ہوتا ہے۔
موصوف کے سامعین کے نزدیک محلے کے مدرسے کے مولوی اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی محترم اور مقتدر شخصیات میں کوئی فرق باقی نہیں ہوتا۔ اسی لیے جب دنیا کے اخبارات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی توہین آمیز کارٹون چھپتا ہے تو ان جدید اخلاقیات کے پروردہ دانشوروں کے علوم سے فیض یافتہ نوجوانوں کو کسی قسم کی حیرت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ الٹا یونیورسٹیوں میں یہ بحث کررہے ہوتے ہیں کہ ’’یار مغرب کمال کا معاشرہ ہے، وہ حضرت عیسیٰ کے بھی کارٹون بناتے اور فلموں میں ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔‘‘
یہ سب ان کے اذہان میں اس لیے آتا ہے کہ کوئی ان کو یہ نہیں بتاتا کہ ’’گیارہ ستمبر‘‘ کے واقعہ سے پہلے اس امت مسلمہ کی چودہ صدیاں گزری ہیں اور ان چودہ صدیوں میں آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ نہیں بلکہ یہی مدارس تھے جن سے نکلنے والے کیمیا دانوں، ماہرین ارضیات و فلکیات، ماہرین طب بلکہ دنیا کے ہر علم کے ماہرین نے پوری دنیا کو اپنے علم سے منور کیا تھا بلکہ آج کے اکثر جدید علوم کے بانی ان مدرسوں کے طالب علم ہی تھے۔ وہ یہی تفسیر، یہی حدیث اور یہی فقہ بھی ساتھ ساتھ پڑھتے تھے۔ انھیں تو کسی نے متعصب نہ بنایا۔
ان ہزاروں شیعہ اور سنی مدارس سے لاکھوں لوگ ایک ہزار سال تک پڑھ کر نکلتے رہے، کتنے تھے جو ویٹیکن سٹی میں پوپ اور اس کے حواریوں کو قتل کرنے جانکلے۔ بھارت میں کاشی وشواناتھ کے مقدس مندر میں بیٹھے پروہت اور برہمن پر حملہ آور ہوئے، انھیں 15 جولائی 1099ء میں یروشلم کے شہر میں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا، دس ہزار مسلمان مسجد اقصیٰ کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے ‘انھیں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا۔
یروشلم کی گلیاں اس قدر خون سے تر ہوئیں کہ گھوڑوں کی سُمیں بھیک گئیں، اس کے بعد جب صلاح الدین ایوبی نے واپس یروشلم حاصل کیا تو ایک بھی انتقامی قتل اس کے کھاتے میں تاریخ میں نظر نہیں آتا ہے‘ کوئی نہیں بتاتا کہ وہ یہ اخلاقیات آکسفورڈ اور ہارورڈ سے نہیں بلکہ تکریت اور دمشق کے مدارس سے سیکھ کر آیا تھا۔
یہ مدارس مدتوں سے شیعہ، سنی، حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک میں تقسیم تھے اور گزشتہ چار سو سالوں سے تو اپنے مسلک کی فقہ کے علاوہ اور کچھ اگر پڑھاتے بھی تھے تو تنقیدی نقطۂ نظر سے۔ ان کے ہاں تو کوئی ایسی دہشتگرد تنظیم نے جنم نہ لیا۔ البتہ ان مدارس نے ان حریت کے پیکر، آزادی کے علمبردار مجاہدین کو ضرور جنم دیا جو انگریزوں، فرانسیسیوں، ولندیزیوں اور پرتگیزوں کے خلاف لڑے۔ لیکن میرے یہ جدید مفکرین اور دانشور آزاد ہند فوج کے سبھاش چندر بوس کو ہیرو گردانتے ہیں۔
انگریزوں کو بم پھاڑ کر ہلاک کرنے والے بھگت سنگھ کا یوم مناتے ہیں لیکن آج ان کی تحریریں اٹھالیں یہ سید احمد شہید، شاہ اسمعیل شہید، مولانا کفایت اللہ کافی، مولانا محمود الحسن اور مولانا جعفر تھانیری ایسے دیگر ہزاروں مدارس کے علماء کو فساد فی الارض لکھتے ہیں جو انگریز کے خلاف لڑے اور جام شہادت نوش کیا اور کالا پانی کی سزائیں بھگتیں۔
مسلمانوں میں دہشتگردی کی اتنی آسان تعبیر شاید ہی دنیا میں کسی نے کی ہو۔ ایک صاحب اور ہیں کہ میں جن کی تحریر کا بہت پرستار ہوں کہ اپنے مؤقف کو خوبصورت دلیل سے پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے بھی گزشتہ روز مزارات پر حملے کا سارا ملبہ مدارس پر گرادیا۔ تاریخ ڈھونڈ کر لائے کہ کیسے 2005ء میں جھل مگسی میں پیر رکھیل کے مزار پر پہلا حملہ ہوا۔ کتنی سادگی سے مزارات پر حملوں کی ٹائم لائن نکال کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ مدارس کی تعلیم اس کی وجہ تھی۔
2005ء سے پہلے کے گزشتہ چار سالوں کو تاریخ کے صفحات سے ایسے کھرچ دیا جاتا ہے جیسے وہ تھے ہی نہیں۔ اس مزار سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ایئرپورٹ ہے جسے جیکب آباد ایئرپورٹ کہتے ہیں۔ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد جب سیکولر لبرل ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے فیصلہ کیا کہ ہم نے امریکا کا ساتھ دینا ہے تو اسی ایئرپورٹ سے 57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اپنے پڑوس میں افغان مسلمانوں پر بم برسائے۔ بلوچستان کی سرحد کے آر پار ایک طرح کے قبائل بستے ہیں، ان سب کو علم تھا کہ یہ کون کررہا ہے۔کہاں سے ہورہے ہیں اور کیوں ہورہے ہیں۔ پھر بھی کسی مزار پر حملہ نہ ہوا۔ چار سال خاموشی سے گزرے۔
میں ذرا یاداشت کو تازہ کردوں، رینڈ کارپوریشن کی سول ڈیموکریٹک اسلام رپورٹ آئی‘ اور امریکا کو یہ مفید مشورہ دیا گیا تھا کہ صوفی اسلام کو پوری دنیا میں اپنا ہمنوا اور ساتھی بناؤ۔ اسی صوفی اسلام کی بنیاد پر مشرف نے ایک صوفی کونسل بنائی تھی جس کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین تھے۔ اس کے بعد لاہور میں امریکی قونصلیٹ جنرل برائن ہنٹ Brian Hunt نے پاکستان کے تمام مزارات کی تزئین و آرائش کے لیے ڈالروں کے منہ کھول دیے۔
جہانگیر کے مقبرے میں تمام گدی نشینوں اور مزارات کے وارثوں اور والیوں کو بلایا گیا۔ یہ ناچیز ڈائریکٹر جنرل آثار قدیمہ کے طور پر وہاں بدقسمتی سے موجود تھا۔ وہاںمذہبی نعروں کے ساتھ برائن ہنٹ کے بھی نعرے بلند ہوئے۔ مشرف کے محکمۂ اوقاف نے خودکو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امن کا نقیب ثابت کرنے میں سارا سرکاری اثرو رسوخ استعمال کیااور میڈیا پر موجود سیکولر لبرلز نے اس کا ساتھ دیا، یہ وہ زمانہ تھا جب انتظامی سطح پر یہ پلاننگ ہوتی تھی کہ ساری دہشتگردی چونکہ دیوبندیوں کی جانب سے ہورہی ہے اس لیے بریلویوں کو ان کے خلاف منظم کیا جائے۔
میں نے اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں بار بار ہاتھ باندھ کر عرض کیا ایسا کرکے تم آگ سے کھیل رہے ہو۔ آپ دہشتگرد کو دہشتگرد رہنے دو، کوئی مسلک مت دو۔ میں ان عظیم دانشوروں اور کالم نگاروں کے نام بھی جانتا ہوں جو یہ نظریہ سرکاری سطح پر آکر پیش کرتے تھے کہ ان بریلویوں کو ان کے پیچھے لگاؤ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں یہ منطق سنتا اور کانپ اٹھتا۔ ادھر برائن ہنٹ اور امریکی سفیر ریان سی کروکر پورے ملک کے دورے کررہے تھے۔ یہ سب اس وقت ہورہا تھا جب امریکی افغانستان اور عراق میں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہے تھے۔ لیکن کون سنتا ہے۔
امریکی پالیسی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انھوں نے اس مسلکی آگ کو ہوا دی، لیکن اللہ بھی تو تدبیروں کو الٹنے والا ہے۔ جن لوگوں کے تعصب کا یہ عالم ہو کہ انھیں ولیم ڈار لپل آخری مغل ”The Last Moughal” لکھ کر بتائے کہ 1857ء کی جنگ آزادی دراصل جہاد تھا جس کا پرچم دلی کی جامع مسجد سے بلند ہوا تھا اور اس میں صرف مدارس اور مساجد کے مولویوں نے قربانیاں دی تھیں اور انگریز نے فتح کے بعد پھانسیاں بھی انھی مدارس اور مساجد کے مولویوں کو دی تھیں۔ لیکن ان کے تعصب کا یہ عالم ہے کہ پھوٹے منہ سے بھی اس آخری جنگ میں مولوی کا نام لے جائیں۔
تاریخ میں ذکر کریں گے اور نہ گفتگو میں۔ لیکن اگر کہیں کوئی مسلمانوں کا منفی پہلو مل جائے تو فقرہ ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ ہیں مسلمان، یہ ہے ان کا اسلام۔ ان سب کو مذہبی دلیل فراہم کرنے والے جدیدیت کے پرستار عالم دین نے پوری ملت اسلامیہ کے مدارس کی تعلیم کو دہشتگردی کی وجہ قرار دیتے ہوئے ایک منٹ کے لیے بھی دنیا میں ہونے والے بڑے بڑے دہشتگردی کے واقعات پر نگاہ تک نہ ڈالی۔ سب سے بڑی دہشتگردی گیارہ ستمبر کو ہوئی جن میں چودہ کے چودہ خودکش افراد ان یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ تھے جہاں سیکولر تعلیم دی جاتی ہے۔
مدارس کو دہشتگردی کا واحد ذمے دار قرار دینے والے یہ موصوف یورپ کے ان چوبیس ممالک سے سیکولر نظام تعلیم کے پروردہ اور اعلیٰ یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے ان 15ہزار جنگجوؤں پر کس مدرسے کا اثر ثابت کریں گے جو آج شام اور عراق میں داعش کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
(جاری ہے)