علم اور عالم کا معنی، فرق - شاہد شفیع

علم (علم ۔یعلم) کسی چیز کو کما حقہ جاننا، پہچاننا، حقیقت کا ادراک کرنا، یقین حاصل کرنا، محسوس کرنا، محکم طور پر معلوم کرنا۔ اس طرح ادراک حقیقت کرنے والے کو عالم کہتے ہیں جس کی جمع عالمون آتی ہے۔ اور علیم کی جمع علماء یعنی گہرا اور پختہ علم رکھنے والے۔ اس مادہ کے بنیادی معنی کسی چیز پر ایسے نشان کے ہیں جس سے وہ شے دیگر اشیاء سے متمیز ہو سکے۔(ابن فارس)

عربوں کے نزدیک علم کا درجہ معرفت اور شعور سے زیادہ بلند ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے علم کا لفظ استعمال کرتے ہیں نہ کہ معرفت یا شعور کا، چنانچہ خدا کو عالم یا علیم کہہ سکتے ہیں، عارف (معرفت رکھنے والا) یا شاعر (شعور رکھنے والا) نہیں کہہ سکتے۔ علم اور معرفت میں ان کے نزدیک ایک فرق یہ بھی ہے کہ معرفت کسی چیز کے آثار و قرائن میں غوروفکر کر کے اس کا ادراک کرنے کو کہتے ہیں لیکن علم کے لیے یہ ضروری نہیں۔ ثانیا معرفت کا لفظ بیشتر اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب کوئی چیز ادراک کے بعد دھیان سے نکل گئی ہو اور پھر دوبارہ اس کا ادراک ہو لیکن علم میں یہ صورت نہیں ہوتی۔

قرآن کریم نے سمع و بصر اور قلب کو حصول علم کے ذرائع قرار دیا جو ایمان تک پہنچنے کا ضروری ذریعہ ہے۔ دوسرے مقام پر قلب کی جگہ فواد بھی کہا ہے، اس میں علم بذریعہ حواس (perceptual knowledge) اور بذریعہ تصورات (conceptual) دونوں آجاتے ہیں۔ اور فواد کی نسبت سے اس میں احساسات بھی آجاتے ہیں، لیکن چونکہ علم اس وقت علم کہلا سکتا ہے جب وہ یقین کے درجے تک پہنچ جائے، اس لیے قرآن کریم نے وحی کو علم کہا ہے اور اس کی ضد کو اھواء، یعنی انسان کے خودساختہ تصورات یا جذباتی عقیدت مندیاں جن کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم خارجی کائنات کے متعلق علم حاصل کرنے پر بہت زور دیتا ہے، اس لیے کہ اس علم کی بنیاد دلائل و براہین حقائق وشواہد پر ہوتی ہے، جذباتی عقیدت مندی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔

العلم والعلامۃ: ایسی نشانی جس سے کوئی شے پہچانی جا سکے۔ دو کھیتوں کے درمیان جو ڈول بنا دی جائے، اسی طرح ریگستانوں یا دوسرے راستوں میں راہ کی پہچان کے لیے جو چیزیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، انہیں بھی علامۃ يا علم (Alum) کہتے ہیں. بڑے اور لمبے پہاڑ کو بھی علم کہتے ہیں، اس کی جمع اعلام ہے۔ نیز وہ اثر یا نشان جس سے راستہ کا پتہ چلایا جاسکے معلم کہلاتا ہے۔ اعلم اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کا بالائی ہونٹ پھٹا ہو۔ قدیم عرب، جنگ میں گھوڑے پر رنگین اون لٹکا دیتے تھے، اس عمل کو اعلم الفرس کہتے تھے۔ اسی سے عالم (Aalum) ہے جس کی جمع عالمین ہے۔ عالم جس کے معنی ہیں ما یعلم بہ، یعنی وہ شے جس کے ذریعے کسی چیز کا علم حاصل کیا جائے۔ چونکہ خدا کا علم، کائنات کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اس لیے ساری کائنات عالم (Aalum) کہلائی جانے لگی، نیز کائنات کے مختلف پہلوؤں گوشوں میں سے ہر ایک بھی عالم کہلائے گا۔ مثلا عالم انسان، عالم ماء، عالم نار وغیرہ۔ اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ اگرچہ عالم (Aalum) کا لفظ کائنات کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اہل عرب ہر موجود شے مثلا پتھر مٹی کے لیے اسے نہیں بولتے بلکہ وہ اس لفظ کا اطلاق ہر ایسے جداگانہ مجموعہ پر کرتے ہیں جس کے افراد اگر عاقل نہ ہوں تو عاقل سے قریب تر ضرور ہوں، مثلا عالم الانسان، عالم الحیوان، یا عالم النبات۔

قرآن کریم میں عالم (Aalim) کے لیے جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں۔

عالم، جاننے والا، علم رکھنے والا عام ہے۔ خواہ لکھا پڑھا ہو یا نہ ہو، معروف لفظ ہے، اس کا استعمال عام ہے۔ علام اور علیم مبالغے کے صیغے ہیں۔
انما يخشى اللہ من عباده العلماء۔۔۔35/28

احبار، لکھے پڑھے اور اہل قلم حضرات، احبار کا اطلاق قرآن میں یہود و نصاری دونوں کے لکھے پڑھے لوگوں پر ہوا ہے۔
اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ۔۔9/31
یہود ونصاری نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا۔

قسیسین، عیسائیوں کے مدرس ومعلم، قسی الشی بمعنی کسی چیز کی طلب اور جستجو کرنا۔
قالو انا نصارى ذالك بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔ 5/82
جو کہتے ہیں ہم نصاری ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔

وقل رب زدنی علما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طہ
مفہوم۔۔۔
کہیے کہ اے میرے پروردگار بڑھا دے میرے علم کو۔
گویا کہ ارشاد ہوا کہ بجائے فی الفور سعی حفظ تدبیر کے، اس تدبیر دعا کو اختیار کیجیے۔ اور اس میں علم قرآن کی تحصیل، حفظ، فہم سب ہی کچھ آگیا۔ اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا نہیں ہے، اس میں عدم حصول کے خیر سمجھنے کی اور سب علوم میں خوش فہمی کی، یہ سب دعائیں شامل ہیں۔

بعض اہل لطائف نے کہا کہ علم بھی انہی نعمتوں میں سے ہے جن کا حصول محض فضل پر موقوف ہے، اس لیے قرآن میں جو دعائیں ہیں وہ ایسے ہی امور سے متعلق ہیں جو کسبی واختیاری نہ ہوں جیسے ہدایت، مغفرت وغیرہ۔

اقوال حکیمانہ
1- یزید بن قورد کا قول ہے، وہ زمانہ قریب ہے جب لوگ علم حاصل کریں گے اور اس پر اسی طرح رقابت سے لڑیں گے جس طرح فساق خوبصورت عورت پر لڑتے ہیں۔
2- فضیل بن عیاض کہا کرتے تھے، علم کا پہلا زینہ خاموشی ہے، پھر توجہ سے سننا ہے، پھر حفظ ہے، پھر عمل ہے، پھر اشاعت ہے۔
3- حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جو کوئی علم کے لیے سفر کو جہاد نہیں سمجھتا، اس کی عقل میں نقص ہے۔
4- حسن بصری کہا کرتے تھے، ابن آدم! تیرا علم اور تیری حکمت و دانائی کس کام کی جبکہ تیرا عمل احمقانہ ہے۔
الله کریم ہم سب کو علم نافع عطا فرمائے اور ساتھ ہی اس پر عمل کی توفیق بھی عطا فرمائے۔ آمین

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */