اعداد و شمار یا عزتوں کے جنازے - اسری غوری

سرخ گلاب تو سارا سال ہی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ بکتے نظر آتے ہیں۔ ہر سگنل پر کھڑے لڑکے بچے، ہر آنے والی گاڑی میں دوڑ کر جاتے اور اس میں موجود صاحب یا صاحبہ کو اپنے ہاتھ میں موجود پھولوں کا خریدار بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے۔
مگر یہ کیسا گلاب ہے؟ اور یہ کیسا سرخ رنگ ہے جسے دیکھ کر ہی کراہت ہونے لگتی ہے، ہر جانب دل کی شکل کے سرخ غباروں کی بہتات، ساتھ سفید ٹیڈی بئیر۔
ہوٹلوں میں سرخ رنگ کی سجاوٹ کے ساتھ کمروں کی بکنگ کے ڈبل کرائے۔

پچھلے سال کی ایک رپورٹ میرے سامنے ہے، اور جسے لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ہیں یا ”عزتوں کے جنازے“
پڑھیے اگر آپ میں ہمت ہے تو، اور سر اٹھا اردگرد نظر دوڑائیے، کہیں ان میں کوئی اپنا تو نہیں۔

سال بھر میں حمل روکنے والی ادویات سب سے زیادہ 14 فروری کو سیل ہوئیں۔
14 فروری کو کسی سستے اور مہنگے ہوٹل میں کمرہ خالی نہیں تھا۔
400 سو غیر شادی شدہ جوڑوں کی ویڈیوز ایک پورن ویب سائٹ نے 22 کروڑ میں خرید لیں۔

آہ! یہ کیا فتنہ ہے جس نے ہماری روایات و اقدار پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ ہم اپنی نسلوں کو اس وار سے بچاتے بچاتے بھی پور پور زخمی ہوئے جا رہے ہیں۔ یہاں معاملہ صرف دیسی لبرلز کا نہیں کہ جن کو لنڈے کے کپڑوں سے لے کر ان کی ہرگندی روایت کو قبول کر کر کے ویسے ہی فخر ہونے لگا ہے، جیسے کوئی ٹھیلا لگانے والا باہر کسی بڑے برانڈ کا (لنڈےکا) کوٹ پہن کر اکڑ کر چلتا نظر آئے، اپنی تئیں وہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ اتنا مہنگا کوٹ افورڈ کرسکتا ہے، جبکہ اسے دیکھنے والا ایک نظر میں یہ بجان لیتا ہے کہ یہ لنڈے کی مہربانی ہے۔ یہی حال ان لبرلز کا ہے کہ یہ مسلمانوں کی ہر روایت اور اقدار کو یہ کہہ کر ٹھکرا دینے والے ہیں کہ بھائی ان کی اور ہماری جغرافیائی سرحدوں سے لے کر معاشرتی اقدار تک سب کچھ الگ ہے تو پھر ہم ان کو کیوں اپنائیں؟ ہاں مگر یہی لوگ مغرب کی ننگی تہذیب کے ایک ایک جز کو اپناتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے، نہ انھیں اس وقت کوئی سرحدی یا معاشرتی حدیں اس سے روک پاتی ہیں۔

مگر دکھ یہی نہیں، یہاں تو اچھے اچھے دین دار گھرانوں کے بچے یہ کہتے نظر آتے ہیں
”کیا ہوگیا اگر ایک پھول اپنی دوست کو دے دیا،
کیا ہوا کہ آج بیوی کو اک سرخ پھول لا دیا۔“

ایسے تہواروں کے بہت سے تاریخی پس منظر بیان کیے جاتے ہیں مگر ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو حیا سے عاری نہ ہو اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کے ترغیب نہ دیتا ہو، مگر نوجوان نسل جو اپنی عید کا پورا دن سونے میں گزارتی ہے، مگر ایسے تہواروں کو بہت اہتمام کے ساتھ مناتی ہے۔

اس وبا نے ایسے آج ہمارے پورے معاشرے میں اپنے پنجے گاڑے ہیں کہ زندگی کوئی شعبہ کوئی گوشہ اس سے خالی نہیں، بالخصوص تعلیمی ادارے، ہر اسکول، کالج، یونیورسٹی میں منائے جانے والے بےغیرتی کے یہ تہوار ایک مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، اور نوجوان نسل ہی کیا اب تو معصوم ذہنوں کو بھی پراگندہ کرنے میں کسی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، چاہے اسکول جو ماں کی گود کے بعد بچے کی تربیت اور شخصیت سازی کی اہم ترین جگہ ہے، استاد جن کو روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے، اور ان کے فرائض میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ بچے کو ہر برائی سے روکیں اور اس میں اچھائیاں پیدا کریں مگر یہ کیا، استاد نے اپنا مقصد چھوڑا ہوتا تو بھی اتنا نقصان نہ ہوتا مگر اس نے تو اپنی راہ ہی بدل لی اور راہوں کے بدلنے کا کفارہ من حیث القوم دینا پڑ رہا ہے. جن قوموں کی تقلید میں ہم اپنا دین، ایمان، غیرت، حیا سب داؤ پر لگا دیتے ہیں، وہ پھر بھی ہمیں قبول نہیں کرتی اور سب کچھ کھو کر بھی ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
مجھے میرے دعوی عشق نے صنم دیا نہ خدا دیا.

مائیں پریشان کہتی نظر آتی ہیں کہ کیا کریں؟ کہاں لیکر جائیں؟ بچوں کو کیسے بچائیں؟ اور کہاں کہاں بچائیں؟ میرا بچہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے اور عام سا اسکول ہے، مگر ویلنٹائن سے ایک دن پہلے اسکول سے آ کر کہنے لگا، ”امی کل مجھے لال شرٹ پہن کر جانی ہے، اور ایک پھول لیکر جانا ہے“، بولیں میں نے حیرانی سے پوچھا، کس لیے بیٹا؟ امی ہماری ٹیچر نے کہا ہے کہ کل کلاس میں ویلنٹائن ڈے منائیں گے تو وہ کپل بنائیں گی اور مجھے اپنی کپل کو پھول دینا ہے، وہ خاتون تو اپنا دکھ بیان کر گئیں مگر مجھے لگا کہ ہم ایک ایسی گہری کھائی میں گر رہے ہیں جس کی پستی کا ابھی اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں یا کرنا نہیں چاہتے، مگر جب آنکھ کھلے گی تو وقت گزر چکا ہوگا ۔

نام نہاد آزاد میڈیا، جہاں ہر چینل پر بیٹھے غیرت سے عاری جوڑے ہوں، جو ایک طرف خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف آنے والی نسل کو اخلاقی بانجھ پن کا شکار کر رہے ہوں، یا وہ خودغرض سرمایہ دار ہوں جو اپنا کثیر سرمایہ بےحیائی کی ترویج کے لیے اس تہوار پر لگاتے ہیں، جن کی بدولت بڑے شاپنگ مالز سے لے کر گلی محلے کی دکانوں میں بھی ویلنٹائن کے کارڈز ہوں، دل بنے غبارے ہوں، یا پھول ہر طرف سرخ رنگ کی بہتات نظر آتی ہے، اور ہر ایک کے لیے اس کا منانا اتنا آسان کر دیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہر ایک کے دروازے تک پہنچا دیا تو بےجا نہ ہوگا جس نے پورے کے پورے معاشرے کو بےحیا بنا دیا۔

یاد رکھیے! جو قومیں اپنی اخلاقی اقدرا کی حفاظت نہیں کرنا جانتی، اور اغیار کی ہر گندی روایت کو اپنانے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتی، وہاں کی نئی نسلیں پھر محمد بن قاسم جیسے بیٹے اور فاطمہ بنتِ عبداللہ جیسی بیٹیاں نہیں بلکہ کچی عمروں میں خود کشیاں کرنے والے نوروز اور فاطمہ پیدا کرتی ہیں۔ پھر ان کی عزتوں کے جنازے ویب سائٹس کی زینت بنتے ہیں۔

آپ نے ان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے.

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.