جینے کے اندازِ جداگانہ - مفتی شاکر اللہ چترالی

یوں تو کائناتِ ہست و بود کی ہر ذی روح چیز زندگی کی ملی ہوئی مدت کو بسر کرنے کے بعد فنا کے خداوندی قانون کا شکار ہو کر فنا کے گھاٹ چار و ناچار اتر جاتی ہے مگر بود و باش میں ہر ایک کا انداز دوسرے سے جدا اور مختلف ہے۔ حضرت انسان ان سب میں ایک منفرد مقام کا حامل ہے۔ طرزِ زندگی کے بارے میں اگرچہ اس کو بھی خاص خداوندی قانون ملا ہے جس پر اس نے اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے مگر اس قانون کو اپنانے یا نہ اپنانے کے حوالے سے وہ اختیارات کا حامل ہے۔ لگے بندھے طرز زندگی کو اپنانے پر وہ مجبور نہیں ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ مخالفت کی صورت میں اسے عتاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس حیوانات ایک لگا بندھا اندازِ زندگی اپنانے پر فطرتاً مجبور ہیں۔ اسی فرق کا نتیجہ ہے کہ ہمیں بنی نوع انسان کے علاوہ دوسرے انواع میں اپنی نوع کی حد تک اندازِ زندگی میں یکسانیت نظر آتی ہے، اور تنوّع کا فقدان واضح دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسانی طرزِ زندگی تنوّع کا شاہکار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں اور معمولی فرقوں کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تب بھی انسانی زندگی کے تمام تر رنگ و روپ احاطے میں نہیں آسکتے۔

تاہم خداوندی قانون کی موافقت و مخالفت اور نفع نقصان کے اعتبار سے انسانی زندگی کو تین بڑی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
حیوانی زندگی، انسانی زندگی اور ایمانی زندگی۔

اس تقسیم کی دلیل اور ان تین قسموں میں انحصار کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو تین چیزیں یا تین قوتیں ایسی عطا فرمائی ہیں جو اس کے طرزِ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، انسانی زندگی ان ہی کے زیر اثر ہے، یعنی نفس، عقل اور دل۔اب مؤثر اگر نفس ہے تو یہ حیوانی زندگی چونکہ جنسِ حیوانیت میں انسان کے شریک دیگرحیوانات کی زندگیوں میں مؤثر واحد عنصر نفس ہی ہے، اب اگر انسان کی زندگی پر بھی یہی نفس مؤثر ہو تو حیوانات کے ساتھ اس مماثلت اور مشابہت کی وجہ سے اس کی زندگی کو بھی حیوانی زندگی کا ہی نام دے دیا جائےگا. قرآنِ پاک نے ایسے افراد جو عقل سے کام نہیں لیتے، کو جانوروں سے بدتر قرار دیا ہے:
’’اور ہم نے انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لیے پیدا کیے۔ ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (الانفال)‘‘

عقل انسان کا طرّۂ امتیاز ہے. انسانی زندگی پر اگر یہی مخصوص امتیازی قوت اثرانداز ہے تو اس کو انسانی زندگی کا نام دینا بجا ہے۔ زندگی اگر دل کے زیرِ اثر ہے تو ایمانی زندگی، کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے حدیث پاک میں آتا ہے. ایک مرتبہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ علیہ السلام نے فرمایا:’’ایمان یہاں ہے‘‘۔(ترمذی)

نفس اور عقل سب کے نزدیک مسلم قوتیں ہیں. انسانی زندگی پر ان کی اثر پذیری کے حوالے سے بھی اختلاف نہیں ہے، البتہ دل کا وجود گو مسلّم ہے مگر جہاں تک انسانی طرزِ زندگی پر اس کے اثرانداز ہونے کا تعلق ہے تو اس بارے میں قرآن پاک میں سمجھنے کی نسبت دل طرف کی گئی ہے جیسا کہ آیت گزر چکی ہے اور حدیث میں واضح طور پر تمام تر جسمانی اعمال کے صلاح و فساد کا تعلق دل سے جوڑا گیا ہے:
’’جسم گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو سارا جسم (اعمال کے لحاظ سے) ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ بگڑتا ہے تو پھر سارا جسم (اعمال کے لحاظ سے) بگڑتا ہے، سنو! وہ دل ہے۔ (بخاری) ‘‘
البتہ سائنس دان اوّلاً اس بابت انکاری تھے، اب کسی حد تک وہ بھی ماننے لگے ہیں کہ دل میں سمجھنے کی صلاحیت ہے، اس کا دماغ کے ساتھ خاص ربط ہےتو گویا اب اس بارے میں اتفاق ہونے چلا ہے۔

اب ذرا تفصیل کے ساتھ تینوں پر بالترتیب روشنی ڈالی جائے گی، آخر میں تجزیاتی تبصرہ ہوگا۔

حیوانی زندگی کے نمایاں خدوخال:
حیوانی زندگی چونکہ نفس کے زیر اثر ہوتی ہے اور نفس کا تقاضا اس کی خواہشات کی زیادہ سے زیادہ کسی بھی قیمت پر تکمیل ہے، اچھے برے اور مناسب غیرمناسب وغیرہ کسی بھی اعتبار سےکوئی تمیز بھی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر کسی بھی بچے کی کل کائنات کھانا پینا، سونا اور کھیل کود ہے۔ جو جی میں آیا کھا پی لیا، اپنی من پسند مل گئی تو سو بسم اللہ ورنہ رو رو کر کسی بھی قیمت پر وصولی کی آخری حد تک کوشش، چھینا جپھٹی سے بات بنتی ہو تو اس سے بھی دریغ نہیں، کسی کی حق تلفی ہو رہی ہو تو ہزار بار ہوتی رہے، وہ اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، اور مفید و مضراور نتائج و عواقب کے فلسفے سے بھی یکسر ناآشنا۔
اب ہم بچوں کی ان سرگرمیوں پر اگر تجزیاتی اور تنقیدی نگاہ ڈالیں تو چار باتیں نمایاں نظر آتی ہیں:
پہلی بات: مقصدِ زندگی کوئی نہیں ۔
دوسری بات: زندگی کا محور خواہشاتِ نفس کی پیروی اور بس۔
تیسری بات: اجتماعیت، ایثار اور ہمدردی کے بجائے انفرادیت، حرص اورخود غرضی۔
چوتھی بات: خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے میں اچھے برے کی تمیز اور انتخابِ نافع اور اجتناب ضار کی صفت ان میں بہت کم ہوتی ہے۔
لیکن بچہ بھی آخر انسان ہے اور پھر استثنائی مثالیں بھی بکثرت ملتی ہیں، اس لیے جانوروں کی زندگی بطور مثال زیادہ مناسب ہے۔
چنانچہ آپ کسی بھی جانور کی زندگی کا جائزہ لیں تو ان چاروں باتوں کا واضح مشاہدہ کریں گے اور کامل مستثنیات بھی کالمعدوم۔

انسانی زندگی خصوصیات کے آئینے میں:
انسانی زندگی عقل کے زیراثر ہونے کی بدولت حیوانی زندگی سے ممتاز ہے لیکن فرق اس میں نہیں کہ خواہشات نفس یکسر کچلی جائیں جیسا کہ فرشتوں میں ہوتا ہے، انسانوں میں ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ خواہشات اور ضروریات کا سلسلہ برقرار رہتا ہے، البتہ برتنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو عقل کی رہنمائی میں انسان مختلف مؤثر تدبیریں بروئے کار لا کر اپنی ان نفسانی خواہشات کو حیوانات کے مقابلے میں بہت زیادہ پوری کرتا ہے اور ان سے نسبتاً لطف اندوز بھی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ جس کے عشرِعشیر کا بھی حیوانات میں تصور نہیں کیا جا سکتا ہے. بس فرق صرف برتنے کے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ انسانی زندگی دو خصوصیات پر مشتمل ہے:
اجتماعیت، جمال پسندی
انسان بھی کھاتا پیتا اور دیگر خواہشات کو پوری کرتاہے مگر اس کے انداز سے حیوانات کے برخلاف سلیقہ مندی اور جمال پسندی جھلکتی ہیں۔ شیر ساری زندگی گوشت کھاتا ہے مگر جو ہاتھ لگ جائے اور وہ بھی کچّا، جبکہ انسان گوشت کے مختلف اقسام میں اپنی پسند کے لحاظ سے درجہ بندی رکھتا ہے اور پھر ایک ہی نوع کو ذوقِ جمال کے مطابق سینکڑوں طریقوں سے تیار کرتا ہے۔ گویا مطلق چیز کی خواہش نہیں رکھتا، منتخب چیز کا آرزو مند رہتا ہے۔ اسی قسم کا رویّہ پہنے رہنے غرض انسان کے ہر کام میں نظر آتا ہے۔ یہ اس کے ذوق ِجمال پسندی کے مظاہر ہیں۔

پھر انسان یہ بھی چاہتا ہے کہ یہ ساری چیزیں اس کی اولاد، رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی ملے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو بانٹ کر کھانے سے زیادہ خوشیاں ملتی ہیں۔ انسان فطرتاً مدنی الطبع ہے، مل جل کر کھانا پینا اور رہنا اس کی جبلّت ہے۔ یہ اجتماعیت اس کی خاص خصوصیت ہے۔ ان دو خصوصیات کی بدولت انسان اگر ان کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو تو اس میں جانوروں والی دو آخری دو خصلتیں نہیں ہوں گی
پہلی خصلت: اجتماعیت، ایثار اور ہمدردی کے بجائے انفرادیت، حرص اور خود غرضی
دوسری خصلت: خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے میں اچھے برے کی تمیز اور انتخابِ نافع اور اجتناب ضار کی صفت ان میں بہت کم ہوتی ہے۔
البتہ پہلی دو خامیاں اس میں رہ جاتی ہیں، انسانی عقل کے پاس ان کا علاج نہیں جیسا کہ کہا گیا کہ انسانی عقل خواہشات کی روک تھام نہیں کرتی، بلکہ الٹا ان کو پورا کرنے اور ان سے خوب سے خوب تر انداز میں لطف اندوز ہونے کی مختلف تدبیریں انسان کو سکھلاتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان خواہشات کی دلدل میں بری طرح پھنستا چلا جاتا ہے، جس سے نکلنا آئے روز مشکل سے مشکل تر ہوتی جاتا ہے، یوں خواہشات کا حصول اس کی زندگی کا مقصدِ وحید بن جاتا ہے، اس کو یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملتی کہ اس کا مقصدِ تخلیق کیا ہے؟ اس کے اور جانوروں کے درمیان امتیاز کی خلیج کم ہوجاتی ہے، انداز بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جب مقصد ایک ہو۔

پھر بالفرض کچھ فرصت مل بھی جائے تب بھی انسانی عقل مقصدِتخلیق کی معرفت سے عاجز ہے۔ انکشاف ِراز ہستی عقل سے ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ وہ باطن نہیں ہے جو سطح ِظاہر سے متصل ہو۔ اس حوالے سے اس کی رہنمائی خواہشات ِنفس کا ملغوبہ اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تاریخ اس پر شاہدِ عدل ہے کہ جنہوں نے عقل کے ذریعے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی، وہ یہی گھل کھلا گئے۔ فرائیڈ اس کی بہتریں مثال ہے۔ یہی وجہ تھی کہ شاعرِمشرق ؒنے عقل کو پیشوائی کی صلاحیت سے عاری اور امامت کے لیے نا اہل قرار دیا، وجہ بھی بتلا دی کہ عقلیات در حقیقت اٹکل پچو ہیں اور اٹکل پر چلنے سے نقصان ہی ہوگا، ظاہر ہے کہ تُکّہ آخر کب تک نشانے پر لگتا رہے گا؟چنانچہ فرمایا :
عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
رہبر ہو ظن و تخمین تو زبوں کارِحیات

پھر یہ بات ٹھیک ہے کہ جانوروں کے برخلاف بنی نوع انسان میں اجتماعیت اور صحیح انتخاب کی صفت ہے مگر ان صفات میں کمال پیدا نہیں ہوتا چنانچہ انسان جتنا بھی اپنے ہم جنسوں کا ہمدرد بنے، اس میں بے لوثی اور خلوص کا مادّہ بہت کم ہی ہوتا ہے اور بیچاری عقل بھی بہت دفعہ نفس کی اندھی بہری قوتوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے، یوں درست انتخاب کے حوالے سے بے بسی کا شکار ہو جاتی ہے۔

ایمانی زندگی کے رنگ و روپ
حیوانی زندگی میں انسان نفس کی نہ ختم ہونے والی الٹی سیدھی خواہشات کی دلدل میں گر کر کئی نفسیاتی مسائل اور متعدد اخلاقی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے جن میں سے چند ایک کا بطور عنوان ذکر ہوا ہے ۔ بیچاری عقل انسان کو اس دلدل سے کیا نکالتی؟ الٹا خود نفس کا غلام بے دام بن کر اس کی خواہشات کو پورا کر نے میں لگ جاتی ہے۔ اسی سے فرائیڈ کو مغالطہ لگا گیا اور انہوں نے ان خواہشات کو انسان کا مقصدِ حیات قرار دے دیا۔ حیوانی زندگی میں پائی جانے والی چار ان بنیادی نقائص میں سے صرف دو سے عقل انسان کو جزوی طور پر چھٹکارا دلاسکی مگر دو میں شاید انسان کا پلڑا بھاری ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ایسا کوئی بندوبست ہوتا کہ انسانی زندگی نقائص سے پاک صاف ہوجاتی اور حیوانات سے انسان مکمل طور پر ممتاز نظر آتا۔

خلّاق عالم جس نے انسان کو بن مطالبہ وجود بخشااور محیّر العقول کائنات کو پیدا کرکے اس کی خدمت بےگار لگادیا اس کی حکمت اور رحمت سے یہ بعیدتر تھا کہ وہ انسان کو یوں بے بس و بے آسرا بھٹکتے چھوڑ دیتا، چنانچہ اس خالقِ لم یزل نے کتاب اللہ اور رجال اللہ کی صورت میں ایک کامل و مکمل نظام اتارا۔

جس سے انسان کو محبت اور عبادت کا عظیم مقصدِ حیات ملا۔اس کا دل ایمان اور نیک جذبات سے لبریز اور باطن فضائل سے مزین ہوگیا۔زندگی دل کے زیرِ اثر آگئی۔ نتیجۃً اب اسکی زندگی بے مقصدیت سے نکل آئی جو حیاتِ حیوانی کے دامن پر سب سے بڑا دھبہ تھا۔اسی مقصد کے حصول کی جدوجہد نے اس کو خواہشاتِ نفس کی پیروی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکالا، اس حقیقت کا فرائڈ بھی معترف ہے اگرچہ اس کا زاویۂ نگاہ اس حوالے سے بہت مختلف ہے، حیوانی زندگی کے چہرے پر یہ دوسرابدنما داغ تھا۔ پھر ظاہر ہے کہ جو شخص خواہشات نفس کی دلدل سے نکل کر عظیم مقصدِ حیات کی جستجو میں لگ جاتا ہے تو وہ بخل، حرص، حبِّ جاہ ومال، اورخود غرضی وغیرہ خسیس خصلتوں سے بہت بلند ہو جاتا ہے، جس سے اس میں بے لوث اجتماعیت پیدا ہوجاتی ہے، اب مخلصانہ خدمت ِخلق اس کی زندگی کا لازمی جز ءبن جاتی ہے، یہ عدم اجتماعیت حیوانی زندگی میں موجود تیسری خرابی تھی۔ اب جب خواہشات کا زور ٹوٹا تو عقل بھی فیصلہ کرنے میں خود مختار ہو گئی اور ساتھ وحی سے رہنمائی بھی مل گئی تو اب درست انتخاب کوئی مسئلہ نہ رہا۔یوں انسانی زندگی حیوانی زندگی کی تمامتر خامیوں سے مزکّی اور مبّرا ہو کر ایمانی زندگی کا روپ دھار لیتی ہے۔

تجزیاتی تبصرہ
زندگی نفس کے زیرِ اثر ہو تو نام: حیوانی زندگی اورانجام: دو جہانوں کی ناکامی۔
زندگی عقل کے زیرِاثر ہو تو نام:انسانی زندگی اورانجام: دنیا میں ایک حد تک کامیابی اور آخرت میں ناکامی ہی ناکامی۔
زندگی ایمان کے زیرِاثر ہو تو نام:ایمانی زندگی اور انجام: دونوں جہانوں کی کامیابی۔
کیا آپ نے غور کیاکہ ہم کون سی زندگی گزار رہے ہیں؟