فیس بک پر شہرت کیسے حاصل کی جائے؟ عابد محمود عزام

شہرت کی تمنا انسان کی فطرت کا حصہ ہے، جس کے حصول کے لیے لوگوں کی اکثریت ہاتھ پاﺅں مارتی رہتی ہے۔ اگر آپ شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو دائیں یا بائیں بازو میں سے خود کو کسی ایک کیمپ میں کھڑا کرنا ہوگا۔ اگر آپ بائیں بازو کا حلقہ منتخب کریں تو آپ کی دکان انتہائی آسانی سے چمک سکتی ہے۔ مذہب کی مخالفت کا ڈنڈا تھامیے اور مسلسل مذہب، علمائے دین اور شعائر اسلام پر برساتے جائیے۔ اپنی دونوں آنکھیں اور دونوں کان مولویوں کی خامیاں ڈھونڈنے کے لیے وقف کردیں، معاشرے میں کہیں بھی کوئی منفی بات نظر آئے تو بلا سوچے سمجھے فوری اسے ”مولوی“ کے سر تھوپ دیں اور معاشرے میں پھیلی ہر برائی کی ذمہ داری داڑھی، ٹوپی اور پردے پر ڈالتے جائیے۔ اگر مذہب اور مولوی کے خلاف کوئی بھی بات نہ ملے، تب بھی یہ واویلا تو کہیں گیا ہی نہیں کہ ملک کی ترقی کی راہ میں سب ے بڑی رکاوٹ مولوی ہی ہے۔ لوگ چاند پر پہنچ گئے اور مولوی حلال و حرام کے مسائل سے ہی باہر نہیں نکل پایا۔ اگر کسی معمولی اور معمول کے جھگڑے میں بھی کوئی مولوی کسی کو تھپڑ ماردے تو آپ کو مولوی کو دہشت گرد ثابت کرتے ہوئے اس کے خلاف سڑکوں پر آنا ہوگا، اس کے بعد موم بتی فیم آنٹیاں بھی اس ”جہاد“ میں آپ کے شانہ بشانہ ہوں گی، اس کے بعد آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس اقدام کے بعد آپ کا تھوبڑا میڈیا کی زینت بننے لگے گا اور اگر ”نامعلوم طالبان“ سے اپنے خلاف کوئی جھوٹ موٹ کی دھمکی ومکی بھی دلوالیں تو سونے پر سہاگا، دیکھتے ہی دیکھتے آپ میڈیا کی آنکھ کا تارا بن جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یورپ کے کسی خوشحال ملک میں سیاسی پناہ گاہ بھی مل جائے۔ یہ یاد رہے کہ آپ کو تمام حقیقی عوامل کو نظر انداز کرکے ہر طرح کی دہشت گردی کا ذمہ دار پورے استقلال کے ساتھ صرف مولوی اور مدارس کو ٹھہرانا ہوگا۔

اگر آپ دائیں بازو کے حلقے میں شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات پلے باندھ لیں کہ اگرچہ آپ عالم دین نہ ہوں، لیکن پھر بھی آپ نے سب سے زیادہ مذہب کو ڈسکس کرنا ہے، کیونکہ سب سے زیادہ کاروبار مذہب کے نام پر ہی چلتا ہے۔ آپ خود دین پر عمل کریں یا نہ کریں، لیکن لوگوں کو یہ باور کراتے رہیے کہ معاشرے کے ہر فرد پر مکمل شریعت نافذ کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ حقوق العباد اور معاملات سمیت تمام دینی احکام کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ شرعی سزاﺅں کا ذکر کرتے رہنا ہے، ایسا کرنے سے لوگوں کی نظر میں آپ ”پکے دین دار“ بن جائیں گے۔ آپ خود بھلے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر نہ چلتے ہوں، لیکن وقتا فوقتا مسلم حکمرانوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکمرانی کرنے کی تلقین ضرور کرتے رہنا ہے اور اس کے ساتھ بات بات پر طارق بن زیاد، محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کی مثالیں بھی اپنی زبان کے نیچے دباکر تیار رکھنا ہے۔ آپ کی ہر تحریر اور تقریر سے ایسا لگنا چاہیے کہ آپ اللہ سے بھی زیادہ اللہ کے دین کے خیرخواہ ہیں۔ ہمیشہ مذہب کا سہارا لے کر جذباتی باتیں کریں، تاکہ لوگ بھی جذباتی ہوکر آپ کی طرف کھنچے چلے آئیں۔ تمام مسالک کا احترام کرنے کی بجائے خود کو کسی ایک مسلک کے ساتھ نتھی کرلیں اور اپنے مسلک کا سچا سپاہی بن کر دوسرے مسالک اور ان کے پیروکاروں کی ”واٹ“ لگاتے رہیں ، اس سے آپ کے مسلک کے لوگوں کا ایک بڑا حلقہ آپ کو ”سچا اور پکا مومن“ گردانتے ہوئے آپ کا گرویدہ ہوجائے گا اور اگر آپ غلطی پر بھی اپنے مسلک کی حمایت کریں گے تو آپ کے بارے میں آپ کے حلقے کے لوگوں کی عقیدت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ اگر کبھی ریٹنگ گرنے کا خدشہ ہو تو ایک عدد انتہائی متنازعہ بحث چھیڑ دیں، چاہے بعد میں معافی بھی مانگنا پڑے، لیکن یاد رہے جب تک آپ کو مطلوبہ شہرت نہیں مل جاتی، اس وقت تک معافی مت مانگیے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ناک بند کرنے سے کیا تعفن ختم ہو جاتا ہے؟ تنویر شہزاد

عصری تعلیمی اداروں کو لارڈ میکالے اور علی گڑھ کی گمراہ کن سوچ کا مظہر قرار دیتے ہوئے ہر حال میں ان کی مخالفت کرتے رہیں کہ اس کے سوا آپ کر بھی کیا سکتے ہیں؟! ہر کام میں امریکا، اسرائیل ، بھارت اور دیگر مختلف ممالک کی ایجنسیوں کی سازش ڈھونڈنا ازحد ضروری ہے۔ میڈیا کو بے غیرت اور غلام اور جو میڈیا پرسن آپ کو اچھے نہیں لگتے، ان کو ایجنسیوں، امریکا اور اسرائیل وغیرہ کے ایجنٹ قرار دے دیں۔ آپ کو چاہے خلافت کے بارے میں الف ب بھی معلوم نہ ہو، لیکن خلافت کے قیام کا نعرہ ضرور لگاتے رہیے۔ اگر آپ کسی مذہبی سیاسی جماعت کے کارکن ہیں تو جان بوجھ کر اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے رہنا ہے، مخالفین کو سخت سے سخت الفاظ میں برے برے القابات سے نوازنا ہے۔ آپ نے اس بات کی بالکل بھی فکر نہیں کرنی کہ آپ کے چہرے پر سنت رسول اور آپ کا شرعی حلیہ اخلاق نبوی اپنانے کا تقاضا کرتا ہے اور آپ کی بداخلاقی سے مذہبی طبقے کی بدنامی ہوتی ہے، کیونکہ اگر آپ ایسی چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے اپنی جارحانہ روش کو تبدیل کر لیں گے تو آپ کو مطلوبہ شہرت نہیں مل سکتی۔ اور ہاں وقتاً فوقتاً لبرلز کو طعن و تشنیع کا نشانہ ضرور بناتے رہنا ہے، اگر کہیں گالیاں بھی دینا پڑیں تو ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔ ورنہ مذہبی حلقے کے لوگ آپ کو ”بہترین“ رائٹر نہیں مانیں گے۔ آپ اگر برسوں مثبت سوچ اور دھیمے انداز میں اچھی اچھی باتیں لوگوں کو بتلاتے رہیں گے تو آپ کی سوچ اور پھیکی پھیکی تحاریر کی جانب کوئی توجہ نہیں دے گا اور اگر آپ اکثر بونگیاں مارتے رہے اور بداخلاقی، جارحانہ انداز اور سطحی سوچ کو اپناتے ہوئے مخالفین پر طعن و تشنیع کے تیر برساتے رہے تو آپ چند روز میں ہی فیس بک پر ”دبنگ پیشوا“ قرار پائیں گے اور آپ کا حلقہ دنوں میں وسیع ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ملاقاتیں بڑھائیں، ملنا آسان بنائیں - محمد عاصم حفیظ

ان تجاویز پر عمل کرکے آپ بھی اسی طرح شہرت کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں، جس طرح دیگر بہت سے لوگ بلندیوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔ آج کل تو ایک پتھر اٹھاؤ نیچے سے دس دانشور نکلتے ہیں، اتنے ”کمپیٹشن“ میں اپنی ”مارکیٹ ویلیو“ قائم رکھنے کے یہ اصول اپنے پلے باندھ لیں اور فیس بک کی دیوار پر چپکا لیں۔ دب کے رکھو، فٹے چک کے رکھو۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.