دہشت گردی، موضوع مزاح - ام الہدیٰ

چند احباب کی جانب سے واٹس ایپ پر دو تین تصویریں بار بار موصول ہو ئیں تو اندازہ ہوا کہ یہ تصاویر از راہِ مزاح بہت سے لوگوں کے موبائل فونز میں گردش کر رہی ہیں۔ یہ تصاویر ایک نجی کالج کے حل شدہ ٹیسٹ پیپرز کی ہیں جن میں طلبہ کو دہشتگردی کے موضوع پر ایک مکالمہ لکھنے کو دیا گیا تھا۔ طلبہ کی آپس کی پلاننگ کے تحت تحریر کیا گیا ایک مزاح یا پھر حقیقت کی ایک طنز کرتی تصویر جس کے طنز کو سمجھنے کی شاید ہم میں سکت باقی نہیں رہی، اور ہم اس طنز پر بھی مسکرا کر آگے گزر جاتے ہیں۔ مجھ سے فیصلہ نہیں کیا گیا کہ مجھے ان تصاویر پر ہنسنا چاہیے یا پھر یہ ایک لمحہء فکریہ ہے۔ ایک تصویر میں مکالمے کا متن کچھ یوں ہے:
منظر: (دو دوست علی اور احمد مال روڈ پر ملے)
علی : السلام علیکم
احمد: وعلیکم السلام!
(ٹھاہ۔۔۔۔۔۔۔)
دونوں دوست دھماکے میں شہید ہو گئے۔ اللہ ان دونوں کو جنت میں جگہ عطا فرمائے۔۔آمین!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرا ٹیسٹ پیپر اسی طرح شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ایک شعر کی بگڑی ہوئی شکل کے ساتھ لکھا گیا ہے جس میں دھماکے کی آواز تو یہی تحریر کی گئی ہے، البتہ دوستوں کے نام محمود اور ایاز ہیں۔ اور شعر کچھ یوں ہے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
پچھلی صف میں کھڑا ہو گیا خودکش بمبار
پھر وہی ہواجو اقبال نے کہا تھا۔۔
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بظاہر تو یہ تصاویر مزاح کی خاطر گردش کرتی نظر آرہی ہیں، اور ہم ان پر ایک بار ہنس کر ان کو آگے ارسال کرتے جا رہے ہیں۔ مگر کیا ہنسنے کے بجائے لمحے بھر کو یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہمارے لیے ایک ناگہانی موت کی حیثیت مزاح تک کی رہ گئی ہے، اور بس؟ ہماری روح میں بےحسی اس قدر رچ گئی ہے کہ دھماکے کی خبر سن کر چینل تبدیل کرنے سے پہلے لمحے بھر کا توقف بھی گوارا نہیں۔ چلیے وہاں تک کی بےحسی تو بہت عرصے سے ہم میں رائج ہے، مگر موت کو مزاح کی حیثیت میں قبول کر لینے تک کا لیول کب ہمارے معاشرے میں سرایت کر گیا؟ آئیے لمحے بھر کو یہ بھی سوچ لیں کہ اس بے حسی کی انتہا کہاں جا کر ہوگی۔
احساس مر نہ جائے تو انسان کے لیے،
کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی!

پیرس، لندن، یہاں تک کہ ترکی میں ہونے والے کسی دھماکے پر مذمت کا ایک ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ ہم پاکستانی، مذمت کرنے والوں اور سوشل میڈیا پر دھماکے میں ملوث افراد کے خلاف زبردست کیمپین میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ مگر جب ویسے دھماکے، ان حادثات سے بڑے حادثات اپنے گھر میں روز ہونے لگیں، تو دو دن افسوس کے بعد عادت سی ہو جاتی ہے۔ اور چوتھے حادثے کے بعد حادثہ مذاق لگنے لگتا ہے اس وقت تک، جب تک اپنے دل کا کوئی ٹکڑا اس حادثے کی نذر نہ ہو جائے۔

جانتے ہیں غلطی کہاں ہوئی؟ پہلے حادثے کے بعد ایک شاک کے عالم میں اپنے حواس پر قابو پانے کی کوشش میں مذمت کرنے یا مزاحمت کرنے کا ہوش نہ رہنے کے وقت پہلی غلطی سرزد ہوتی ہے۔ دوسرے حادثے کو معمول کے عمل کا درجہ دیتے وقت دوسری غلطی سرزد ہوتی ہے۔ اور اس کے بعد، ایسےحادثات روز رونما ہونے لگتے ہیں، یہاں تک کے وہ مذاق لگنے لگتے ہیں۔ لیکن مکمل سکوت تب بھی نہیں چھاتا کیونکہ کسی نہ کسی دل میں اس حالتِ زار پر آہ و بکا تب بھی زندہ ہوتی ہے۔ اردگرد کی بے حسی ان چند دلوں کو مسلسل کچلتی رہتی ہے، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک اس ظلم کے خلاف مزاحمت کے راستے کا انتخاب کر لیتا ہے۔

اور سب سے بڑی غلطی اس وقت سرزد ہوتی ہے جب اس مزاحمت کرنے والے دل کو اس مزاحمت کی پاداش میں حادثات کے عادی دل برداشت نہیں کر پاتے اور حادثہ کا سبب بننے والوں کے خلاف اٹھنے کے بجائے، مزاحمت کرنے والے کو ہی کوسنے لگتے ہیں۔ اسی کو سارا دوش دینے لگتے ہیں، جیسے کہ تمام حادثات کا سبب وہی ہو؟ جیسے کہ حادثات میں اضافہ اس کی وجہ سے ہوا ہو؟ اس کی رہی سہی مزاحمت کو ”ہم کچھ نہیں کر سکتے“ کے نشتر مار مار کر زخمی کر دیتے ہیں۔

ہمارے طلبہ، وہ ننھی کلیاں ہیں جن کو ابھی اس چمن میں اپنی خوشبو پھیلانی ہے۔ ان کو خوشبو پھیلانے کی عمر سے پہلے ہی اس بے حسی کا عادی بنا کر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ہم کس حیثیت سے خود کو زندہ قوم گردانیں گے جب ہمارے ہی ہم وطنوں کی موت ہمارے نزدیک ایک مذاق کی حیثیت رکھے گی؟ ہاں یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے جس کا ادراک بہرحال مشکل مگر ناگزیر ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ حالتِ جنگ میں صرف دھماکوں کا شکار ہونے والے نہیں ہیں، ایک جنگ ہم بچ جانے والوں پر بھی مسلط ہے۔ ہمارا دشمن بہت تیاری کے ساتھ ہم میں سے کچھ پر جسمانی اور باقی سب پر نفسیاتی طور پر حملہ آور ہے۔ مصائب اور افراتفری کے عالم میں وقتی طور پر distraction کی ضرورت اپنی جگہ ہے۔ لیکن کیا ہم نفسیات کی اس جنگ کے جواب میں اپنے ہی گھر پر ہونے والے حملوں کو مذاق بنا کر اپنی ہار تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.