ناتمام خواہشات کا بوجھ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

آپ کی اولاد اچھا پڑھ رہی ہے، محنت کر رہی ہے، اسے اس کی ہمت کی حد تک محنت کرنے دیں. زیادہ کھینچ لگائیں گے تو دھاگا ٹوٹ جائے گا.

اپنی خواہشات کا بوجھ اس کے کمزور کندھے پر مت لادیں. آپ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے، بن نہیں سکے، اس لیے اپنی اولاد سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے باپ کے خواب کو پورا کرے.
کیا ہوگا اگر بیٹی ڈاکٹر نہ بنی، کیا ہوگا اگر بیٹا انجینئر نہ بن پایا؟ سورج پھر بھی مشرق سے نکل کر مغرب میں ہی غروب ہوگا، کچھ نہیں بدلے گا. ہر بچہ صرف ڈاکٹر انجینئر بننے کے لیے دنیا میں نہیں آتا. اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے تمام کام رک جاتے. دنیا کو آرٹ، میوزک، مذہب، روحانیت، ریسرچ الغرض کسی بھی میدان میں کچھ بھی حاصل نہ ہوتا..
اپنی اولاد کو ریس کا گھوڑا مت بنائیں. بچے کو محنت کرنے کی ترغیب دیں، حوصلہ افزائی بھی کریں، ہر طرح کا تعاون بھی کریں لیکن اسے اپنی نامکمل خواب کی تکمیل کا آلہ مت سمجھیں. اگر بچہ دس کی رفتار سے بھاگ سکتا ہے اور ماں باپ اسے 100 کی رفتار پر بھگائیں گے تو وہ کہیں بھی نہیں پہنچے گا، راستے میں ہی ڈھیر ہو جائے گا.

بچہ تو پھر انسان ہے. آپ تو ایک مشین بھی اس کے ورکنگ مینیول کے مطابق چلاتے ہیں، مقرر وقت سے زیادہ نہیں چلاتے کہ کہیں سرکٹ نہ جل جائے. تو بچے کو 24 میں سے 48 گھنٹے ’’کام کام کام‘‘ کرنے کو کیوں کہتے ہیں.

دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ والدین بچے کی ایسی ذہن سازی کر دیتے ہیں کہ بچہ پھر کچھ اور سوچنے یا کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا. یعنی اگر بچے کے ذہن میں ڈاکٹر بننے کا خیال راسخ ہوگیا ہے اور اس کی پوری کوشش کے باوجود بچہ میرٹ نہیں لے پایا. اب بچے کا نہ صرف دل ٹوٹ جائے گا بلکہ اس کی ہمت بھی وہ نہیں رہےگی. ڈپریشن کا ایسا جھٹکا بچے کی پرسنلٹی کو لگے گا کہ وہ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو بہت عرصے کے لیے ٹوٹ پھوٹ جائے گا.

بچے کو جب بھی محنت کرنے کو کہیں، اسے یہ بات سمجھائیں کہ خلوص دل سے محنت کرنا اس کا کام ہے. نتیجہ رب کے ہاتھ ہے. ماں باپ بچے سے محنت کی توقع رکھیں، نتیجے کی نہیں.. نتیجہ حسب خواہش آ جائے تو بچے کی خوشی سیلیبریٹ کریں، لیکن من چاہا رزلٹ نہ آنے پر پہلے سے ہی ٹوٹے دل والے بچے پر چیخیں چلائیں مت. اس وقت بچے کی شخصیت کو تباہ ہونے سے بچائیں. اگر اس وقت آپ نے بچے کی محنت کو نظرانداز کر کے اسے اس کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا تو وہ پڑھائی سے ہی باغی ہو جائے گا ..

والدین بچے کے مستقبل کے لیے ’’پلان بی‘‘ تیار رکھیں..
اپنے بچے کی صلاحیتوں اور ذہنی رحجان کا اندازہ لگانا والدین کا کام ہے. اپنے بچے کو اس کی صلاحیت اور رحجان کے مطابق راستہ چوائس کرنے دیں.
ایک مصوری کا شوقین بچہ مردہ جسموں کی چیر پھاڑ کرنے والا میڈیکل سٹوڈنٹ بن سکے، یہ ضروری نہیں..
آٹھویں جماعت کے بعد بچے کے مستقبل کی لائن طے ہونے لگتی ہے، سائنس یا آرٹس کا فیصلہ ہو جاتا ہے..
سائنس میں میتھ کمپیوٹر یا بائیو کی راہ متعین ہو جاتی ہے..
میٹرک کے بعد میڈیکل انجینئرنگ یا کمپیوٹرز کا سمجھ آتا ہے اور آرٹس والے بھی اپنے اپنے میدان میں اپنے اپنے گھوڑے ڈال دیتے ہیں..

یاد رکھیں! نہم جماعت میں آرٹس کا انتخاب کرنے والے بچے اپنے لیے سائنس کا راستہ بند کر دیتے ہیں. دوسرے معنوں میں سائنسی تعلیم کی طرف جانے والی کشتیاں جلا بیٹھتے ہیں.
کیا ہی اچھا ہو اگر یہی فیصلہ میٹرک کے بعد تک کے لیے ملتوی کرتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو سائنس سے میٹرک کرنے کی رہنمائی کریں. اس سے آپ کے بچے کے اندر سے سائنس کا خوف بھی نکل جائے گا اور اسے ایکسپوژر بھی مل جائے گا. میٹرک کے بعد پھر سے بچہ سائنس یا آرٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوتا ہے، لیکن نویں جماعت میں ہی آرٹس کو سیلیکٹ کر لینے والے بچے اپنی یہ آپشن اپنے ہاتھوں کھو دیتے ہیں.

اگر حالات سازگار رہیں تو وقت کا مہیا کردہ ڈھانچہ وہی ہوگا جو والدین بچے کے لیے طے کریں گے. کچھ عوامل جو'' بچے کی شخصیت سازی اور مستقبل کی تعمیر کن بنیادوں پر ہو گی'' میں اہم کردار ادا کرتے ہیں...
مثلا
بچے کی دوستی کن سے ہے..
والدین سر پر موجود ہیں یا نہیں..
اولاد میں سے ہر ایک کو والدین کی انفرادی توجہ اور رہنمائی حاصل ہے یا نہیں..
بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک الگ گھر میں رہتے ہیں یا ایک جوائنٹ فیملی سسٹم میں..
بچوں کو میڈیا پرگزارنے کے لیے کتنا وقت میسر ہے اور سوشل میڈیا پر بچے کیا سیکھ رہے ہیں؟ اس پر کسی بڑے کی نگاہ ہے یا نہیں؟

میرے محترم والد نے ہم سب بہن بھائیوں سے آٹھویں جماعت کے رزلٹ کے بعد یہ سوال کیا تھا کہ آپ کیا بننا چاہتے ہو؟ اور پھر کمال شفقت سے ہم بہن بھائیوں کو سائنس کے ساتھ میٹرک کروایا.. جس میں ہمیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دی گئی..
میٹرک کے بعد پھر ہر بچے کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ کون کیا بننا چاہتا ہے.. اور ہر بچے کو اس کی خواہش اور میلان کے مطابق فیلڈ چننے میں مدد دی گئی..
بس ایک پابندی ہم پر ضرور تھی کہ ہر بچہ ضرور پڑھے گا.. یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر بچہ پڑھنا نہیں چاہتا تو اسے پڑھائی چھوڑنے کی بھی آزادی دے دی گئی.. نہیں پڑھنا لازم تھا.. کیا پڑھنا ہے اس کا فیصلہ بچے کی صوابدید اور والدین کی رہنمائی میں طے کیا گیا.. یہی کردار ہر ماں باپ کا ہونا چاہیے..

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */