میرے بچے کا مستقبل اور ایک امید - ام عبداللہ

”کیا میرے بچے کا مستقبل تاریک ہوگا؟“
یہی سوچتے ہوئے وہ سکول کے گیٹ سے باہر نکلی تو اسے لگا کہ جیسے مایوسی کسی تیز رفتار سواری کی طرح اس کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اسے ڈھیر کر دے گی، حالانکہ آج تک اس نے مایوس ہونا نہیں سیکھا تھا۔ جو ضرورت ہوتی، مالکِ کل کو عرضی بھیجتی اور مطمئن ہوجاتی۔

”میرا مالک مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا.“
یہی سوچتے ہوئےگھر کی طرف چل پڑی۔ مائیں کہا کرتی تھیں: ”روٹی بغیر بھی کوئی زندگی ہے“۔ تو ان بچوں کا کیا؟ جن کے لیے روٹی ہی موت بن جائے. اک اکلوتا بیٹا، اور وہ بھی گندم کی الرجی کا شکار۔ کوئی پوچھتا کہ بیمار کیوں رہتا ہے؟ تو اسے سمجھانا مشکل ہو جاتا، یہ نہیں کہ روٹی نہی کھا سکتا بلکہ یہ کہ گندم سے بنی کوئی چیز بھی استعمال نہیں کرسکتا۔ اور یہ بیماری ہوتی کیوں ہے؟ ”اچھا پکوڑے اور سموسے تو کھا سکتا ہے نا“ پڑوسن نے بڑی مغز ماری کے بعد اس سے سوال کیا۔ ”ارے نہیں! سموسے میدے سے بنتے ہیں اور میدہ تو آٹے سے ہی نکلتا ہے۔ اور بیسن کون سا دکاندار 180 روپے کلو دال لے کر پسواتا ہوگا، جب 50 روپے کلو آٹا مکس کرنے سے اچھا منافع مل رہا ہو تو اسے کیا ضرورت ہے ایمانداری دکھانے کی.“ یہ بھی المیہ ہے کہ منفعت ہر چیز میں رچ گئی ہے۔

ہمارے ہاں ایک عادت بن چکی ہے کہ ڈاکٹر جو چیز منع کر دے، وہ کبھی کبھار تھوڑی بہت کھا لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جاتا۔ یہ کوئی سمجھتا ہے نہ سمجھاتا ہے کہ زہر تو زہر ہے، چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔

اس بیماری کے بارے میں ہمارے ملک میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے، حالانکہ اب بچوں میں جنیاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس کے بہت سے کیسز سامنے آ چکے ہیں. جن خاندانوں میں نسل در نسل مدافعتی نظام کی خرابی کی وجہ سے بیماریاں (شوگر، تھائرائیڈ،گھینٹھیا، ہر طرح کی الرجی) چلتی آ رہی ہوں، ان کے بچوں کو اس بیماری سے زیادہ خطرہ ہے۔ اور آج کل تو ماحول، خوراک اور ادوایات مل کر انسانی مدافعتی نظام کو آہستہ آہستہ تباہ کر رہے ہیں۔ ایک سادہ سی اینٹی بائیوٹک کا زیادہ استعمال آپ کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا مدافعتی نظام ہمارے ملک کے ڈیفنس سسٹم کی طرح اصل دشمن کو پہچان نہیں پاتا، اور بہت سارے دوستوں کو بھی نشانے پر رکھ لیتا ہے۔ اب جب زیادہ گولہ باری ہو اور وہ بھی اپنے جسم کے اندر تو نقصان جسم ہی کا ہوتا ہے۔

حکومت تو عام بیماریوں سے آگاہی کی طرف پوری توجہ نہیں دے رہی، یہ تو پھر ایک ایسی بیماری ہے جس سے نہ تو فارماسوٹیکل کمپنیوں کا کاروبار چمکتا ہے اور نہ ڈاکٹروں کو کوئی خاطرخواہ فائدہ ہوتا ہے۔ اب یہ پولیو ویکسینیشن جیسی منافع بخش بیماری تو ہے نہیں کہ جس کے لیے باہر سے امداد آتی ہو، تو ایسے میں پرائیویٹ سیکٹر کی کوششیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ایک آدھ سیلیک سوسائٹی سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے جس کا کام آٹے میں نمک کے برابر ہے اور جس کا ٹارگٹ بھی صرف ایلیٹ کلاس ہے. اس پر مستزاد یہ کہ ڈاکٹروں سے شکوہ کریں تو مانتے ہی نہیں۔ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ بہت کام ہو رہا ہے۔

پاکستان میں اول تو مکمل ویری فائیڈ خالص گلوٹین فری آٹا کوئی کمپنی بنا ہی نہیں رہی۔ ایک دو لوگ جو گھریلو سطح پر بنا رہے ہیں وہ بھی اتنا مہنگا ہے کہ مڈل کلاس کی پہنچ سے بھی اوپر ہے. پیکٹس کی پرڈاکٹس جیسے چپس، بسکٹ، چوکلیٹس وغیرہ بھی کسی کمپنی کی گلوٹین فری نظر نہیں آتیں۔ اکا دکا بڑے سٹورز پر امپورٹڈ پراڈکس مل جاتی ہیں۔ لیکن اتنی مہنگی ہیں کہ جیسے کسی غریب یا مڈل کلاس بچے کو تو یہ الرجی ہو ہی نہیں سکتی۔

عوام الناس میں اس مرض سے آگاہی بالکل نہیں ہے۔ بہت سے بچے یا جوان خود نہیں جانتے کہ انھیں یہ الرجی ہے۔ اور نہ ہی والدین سمجھ پاتے ہیں کہ سب کچھ کھانے کے باوجود بچے کا وزن کیوں نہیں بڑھ رہا؟ خون میں کمی کیوں ہے؟ بچے کو بھوک زیادہ کیوں لگ رہی ہے؟ اچانک رات میں قے کیوں کرنے لگا ہے؟ ایسی کوئی چیز بھی نہیں کھائی، لیکن اکثر پیٹ درد کی شکایت کرتا ہے؟ کبھی قبض کی شکایت اور کبھی لوز موشن کیوں لگ جاتے ہیں؟ اکثر جوڑوں میں درد کی شکایت کیوں کرتا ہے؟

اگر والدین نے کسی پرائیویٹ ڈاکٹر کو دو ڈھائی ہزار فیس دے کر ڈھائی تین ہزار کے ٹیسٹ کروا کر مرض کی تشخیص کر بھی لی تو اب بچے کو بچائیں کیسے کہ ایک روپے کی کینڈی تک میں تو گندم سے نکلنے والا گلوٹین ہے، جو سارے فساد کی جڑ ہے۔ کوئی بیکری پراڈاکٹ یا سنیکس، بسکٹ گندم کے بغیر بن ہی نہیں سکتے۔

کوئی کمپنی کارن سٹارچ کیوں استعمال کرے گی اپنی پراڈکٹس میں، جب اسے آدھی قیمت میں ریفائنڈ وِیٹ فلور مل رہا ہوگا۔ بچہ وہی کرتا ہے جو اردگرد کے ماحول میں دیکھتا ہے. کتنا اور کہاں تک بچے کو پیکٹ والی پراڈکٹس سے بچائیں گے. ہمارے سکول تک تو محفوظ نہیں۔ جتنا بڑا سکول، اتنی بڑی کینٹین ۔ کینٹین نہ بھی ہو تو ریڈی میڈ پراڈکٹس کے استعمال سے کوئی سکول سسٹم نہیں روکتا. تو کیا کریں؟ ایک ہی حل کہ جب تک بچہ سمجھدار نہیں ہوتا، سکول مت بھیجا جائے۔ کیا!!! سکول نہیں بھیجیں گے؟ تو بچہ پیچھے رہ جائے گا۔ چلیں آپ کی مرضی! بچے کاضرور سکول میں ایڈمیشن کروائیں۔ پہلے ہی گلوٹین کی زیادتی کی وجہ سے دماغ رسک پہ ہے۔ پر چھوڑیں پرے، بچے کےگریڈز خراب نہیں آنے چاہییں۔ ارے لوگوں کو کیا جواب دیں گے؟ کہ اتنے لائق ماں باپ اور بچہ پڑھائی میں اتنا پیچھے! صحت اور زندگی گئی تیل لینے!

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پہلے خود آگاہ ہو اور عوام کے اصل مسائل گھر، صحت، خوراک اور تعلیم پر توجہ دے۔ پھر خاص طور پر ایسی بیماریاں جن سے عام آدمی ناواقف ہے، ان اسے آگاہ کرے۔ نئی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کرے۔ خوراک، صحت اور تعلیم کے حوالے سے چیک اینڈ بیلنس سسٹم قائم کرے۔ لیکن والدین کو بھی سمجھنا ہوگا کہ زندگی کی دوڑ میں آگے نکلنے کے چکر میں بچوں کی صحت داؤ پر مت لگائیں۔ دوسرا ہم جیسے لوگوں کو سوشل میڈیا اور اپنے اپنے حلقہ احباب میں، اس بیماری کے حوالے سے بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے متعلق آگاہی حاصل کرسکیں کہ آگاہی کسی مسئلے کے حل کی طرف پہلا قدم ہے۔