چھ ہزار کلومیٹر کی شیطانی لکیر - ابومحمد

میکسیکو منشیات برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور امریکہ کی میکسیکو سے ملحقہ سرحد 3201 کلومیٹر طویل ہے۔ امریکہ ہر سال کروڑوں ڈالر لگانے کے علاوہ تمام تر وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے باوجود اس سرحد سے منشیات کی اسمگلنگ نہیں روک سکا۔ نو وارد امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی منشور کا ایک حصہ امریکہ میکسیکن بارڈر پر دیوار بنا کر اس اسمگلنگ پر ممکنہ حد تک کنٹرول حاصل کرنا تھا اس دیوار کے لیے کُل تخمینہ پندرہ ارب ڈالر سے تجاوز کر رہا ہے، جس کے لیے امریکہ جیسا ملک بھی پریشان ہے۔

ٹرمپ کا آنا نہ صرف امریکی بلکہ عالمی سیاست میں بہت سی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ٹرمپ کی سوچ اور بہرحال امریکی عوام کی جانب سے ٹرمپ کی سوچ کا انتخاب اتنی آسانی سے نہیں جھٹلایا جا سکتا۔ ٹرمپ کے لیے پاکستانی ایٹمی ہتھیار شروع سے ہی ایک ”بنیادی مسئلہ“ رہے ہیں۔ 2011ء میں ”پاکستان ایٹمی ہتھیار ختم نہیں کرتا تو امداد فوری معطل کر دی جائے“ کہنے والے ٹرمپ، امریکی صدارت کے عہدہ پر براجمان ہونے کے بعد اس سال کی ابتدا میں CNN کے اینکر Anderson Cooper کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کو ہی ایک ”بنیادی مسئلہ“ قرار دے چکے ہیں، کیونکہ پاکستان کے پاس ”نیوکلئیر ہتھیار“ ہیں. ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں صورتحال اپنے ہاتھ میں لینی ہو گی. لاہور گلشن اقبال پارک بلاسٹ میں 74 لوگوں کے مارے جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا
I alone can solve
یہ مسئلہ صرف میں حل کر سکتا ہوں.
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الفاظ میں اپنے ٹوئیٹ کی وضاحت کی
When I see they put it in a park and there were mostly Christians although many others were killed...I think it is absolutely a horrible story. But I am talking about radical Islamic terrorism. I will solve it better than anyone else running,
جب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بم ایک پارک میں رکھا جہاں اکثریت عیسائیوں کی تھی گو کہ کئی دوسرے بھی مارے گئے. میرا خیال ہے کہ یہ ایک بھیانک کہانی ہے. میں ایک ریڈیکل اسلامی دہشت گردی کے متعلق بات کر رہا ہوں. میں اس مسئلہ کو باقی سب سے بہتر حل کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کے امراض خبیثہ کا شافی علاج - ریحان اصغر سید

کئی مواقع پر مسلمانوں پر پابندی کی بات کرنے کے علاوہ ٹرمپ ہندوستان کو اپنا مضبوط اتحادی سمجھتے ہیں اور ٹرمپ کے آنے کے بعد سے بڑھتی ہندوستانی جارحیت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ دوسری طرف پاکستان کا یہ حال ہے کہ ہم ایک پرائی آگ میں ہاتھ تاپتے تاپتے اپنے کپڑے جلا بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ چار ممالک ہندوستان، افغانستان، ایران اور چین کی سرحدیں لگتی ہیں جن کی کل لمبائی 6765 کلومیٹر بنتی ہے۔ ان چار میں سے سوائے چین کے باقی تین ممالک سے پاکستان کے تعلقات کم و بیش کشیدہ اور سرحدی تنازعات کا شکار ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ 2912 کلومیٹر طویل اور ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر سرحد روز اول سے ہی نہ صرف پاکستان میں کلبھوشن درآمد ہونے کا راستہ رہی ہے بلکہ یہ دونوں ممالک اپنے مرضی کے مقامات سے پاکستان پر گولہ باری اور فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ملحقہ 2430 کلومیٹر طویل سرحد بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے اور اب یہاں سے دہشت گرد جوق در جوق پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

سوچنے کا نقطہ یہ ہے کہ بُش عراق و افغانستان اور اوبامہ مصر، لیبیا اور شام میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان ممالک کو زیر و زبر کر چُکے ہیں۔ نیا امریکی صدر ٹرمپ آنے سے پہلے سے ہی اپنے عزائم کے لیے جانا جاتا ہے۔ جب امریکہ تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد کنٹرول نہیں رکھ سکتا تو پاکستان کب تک تقریبا 6 ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر سرد و گرم جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے؟

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!